نیپال؛ کون کون سے معروف بھارتی اداکار سیلاب میں فیملی کے ہمراہ بال بال بچ گئے
نیپال کے تباہ کن سیلاب میں ہلاتوں کی تعداد 360 ہوگئی، 800 لاپتا
بھارتی اداکار اپنے اہل خانہ کے ہمراہ نیپال کے یاترا پر تھے جہاں ان کا قافلہ ہندوؤں کے اہم مقامات پر حاضری کے لیے پہنچا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق نیپال اور تبت کی سرحد کے نزدیک آنے والے ہلاکت خیز سیلاب میں اب تک 359 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہیں جب کہ 850 سے زائد تاحال لاپتا ہیں۔
لاپتا ہونے والوں میں 250 سے زائد بھارتی ہیں جو ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں سادھوؤں اور پنٹتوں سے ملنے کے علاوہ ہندو مذہنی مقامات کو دیکھنے گئے تھے۔ یہ لوگ قافلے کی صورت میں پہنچے تھے۔
ان ہی لاپتا افراد میں معروف اداکار انکور رتن بھی شامل ہیں جو کیلاش مانسروور کی یاترا پر اپنے اہل خانہ اور گروپ کے ہمراہ گئے تھے اور ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا تاہم آج انھوں نے اپنی خیریت سے آگاہ کیا ہے۔
اداکار انکور رتن نے تباہ کن سیلاب کے دوران اپنے اہل خانہ کے ہمراہ بال بال بچنے کی روداد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گروپ سیلاب سے متاثرہ مقام سے محض 12 سے 16 گھنٹے پہلے ہی گزر چکا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ان کا قافلہ نیپال کے ضلع راسووا کے اس علاقے سے گزرا تھا جو چند گھنٹوں بعد اچانک آنے والے شدید سیلاب اور ملبے کے ریلے کی زد میں آگیا تھا۔ اگر ہمارا سفر معمول کے مطابق جاری رہتا تو وہ بھی اس تباہی میں پھنس سکتے تھے۔
اداکار انکور رتن نے بتایا کہ انھوں نے متاثرہ مقام پر تصاویر بنائیں اور وہاں کچھ وقت گزارا تھا تاہم واپسی کے بعد صورتحال مکمل طور پر بدل گئی۔ جس راستے اور مقام سے ہم گزرے تھے وہاں بعد میں سیلابی ریلے نے بڑی تباہی مچائی۔
انھوں نے اس واقعے کو انتہائی خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ چند گھنٹوں کا فرق ان کی زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہوسکتا تھا۔
اسی طرح ایک اور اداکارہ مانسی پاریکھ بھی سادھ گرو کی قیادت میں کیلاش مانسروور یاترا کے لیے چین میں موجود تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ ان کا گروپ متاثرہ گیئرونگ پورٹ پر اگلی صبح پہنچنے والا تھا، جبکہ وہ چند روز قبل اسی مقام کا دورہ کرچکی تھیں۔ بعد ازاں ان کے محفوظ ہونے کی تصدیق کردی گئی۔
بنگالی اداکار خراج مکھرجی اور ان کی اہلیہ کے بارے میں بھی بھارتی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ وہ نیپال کے دور دراز علاقے میں پھنس گئے تھے اور تاحال ان کی صورتحال سے متعلق معلومات محدود ہیں۔