کول ٹرین حادثے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں اسٹیشن ماسٹر ذمہ دار قرار

ریلوے انتظامیہ نے واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

لاہور:

یوسف والا کوئلے سے بھری ریل گاڑی کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں اسٹیشن ماسٹر کی غفلت کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، حادثے کی ذمے داری اسٹیشن ماسٹر پر عائد جبکہ تفصیلی تحقیقات بھی شروع کر دی گئی۔

جمعرات کے روز کراچی سے ساہیوال کول پاور پلانٹ کے لیے کوئلے سے بھری ریل گاڑی حادثہ کا شکار ہوگئی تھی جس کا انجن اور بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

ریلوے حکام کی مشترکہ رپورٹ میں ریلوے اسٹیشن پر اسٹیشن ماسٹر کی مبینہ غفلت کے باعث کول ٹرین پٹڑی سے اتر کر حادثے کا شکار ہوگئی۔ حادثے میں ڈی بی نجن نمبر 9042 الٹ گیا جبکہ 30 سے زائد ویگنز بھی پٹڑی سے اتر گئیں۔

ریلوے حکام کی 5 رکنی مشترکہ کمیٹی نے جائے حادثہ کا معائنہ کرنے کے بعد رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیوٹی پر موجود اسٹیشن ماسٹر امیر علی نے پوائنٹس کی پوزیشن چیک کیے بغیر ہی ٹرین کے لیے سگنل دے دیا، حادثے کے وقت پوائنٹس لوپ لائن کے لیے سیٹ تھے جب دیگر اسٹاف نے اسٹیشن ماسٹر کو سگنل کے پیلے ہونے سے آگاہ کیا تو انہوں نے فوری طور پر ڈرائیور کو ٹرین سست کرنے کی ہدایت کی لیکن وقت کی قلت کے باعث ٹرین سینڈ ہمپ سے ٹکرا کر پٹڑی سے اتر گئی۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ حادثے کے نتیجے میں انجن نمبر 9042 کو شدید نقصان پہنچا جبکہ ٹریک اور مین لائن بھی متاثر ہوئی۔ ریلوے کے تمام متعلقہ محکمے نقصانات کا تخمینہ لگا رہے ہیں، ریلوے انتظامیہ نے واقعے کی مزید تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

Load Next Story