فرانس میں بار کے باہر لوگوں پر گاڑی چڑھادی گئی، 2 افراد ہلاک، 9 زخمی

واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی شہریوں نے صدمے کا اظہار کیا

کین: فرانس کے شمالی شہر کین میں ایک بار کے باہر موجود افراد پر مبینہ طور پر جان بوجھ کر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں دو افراد ہلاک اور 9 زخمی ہوگئے۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افراد افغان شہری ہونے کا امکان ہے، جبکہ زخمی ہونے والے تمام افراد بھی مرد ہیں۔

فرانسیسی حکام کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا، جب ایک گاڑی نے کین شہر میں ایک بار کے باہر جمع افراد کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد پولیس نے 26 سالہ روسی شہری کو گرفتار کرلیا، جس کا تعلق چیچن نسل سے بتایا گیا ہے۔

محکمہ کالوادوس کے پریفیٹ ڈیوڈ کلیویئر کے مطابق واقعے سے پہلے بار کے باہر موجود کچھ افراد کے درمیان لڑائی ہوئی تھی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مشتبہ شخص بھی اس جھگڑے میں شامل تھا اور چند افراد نے مبینہ طور پر اسے گھیر لیا تھا۔

پولیس کے مطابق مشتبہ شخص وہاں سے چلا گیا، تاہم کچھ دیر بعد اپنی گاڑی کے ساتھ واپس آیا۔ اس نے کین ریلوے اسٹیشن کے سامنے بسوں کے لیے مخصوص لین میں گاڑی چلائی اور بس اسٹاپ پر موجود افراد کے ایک گروپ کو مبینہ طور پر جان بوجھ کر گاڑی سے ٹکر ماری۔

واقعے کے بعد پولیس اور امدادی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ حکام کے مطابق زخمیوں کی عمریں 17 سے 36 سال کے درمیان ہیں۔

علاقائی پراسیکیوٹر ژوئل گیریگ کے مطابق ایک شخص بدھ کے روز ہی دم توڑ گیا تھا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اس کی عمر 35 سال تھی اور وہ افغان شہری تھا۔ دوسرا شخص 28 سال کا تھا، جس کے بارے میں بھی افغان شہری ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق 9 زخمیوں میں سے 7 کی حالت تشویشناک ہے۔ واقعے کے بعد متاثرہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور مقامی شہریوں نے صدمے کا اظہار کیا۔

فرانسیسی حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے 26 سالہ مشتبہ شخص کی فرانس میں قانونی رہائش ہے۔ وہ پہلے سے انٹیلی جنس اداروں کی نظر میں نہیں تھا اور اس کا کوئی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی سامنے نہیں آیا۔

کین کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں اس واقعے کے پیچھے کسی دہشت گردانہ محرک کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ حکام واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ حملہ کس محرک کے تحت کیا گیا۔

Load Next Story