وزیراعظم کی ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت

شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، وزیراعظم کو اجلاس میں پی آر اے ایل (PRAL) کی تنظیم نو پر بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ٹیکس نظام میں اصلاحاتی اقدامات کے نفاذ کو معینہ مدت میں مکمل جائے، اصلاحات کا تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، ملکی ترقی کے لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات کا نفاذ کر رہے ہیں، ڈیجیٹلائزیشن، پیدا وار کی نگرانی اور خودکار نظام ایف بی آر اصلاحات کے اہم ستون ہیں۔

وزیراعظم نے  ٹیکس چوری، اسمگلنگ اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف مؤثر کارروائی مزید تیز کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ ایف بی آر میں اچھی شہرت کے گڈز ایویلیویٹرز کی تعیناتی کا عمل خوش آئند امر ہے، چیئرمین ایف بی آر اور ان کی ٹیم کی اس حوالے سے کوششیں لائقِ تحسین ہیں۔

اجلاس میں ایف بی آر میں جاری اصلاحات، بالخصوص پی آر اے ایل کی تنظیمِ نو، ٹیکس نظام کی ڈیجیٹلائزیشن اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے کیے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ٹیکس نظام کو جدید، مربوط اور ڈیٹا پر مبنی بنانے کے لیے IRIS 3.0، نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل اور سینٹرل ڈیٹا ہب پر مرحلہ وار کام جاری ہے۔ IRIS 3.0 کے ڈیزائن کے لیے بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ 

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پرال میں ٹیکنالوجی، ڈیٹا سکیورٹی، آپریشنز اور ٹیکس ڈومین سمیت مختلف شعبوں میں نئی سینئر قیادت کی تعیناتیاں کی گئی ہیں۔ IRIS 3.0 کے تحت ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنانے، آٹو ٹیکس کے تصور کو پائلٹ کرنے اور مستقبل میں مصنوعی ذہانت و مشین لرننگ کو ٹیکس وصولی بہتر بنانے کے لیے استعمال کرنے کے منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔

کسٹمز کے شعبے میں فیس لیس اسیسمنٹ کے مثبت اثرات سے متعلق اجلاس کو بتایا گیا کہ جنوری تا جون 2026ء کے دوران فی گڈز ڈیکلریشن اوسط ریونیو میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیس لیس اسیسمنٹ کے نتیجے میں  فی گڈز ڈیکلریشن کے محاصل میں بہتری کے ساتھ ساتھ درآمدی بے ضابطگیوں کی نشاندہی اور نگرانی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔  

کسٹمز اسیسمنٹ کے نظام کو مزید مربوط بنانے کے لیے 280 گڈز ایویلیویٹرز کی بھرتی کا عمل حتمی مراحل میں ہے۔ اسلام آباد میں سینٹرل اسیسمنٹ یونٹ کے قیام پر بھی پیش رفت جاری ہے، عبوری انتظام کے تحت یونٹ 31 دسمبر 2026ء تک فعال کرنے جبکہ مکمل مربوط سہولت کو جون 2027ء تک نئے کمپلیکس میں فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ 

اجلاس کو بتایا گیا کہ جولائی 2025 میں ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 236 بلین روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں جبکہ جولائی 2026 میں ان کا حجم 2.5 ٹریلین روپے کی سطح کو عبور کر گیا، اور دسمبر 2026 تک ڈیجیٹل انوائسنگ کے ذریعے 4 ٹریلین روپے کی ٹرانزیکشنز کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔  

اسمگلنگ کے تدارک کے حوالے سے اجلاس کو بتایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے تمام قانونی پٹرول پمپس کی GIS ٹیگنگ، GPS کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی ٹریکنگ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ERP نظام کو ٹریکر سے منسلک کرنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مرکزی ٹریکنگ ایپ سمیت متعدد اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔ راہ-گزر ایپ کے ذریعے اڑھائی ہزار غیر قانونی پیٹرول پمپس کو بند کرا کے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی گئی ہے. پٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی ڈیجیٹل نگرانی اور دیگر اقدامات پر بھی کام جاری ہے۔ 

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ایف بی آر اصلاحات کے تمام اقدامات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں اور اصلاحاتی عمل کی شفافیت، مؤثریت اور پائیداری کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے۔ وزیراعظم نے ٹیکس نظام کو جدید اور مؤثر بنانے، ریونیو وصولی میں اضافہ اور اسمگلنگ کے مکمل تدارک کے لیے اصلاحات پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، رکن قومی اسمبلی عثمان اویسی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، چئیرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.

Load Next Story