لاکھوں درخواست گزاروں کے لیے بڑا جھٹکا، امریکا نے دنیا بھر کے امیگرنٹ ویزے روک دیے

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی خصوصی اور تفصیلی تربیت کے لیے کیا گیا ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر سے امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی خصوصی اور تفصیلی تربیت کے لیے کیا گیا ہے، تاہم اس سے امریکا میں مستقل طور پر منتقل ہونے کے خواہش مند افراد کی ویزا کارروائی متاثر ہوگئی ہے۔

فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا میں موجودہ انتظامیہ امیگرنٹ ویزا درخواست گزاروں کی مزید سخت جانچ پڑتال کرنا چاہتی ہے تاکہ ایسے افراد کو ویزا دینے سے روکا جاسکے جن کے بارے میں حکام کو خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی حکومت کی مالی معاونت یا عوامی سہولیات پر انحصار کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا کے مختلف سفارتخانوں اور قونصل خانوں میں پہلے سے طے شدہ انٹرویوز رکھنے والے بعض درخواست گزاروں کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا گیا ہے کہ ان کے انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جائیں گے۔ انہیں نئی تاریخ اور وقت کے بارے میں بعد میں اطلاع دی جائے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے واضح نہیں کیا کہ ویزا انٹرویوز اور درخواستوں کی معمول کی کارروائی کب دوبارہ شروع ہوگی۔ محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق قونصلر افسران کی تفصیلی تربیت کے دوران ویزا سروسز کے لیے مقررہ اپائنٹمنٹس میں تبدیلی کی جائے گی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تربیتی پروگرام کا مقصد دنیا بھر میں موجود قونصلر افسران کو ہر ویزا درخواست گزار کی جامع اور یکساں بنیاد پر جانچ پڑتال کے لیے تیار کرنا ہے۔

امریکا میں امیگریشن سے متعلق پالیسیوں پر کام کرنے والے ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے ایسے درخواست گزار بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو ویزا انٹرویو کے لیے پہلے ہی ہزاروں ڈالر خرچ کرچکے ہیں اور اپنے سفر اور دیگر انتظامات مکمل کرچکے.

ٹرمپ انتظامیہ نے امریکا آنے والے غیر ملکیوں کے حوالے سے اپنی پالیسی مزید سخت کردی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ویزا حاصل کرنا ایک ’’استحقاق‘‘ ہے، کوئی بنیادی حق نہیں۔

امریکی حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کیے جاسکتے ہیں جو سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکا آئے تھے لیکن بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اگر کوئی شخص امریکا میں داخل ہونے کے لیے عارضی ویزا حاصل کرتے وقت اپنی اصل نیت چھپاتا ہے اور بعد میں مستقل قیام کے لیے پناہ کی درخواست دیتا ہے تو اسے ویزا قوانین کی خلاف ورزی تصور کیا جاسکتا ہے۔

امریکی حکام نے بتایا ہے کہ محکمہ خارجہ اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی ایسے معاملات کی نشاندہی کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔ حکام کے مطابق ویزے منسوخ کرنے کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا اور اس کی تعداد میں تبدیلی ممکن ہے۔

وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 2 لاکھ ویزے متاثر ہوسکتے ہیں اور اسے امریکی تاریخ میں ویزے منسوخ کرنے کی سب سے بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔ تاہم محکمہ خارجہ نے اس تعداد کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری 2025 میں دوبارہ صدر بننے کے بعد اب تک تقریباً ایک لاکھ 75 ہزار غیر ملکیوں کے ویزے مختلف وجوہات کی بنیاد پر منسوخ کیے جاچکے ہیں۔ ان وجوہات میں بعض جرائم، نشے کی حالت میں ڈرائیونگ اور دیگر ایسے اقدامات شامل ہیں جنہیں امریکی حکام ویزا قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران امریکا میں غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ قانونی طریقے سے امریکا آنے والے غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال بھی سخت کردی ہے۔

امریکی حکومت نے ویزا مدت ختم ہونے کے بعد امریکا میں قیام کرنے والے افراد کے خلاف بھی کارروائی پر زور دیا ہے۔ اس کے علاوہ ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا دائرہ بھی بڑھانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

حال ہی میں ایک امریکی وفاقی عدالت نے 75 ممالک کے شہریوں پر امریکا میں مستقل طور پر آباد ہونے کے لیے ویزا حاصل کرنے سے متعلق حکومتی پابندی کو بھی مسترد کردیا تھا۔ ان ممالک میں افغانستان، برازیل، مصر، ایران، عراق، نائیجیریا، صومالیہ، تھائی لینڈ اور یمن سمیت دیگر ممالک شامل تھے۔

امریکی امیگریشن پالیسی میں ہونے والی ان تبدیلیوں نے دنیا بھر میں امریکا منتقل ہونے کے خواہش مند افراد، کاروباری اداروں اور ویزا ماہرین کے لیے نئی تشویش پیدا کردی ہے۔ امیگرنٹ ویزا درخواستوں کی موجودہ معطلی کے بعد متاثرہ افراد کو نئی اپائنٹمنٹس اور آئندہ طریقہ کار سے متعلق امریکی محکمہ خارجہ کی مزید ہدایات کا انتظار کرنا ہوگا۔

Load Next Story