کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں خواتین کی تکرار کے بعد جھگڑا، بااثر خاتون نے مقدمہ درج کرادیا
کراچی: شہر قائد کے پوش علاقے ڈیفنس چھوٹا بخاری کمرشل ایریا فیز 6 کی رہائشی عمارت میں 2 خواتین کے درمیان تکرار کا معاملہ جھگڑے میں تبدیل ہوگیا، جس میں بااثر فیملی کی جانب سے پولیس اہلکاروں نے بھی مداخلت کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق چھوٹا بخاری کمرشل ایریا کے فیز 6 میں قائم رہائشی اپارٹمنٹ میں یہ واقعہ 21 اگست کی رات بارہ بجے کے قریب پیش آیا، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اس معاملے کے بعد بااثر خواتین نے دوسری فیملی پر مقدمہ درج کرا دیا جبکہ بااثر فیملی کے ہمراہ جھگڑے کے دوران وردی میں ملبوس 2 پولیس اہلکار بھی سیڑھیوں سے ان کے ہمراہ اترتے ہوئے دکھائی دیئے۔
اس دوران تیسری منزل کی رہائشی خاتون ، مرد اور چوتھی منزل سے اترنے والی خاتون کے درمیان جھگڑا ہوتا ہوا تو اسی دوران سادہ لباس شخص سیڑھیوں سے اوپر آیا اور اُس نے سی سی ٹی وی کیمرے کو دیکھ کر اسلحے کی مدد سے اس کو توڑا۔
اس سے قبل پولیس کی وردی میں ملبوس اسلحہ بردار ایک اہلکار کو بھی سیڑھی سے اوپر جاتے ہوئے دیکھا گیا جس سے سادہ لباس شخص نے ایس ایم جی لیکر وہاں پر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کو بٹ مار توڑتا ہوا دکھائی دیا۔
درخشاں پولیس نے واقعہ کا مقدمہ نمبر 578 سال 2026 بجرم دفعہ 354 ، 504 ، 506 ، 337 اے ون اور 382 چونتیس کے تحت چوتھی منزل پر رہائش پذیر خاتون مریم کی مدعیت میں تیسری منزل پر رہائش پذیر بھائی ، بہن اور ان کی والدہ کے خلاف درج کرلیا۔
ایف آئی آر میں مدعیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ دونوں بہن ، بھائی اور والدہ میرے فلیٹ پر آئے اور پارکنگ کے مسئلے پر دروازے پر لاتیں مار کر مغلظات بکنے جبکہ شور شرابہ کرنے لگے۔
خاتون کے مطابق میں نے دروازہ کھول کر وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی تو سب نے مشتعل ہو کر مجھے تشدد کا نشانہ بنایا اور اسی دوران میری ایک کان کی بالی پلاٹینم گولڈ اور 2 طلائی انگوٹھیاں بھی چھین لیں۔
خاتون کے مطابق ماں بیٹے اور مرد دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے کہ علاقہ پولیس کے پولیس افسر نے موقع پر پہنچ کر میری نشاندہی پر علی احسن اور نورالعین کو پکڑا جبکہ والدہ موقع سے فرار ہوگئیں۔
دوسری جانب تیسری منزل کے رہائشی سید علی احسن نے بھی 27 اگست کو درخشاں تھانے میں واقعے کے خلاف مقدمہ درج کرانے والی خاتون مریم کے خلاف درخواست جمع کرائی ہے جس میں عمارت کی مینٹینس کی ادائیگی سمیت دیگر معاملات کے حوالے سے پولیس کا آگاہ کیا گیا ہے۔