تاریخ پر تاریخ: پاکستان کا عدالتی نظام کیسے بدلے گا؟
(فوٹو: اے آئی)
پاکستان کا ہر شہری اپنی زندگی میں ایک بار تو یہ جملہ سن چکا ہو گا کہ کیس دادا فائل کرتا ہے اور فیصلہ پوتا سنتا ہے۔ یہ محض ایک مفروضہ یا چٹکلا نہیں بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق زیر التوا مقدمات کی تعداد 22 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ان میں سے بھی تقریباً 80 فیصد سے زائد کیسز ڈسٹرکٹ کورٹس ہی میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں چکر لگا لگا کر عام آدمی اپنی زندگی کے آخری ایام کو پہنچ جاتا ہے مگر فیصلہ نہیں ہوتا ،انصاف نہیں ملتا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس قدر فرسودہ عدالتی نظام کی وجوہات کیا ہیں؟۔
اس کی سب سے بڑی وجہ آبادی کے تناسب سے ججوں کی تعداد میں کمی ہے۔ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے’ رول آف لاء انڈیکس ‘ میں پاکستان کے سول جسٹس کے نظام کو 142 ممالک میں سے 111ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔
آپ خود سوچیں جہاں ایک دن میں ایک جج کو درجنوں نہیں بلکہ سیکڑوں کیسز کی سماعت کرنی پڑے، جس میں بمشکل ایک کیس کو 3 سے 4 منٹ دیے جاتے ہیں، وہ کیا ہی جلد فیصلہ کرے گا؟۔
دوسرا بڑا المیہ ہمارا فرسودہ قانونی نظام ہے ۔2026 میں رہتے ہوئے بھی 1898 اور 1908 کے بنائے ہوئے سول اور فوجداری قوانین کے مطابق فیصلے کرنا بظاہر کم عقلی ہے۔
سونے پہ سہاگہ یہ کہ ہمارے سینئر سے لے کر ینگ وکلاء حضرات محض ’اگلی تاریخ‘ لے کر کیسز کو دہائیوں تک طوالت بخشتے ہیں۔ایک عام ارضی مقدمہ دائر تو ہوتا ہے لیکن اس کا فیصلہ سیکڑوں ایام گزر جانے کے بعد بھی نہیں آتا۔
ہائی کورس میں زیر التوا کیسز کا تقریباً 81 فیصد سول اور اراضی کے کیسز پر مشتمل ہوتا ہے۔
تیسرا بہت بڑا المیہ ہمارا مفلوج تفتیشی نظام ہے ، کیونکہ ہمارا عدالتی ڈھانچہ پختہ شواہد اور گواہان پر منحصر ہے جبکہ تفتیشی افسران کی’ اعلیٰ‘ تربیت،جدید فرانزک نظام کی عدم موجودگی اور تھانہ کلچر کے باعث عدالت تک درست شواہد نہیں پہنچ پاتے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملزمان جن پر الزام تو عائد ہے مگر ثابت نہیں ہو سکا، وہ دہائیوں تک جیل کی چکی پستے ہیں اور اصل مجرم آزاد دندناتے پھرتے ہیں۔
چوتھا بڑا المیہ یہ ہے کہ انصاف کی قیمت بہت بڑھا دی گئی ہے۔انصاف اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ ایک غریب آدمی کی استطاعت ہی نہیں کہ اسے حاصل کر سکے۔ وکلاء کی بھاری فیس، نچلے درجے میں رشوت کا عام نظام اور جعلی گواہان کا بازار انصاف کو مہنگا کاروبار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
اگر ہم واقعی پاکستان کے اس فرسودہ نظام کو بدلنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ججز کے بجٹ میں اضافہ کر کے ان کی تعداد کو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بڑھانا ہو گا۔
اس کے ساتھ ساتھ نو آبادیاتی قوانین کو ترک کر کے جدید تقاضوں پر مبنی قوانین کو اپنانا ہو گا ۔ نچلی سطح اور کچہریوں میں رشوت خوری کا خاتمہ اور تفتیشی نظام کو سیاست کے اثر و رسوخ سے پاک کرنا ہو گا۔
یاد رکھیں جب کسی ریاست میں انصاف کی فراہمی نہ ہو یا انصاف دیر سے ملے، تو اس ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔اب وقت آگیا ہے کہ عدالتی نظام کو محض بیانات کا نہیں بلکہ اصلاحات کا عملی جامہ پہنایا جائے۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔