فلو کتنا جان لیوا اور کن افراد کیلئے زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے؟
فوٹو: میڈیکل نیوز ٹو ڈے
انفلوئنزا کو عام طور پر فلو بھی کہا جاتا ہے جو ایک وائرل بیماری ہے جس کے باعث بعض اوقات عام علامات پیدا ہوتی ہیں جبکہ اچانک پیچیدہ اور جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں اور اسی طرح کی پیچیدگیوں کے باعث موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے مطابق امریکا میں صرف 2018 سے 2019 کے دوران فلو کے باعث 34 ہزار 200 اموات ہوئیں۔
رپورٹ میں فلو کی جان لیوار علامات اور کن افراد کے لیے خطرہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ اور اس سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی بات کی گئی ہے۔
فلو سے لوگوں کی موت کیسے واقع ہوتی ہے، اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلو ہمیشہ موت کی براہ راست بنیادی وجہ نہیں ہوتا تاہم، یہ پھیپھڑوں میں شدید سوزش کا باعث ہوسکتا ہے اور اس کے نتیجے میں سانس لینے میں شدید مشکلات اور موت واقع ہوسکتی ہے اور بہت سی اموات دراصل فلو کی جان لیوا پیچیدگیوں کی وجہ سے ہوتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلو پہلے سے موجود دائمی بیماریوں، مثلاً دمہ اور دل کے امراض کو مزید سنگین تر کر سکتا ہے اور ان بیماریوں سے ہونے والی شدید علامات بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں، اگر کسی شخص کا مدافعتی نظام کمزور ہو تو جسم کے لیے انفیکشن کے خلاف لڑنا مشکل ہوسکتا ہے اور بعض افراد میں فلو کی پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، جن میں بزرگ، بچے اور حاملہ خواتین شامل ہیں۔
دوسری جانب مضبوط مدافعتی نظام رکھنے والے افراد کے لیے بھی فلو خطرناک ہوسکتا ہے کیونکہ بعض اوقات مدافعتی نظام انفیکشن کے خلاف حد سے زیادہ ردعمل دیتا ہے اور یہ ردعمل جسم کے مختلف اعضا کو نقصان پہنچا سکتا ہے، جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
اسی طرح فلو نمونیا کا سبب بھی بن سکتا ہے، نمونیا پھیپھڑوں میں شدید سوزش ہے، جس کے باعث ہوا کی تھیلیاں سیال سے بھر جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں خون میں آکسیجن کی مقدار کم ہوجاتی ہے اور اگر جسم کے خلیوں کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہ ملے تو موت واقع ہوسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلو جسم میں سوزش کے حوالے سے شدید ردعمل پیدا کرسکتا ہے اور سنگین پیچیدگیوں میں ایسی سوزش شامل ہے جو دل، دماغ اور پٹھوں کے ٹشوز جیسے اعضا اور بافتوں کو متاثر کرسکتی ہے، اسی طرح بعض صورتوں میں سوزش بدن کے کسی اعضا کےناکارہ ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر فلو کے دوران کسی شخص کو ثانوی بیکٹیریا کا انفیکشن لاحق ہوجائے تو یہ سیپسس کا سبب بن سکتا ہے، سیپسس انفیکشن کے خلاف جسم کا ایک انتہائی شدید ردعمل ہے اور یہ جان لیوا ہوسکتا ہے، اگر جسم فلو کے وائرس کے خلاف لڑنے میں سست روی کا مظاہرہ کرے تو بیماری طویل عرصے تک جاری رہ سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں بعض افراد دیگر انفیکشنز کا زیادہ آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں۔
میڈیکل نیوز ٹوڈے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ فلو سے ہر سال ہونے والی اموات کی درست تعداد معلوم کرنا مشکل ہے کیونکہ رپورٹس میں ممکن ہے ہر کیس شامل نہ ہو یہاں تک امریکا کی ریاستوں میں بھی 18 سال سے زائد عمر کے افراد کے فلو یا فلو سے متعلق پیچیدگیوں کی وجہ سے اموات سی ڈی سی کے ریکارڈ میں آجائیں۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ عام طور پر ڈاکٹرز بھی جب کسی شخص کی موت فلو کی پیچیدگیوں کے باعث ہوتی ہے تو ہمیشہ موت کی وجہ فلو درج نہیں کرتے کیونکہ فلو سے ہونے والی بہت سی اموات دراصل پیچیدگیوں کے باعث ہوتی ہیں، مثلاً پہلے سے موجود بیماری کے بگڑنے یا کسی ثانوی انفیکشن کے نتیجے میں ہونے والی اموات تو ایسے میں فلو کے باعث ہونے والی اموات کی حتمی تعداد کا تعین کرنا مشکل کام ہے اور انہی وجوہات کے باعث فلو سے متعلق اموات کے اعداد و شمار اکثر اندزوں کی بنیاد پر ریکارڈ کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکا میں یکم اکتوبر 2019 سے 4 اپریل 2020 تک ایک اندازے کے مطابق 3 کروڑ 90 لاکھ سے 5 کروڑ 60 لاکھ افراد فلو کا شکار ہوئے، جن میں سے ایک کروڑ 80 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ افراد نے فلو کے باعث طبی معائنہ کروایا، 4 لاکھ 10 ہزار سے 7 لاکھ 40 ہزار افراد فلو کے باعث اسپتال میں داخل ہوئے اور 24 ہزار سے 62 ہزار افراد فلو کے باعث دم توڑ گئے۔
سی ڈی سی کے مطابق 2011-2012 کے دوران فلو سے تقریباً 12 ہزار اموات ہوئیں، 2017-2018 میں یہ تعداد تقریباً 79 ہزار رہی اور مجموعی طور پر 2010 کے بعد سے ہر سال فلو سے متعلق 12 ہزار سے 61 ہزار اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
یورپی سینٹر فار ڈیزیز پریوینشن اینڈ کنٹرول کے مطابق یورپ میں ہر سال تقریباً15 ہزار سے 70 ہزار شہری انہی وجوہات کے باعث موت میں منہ میں چلے جاتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مختلف تحقیقی اندازوں اور رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال فلو سے متعلق سانس کی بیماریوں کے باعث تقریباً دو لاکھ 91 ہزار سے 6 لاکھ 46 ہزار افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت بھی تقریباً اسی حد کا تخمینہ پیش کرتا ہے اور اس کے مطابق موسمی انفلوئنزا کے باعث ہر سال دنیا بھر میں دو لاکھ 90 ہزار سے 6 لاکھ 50 ہزار افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔
فلو کے باعث پیدا ہونے والی جان لیوا علامات اور پیچیدگیوں کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بالغ افراد میں فلو کی شدید اور جان لیوا علامات میں سانس لینے میں دشواری، سینے یا پیٹ میں دباؤ یا درد، چکر آنا اور ذہنی الجھن، دورے پڑنا، بخار یا کھانسی کا مزید شدید ہو جانا، پہلے سے موجود دائمی بیماریوں کا بگڑ جانا، پیشاب نہ آنا یا بہت کم آنا، پٹھوں میں شدید درد اور کمزوری یا توازن برقرار رکھنے میں دشواری جیسی علامات یا پیچیدگیاں شامل ہیں۔
اگر کسی شخص میں ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو اس کو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرکے طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔
اسی طرح بچوں میں پیدا ہونے والی علامات104 ڈگری فارن ہائیٹ (40 ڈگری سینٹی گریڈ) سے زیادہ بخار، ہونٹوں یا چہرے کا نیلا پڑ جانا، بیدار ہونے کے باوجود ہوش مندی یا اردگرد کے ماحول سے ردعمل میں کمی، 12 ہفتے سے کم عمر بچوں میں بخار، پانی کی کمی کے باعث روتے وقت آنسو نہ آنا یا 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آنا شامل ہیں۔
ماہرین نے ان علامات سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات بھی تجویز کیے ہیں اور اس کے مطابق اگر کسی شخص میں فلو کی علامات ظاہر ہوں تو اسے گھر پر آرام کرنا چاہیے تاکہ صحت یابی میں مدد ملے اور وائرس دوسروں تک منتقل نہ ہو، اسی طرح عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ فلو سے بچاؤ کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے اور یہ ویکسین خاص طور پر ان افراد کے لیے اہم ہے جن میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 6 ماہ سے 5 سال تک کی عمر کے بچوں، حاملہ خواتین، 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد، دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اور طبی شعبے سے وابستہ کارکنان کو ہر سال ویکسین کی تجویز کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگر کسی شخص میں فلو کی پیچیدگیوں کا خطرہ کم بھی ہو تو ویکسین لگوانے سے وہ وائرس کو ایسے افراد تک منتقل کرنے سے بچ سکتا ہے جو انفیکشن کا زیادہ آسانی سے شکار ہوسکتے ہیں، علامات کی شدت کا پہلے سے اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے، اس لیے احتیاطی طور پر اقدامات کرنا زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
ماہرین نے عام افراد کو تجویز دی ہے کہ جراثیم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے باقاعدگی سے ہاتھ دھونا ایک اہم اقدام ہے، صابن اور پانی استعمال کرنا چاہیے، اگر دونوں چیزیں دستیاب نہ ہوں تو ہینڈ سینیٹائزر کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کھانستے یا چھینکتے وقت ٹشو پیپر استعمال کرکے منہ اور ناک کو ڈھانپنا چاہیے تاکہ جراثیم پھیلنے سے روکے جاسکیں۔ اس کے بعد ٹشو کو مناسب جگہ پر پھینک کر ہاتھ صاف کرنے چاہئیں، بیمار افراد کے ساتھ قریبی رابطے سے گریز کرنا بھی وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
ماہرین نے ہدایت کی کہ لوگوں کو سانس لینے میں دشواری جیسی فلو کی ہنگامی علامات سے آگاہ ہونا چاہیے اور اگر علامات شدید ہوں یا بتدریج مزید خراب ہوتی جائیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین نے مزید بتایا کہ فلو کا شکار ہونے والے زیادہ تر افراد مکمل صحت یاب ہوجاتے ہیں اور چند دنوں یا زیادہ سے زیادہ تقریباً دو ہفتوں میں بہتر ہوسکتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں فلو جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے اور موت کا سبب بھی بن سکتا ہے، بعض افراد میں فلو کی شدید پیچیدگیوں کا خطرہ دوسروں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔