نیپال سیلاب؛ خاتون کی لاش کو بالوں سے گھسیٹ کر زیورات چرانے والے سفاک ملزمان گرفتار
سفاک ملزمان دریا میں بہتی خاتون کی لاش کو بانس سے کنارے پر لائے تھے
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے دوران دریا میں بہہ جانے والی ایک خاتون کی لاش کو بالوں سے گھسیٹ کر کنارے پر لانے اور سونے کی بالیاں نوچ کر اتارنے والے 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر 41 سیکنڈ کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس نے درد مند دل رکھنے والوں کو غم و غصے میں مبتلا کردیا تھا۔
اس ویڈیو کے ابتدائی سیکنڈز میں دو افراد کو بانس اور تختے کے ذریعے ایک خاتون کی لاش کو دریا سے نکالتے دیکھا گیا جسے امدادی کارروائی سمجھا گیا۔
چند سیکنڈ بعد کی ویڈیو نے اس تاثر کو نہ صرف زائل کردیا بلکہ ملزمان کی سفاکی نے سوشل میڈیا صارفین کے ہوش اُڑا کر رکھ دیئے۔
ویڈیو کے اختتامی سیکنڈز میں ان ملزمان کو کنارے پر لائی جانے والی خاتون کی لاش کو بال سے گھسیٹ کر زمین پر لانے اور پھر کانوں سے سونے کی بالیاں نوچتے دیکھا گیا۔
ملزمان نے بالیاں چرا کر لاش کو ایسے ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ قدرتی آفات کے دوران بھی سفاک اور بےحس ملزمان چوری چکاری سے باز نہیں آتے۔
بعد ازاں نیپال پولیس نے بھی یہ ویڈیو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ لاش سے بالیاں چوری کرنے کے الزام میں 25 سالہ مدن گرونگ اور 38 سالہ اومیش چودھری کو گرفتار کرلیا گیا۔
چٹوان پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ خاتون کی لاش شدید سیلاب کے دوران بہہ کر نارایانی دریا میں پہنچ گئی تھی۔ جسے شناخت کیلیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس نے ویڈیو کی مدد سے کی شناخت کی۔ دونوں کو جمعرات کے روز بھرت پور میٹروپولیٹن سٹی کے علاقے پوکھرا بس پارک کے قریب سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ قدرتی آفت کے دوران متاثرین کے سامان کی لوٹ مار یا کسی بھی قسم کی غیر انسانی حرکت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
نیپال میں بدترین سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ
یاد رہے کہ نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی ٹیمیں کیچڑ اور ملبے میں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تاحال 1,400 سے زائد افراد لاپتا ہیں جبکہ اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کی 550 سے تجاوز کرگئی ہے اور اب بھی لاشیں ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔
کیچڑ کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں مٹی کی اوسط گہرائی تقریباً 1.5 میٹر (5 فٹ) تک بتائی گئی ہے۔
سرحدی گزرگاہ تک جانے والی سڑکیں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں جبکہ بارش جاری رہنے کے باعث مزید لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم دشوار گزار علاقوں، تباہ شدہ سڑکوں اور مسلسل بارش کے باعث لاپتا افراد کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔