ٹیکنالوجی کمپنیوں کا اے آئی سائبر حملے ناکام بنانے کیلئے اقدامات میں تیزی لانے کا مطالبہ

ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور ایمازون شامل ہیں، رپورٹ

فوٹو: رائٹرز

ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے کیے جانے والے ممکنہ سائبر حملوں کو ناکام بنانے کے لیے دفاعی اقامات میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنیوں میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور ایمازون شامل ہیں، مصنوعی ذہانت کے ذریعے کیے جانے والے ممکنہ سائبر حملوں کی متوقع لہر کو ناکام بنانے کے لیے پورے معاشرے کی سطح پر سائبر دفاعی اقدامات تیز کرنے پر زور دیا ہے۔

کمپنیوں کی جانب سے جاری مشترکہ خط میں ان کمپنیوں سمیت100 سے زائد دیگر اداروں براڈکام، کیپیٹل ون، کلاؤڈ فلیئر، کراؤڈ اسٹرائیک، جنرل موٹرز، آئی بی ایم، ماسٹر کارڈ، اوریکل، رابن ہُڈ، شاپی فائی اور ویزا نے کہا کہ اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرے کے پیش نظر اپنی ڈیجیٹل دنیا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت محدود ہے۔

خط میں کہا گیا کہ آنے والے مہینوں میں اے آئی سے چلنے والے سائبر حملے کہیں زیادہ عام ہوجائیں گے کیونکہ دنیا بھر میں اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خط میں حکومتوں اور صنعتی شعبے کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس کوشش کے لیے اپنی ٹیکنالوجی، وسائل اور مہارت کی بھرپور قوت بروئے کار لائیں۔

کمپنیوں نے حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قابل اعتماد رسائی کے پروگراموں کو تیز کریں، جن کے تحت بعض کمپنیوں کو عام لوگوں سے پہلے زیادہ طاقت ور اے آئی ماڈلز تک رسائی فراہم کی جاتی ہے دیگر تمام اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ سائبر دفاع کو فوری طور پر اپنی قیادت کی ترجیحات میں شامل کریں۔

امریکا کی سائبر دفاعی ایجنسی سی آئی ایس اے اور وائٹ ہاؤس نے تبصرے کے لیے بھیجے گئے پیغام کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعدسی آئی ایس اے کے بجٹ اور افرادی قوت میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں کیں جبکہ گزشتہ سال اس ایجنسی کے عملے کی تعداد میں تقریباً ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اے آئی میں ہونے والی پیش رفت کی وجہ سے ہیکنگ کو مزید طاقت ملنے کے خدشات اب حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں کیونکہ شرپسند عناصر دنیا بھر کے اداروں میں مداخلت کے لیے لینگویج ماڈلز(ایل ایل ایم) کا استعمال میں بھی تیزی لا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2026 میں امریکا، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ پر مشتمل فائیو آئیز انٹیلی جنس اتحاد نے مشترکہ غیرمعمولی بیان میں خبردار کیا تھا کہ اے آئی انقلاب سائبر سیکیورٹی بنیادی طور پر تبدیل کرنے والا ہے۔

Load Next Story