بلیک لائیولی اور جسٹن بالڈونی کا قانونی تنازع، عدالت کا نیا فیصلہ آگیا
ہالی ووڈ اداکارہ بلیک لائیولی اور اداکار و ہدایتکار جسٹن بالڈونی کے درمیان طویل قانونی تنازع نے ایک اور اہم موڑ لے لیا جب امریکی عدالت نے بلیک لائیولی کو وکلا کی فیس اور قانونی اخراجات کی مد میں 407,451.75 ڈالر دینے کی منظوری دے دی۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج لیوس جے لیمن نے 26 اگست کو فیصلہ سناتے ہوئے بلیک لائیولی کو 363,245.40 ڈالر وکلا کی فیس جبکہ 44,206.35 ڈالر دیگر قانونی اخراجات کی مد میں دینے کی منظوری دی۔
تاہم یہ رقم بلیک لائیولی کی جانب سے مانگی گئی رقم سے کہیں کم ہے۔ اداکارہ نے مجموعی طور پر 8,035,040.88 ڈالر کے قانونی اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا جس میں تقریباً 7.5 ملین ڈالر وکلا کی فیس اور 539,514 ڈالر دیگر اخراجات شامل تھے۔
جج نے بلیک لائیولی کی قانونی ٹیم کی فی گھنٹہ فیس کو مناسب قرار دیا تاہم معاوضے کیلئے پیش کیے گئے کام کے گھنٹوں کو ضرورت سے زیادہ قرار دیا۔ عدالت نے میڈیا ریلیشنز اور بعض سفری اخراجات سے متعلق مطالبات بھی مسترد کر دیے۔ یوں انہیں مانگی گئی مجموعی رقم کا تقریباً 5 فیصد دیا گیا۔
یہ قانونی تنازع 2024 کی فلم، اِٹ اینڈز ود اَس، سے جڑا ہے جس میں بلیک لائیولی اور جسٹن بالڈونی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ بالڈونی فلم کے ہدایتکار بھی تھے۔
بلیک لائیولی نے بالڈونی پر فلم کی پروڈکشن کے دوران جنسی ہراسانی کا الزام عائد کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ شکایت اٹھانے کے بعد بالڈونی کی کمپنی نے ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی۔ بالڈونی ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے رہے ہیں۔