پاکستان انجنیئرنگ کونسل کا دسمبر تک سسٹم کو ڈیجیٹلائز کرنے کا اعلان، طلبا کو کیا فائدہ ہوگا؟
پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے چیئرمین انجینئر وسیم نذیر نے کہا ہے کہ پی ای سی میں ای لائسنسنگ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک کونسل کے تمام نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پاکستان انجینئرنگ کونسل کے زیر اہتمام تعمیراتی شعبے سے وابستہ اسٹیک ہولڈرز کے مسائل اور چیلنجز کے حوالے سے کراچی کے ایک نجی ہوٹل میں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں انجینئرز، کنٹریکٹرز اور متعلقہ شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں تعمیراتی صنعت کو درپیش ٹیکس، ادائیگیوں، لائسنسنگ، اپ گریڈیشن، پرائس ایڈجسٹمنٹ، پبلک سیکٹر منصوبوں اور دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
اس موقع پر چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل انجینئر وسیم نذیر نے کہا کہ پی ای سی میں جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد انجینئرز، کنٹریکٹرز اور دیگر پروفیشنلز کو زیادہ تیز، شفاف اور سہل خدمات فراہم کرنا ہے۔ ای لائسنسنگ اور ڈیجیٹل نظام کے ذریعے لائسنس، رجسٹریشن، تصدیق اور دیگر امور آن لائن انجام دیے جاسکیں گے۔
طلبا کو کیا فائدہ ہوگا؟
انہوں نے بتایا کہ Pathway to Practice Program کے تحت تازہ فارغ التحصیل انجینئرز کو یونیورسٹی کی جانب سے نتائج کے اعلان کے اسی روز ”انجینئر“ کا ٹائٹل دیا جا رہا ہے، جس سے انہیں پی ای سی میں فوری رجسٹریشن اور بطور Registered Engineer اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کرنے میں سہولت حاصل ہوئی ہے۔ اس اقدام سے تعلیم مکمل کرنے اور پیشہ ورانہ میدان میں داخلے کے درمیان غیر ضروری تاخیر کو ختم کرنے میں مدد ملی ہے۔
انجینئر وسیم نذیر نے بتایا کہ پی ای سی نے Graduate Trainee Engineers (GTE) Program بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت اب تک 2,300 سے زائد تازہ گریجویٹ انجینئرز کو چھ ماہ کی ہاؤس جاب طرز کی عملی تربیت فراہم کی جا چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت پانچ ماہ کی Industrial Training ملک کے معروف صنعتی اداروں میں جبکہ ایک ماہ کی Soft Skills Training نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں کرائی جاتی ہے۔ پی ای سی اس پروگرام کے دوران ہر انجینئر کو ماہانہ 50 ہزار روپے کا وظیفہ بھی فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 18 سے 20 ہزار انجینئرز تیار ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم سے عملی میدان تک ایک واضح اور مؤثر راستہ فراہم کیا جائے۔ Pathway to Practice اور GTE Program اسی وژن کے تحت نوجوان انجینئرز کو فوری رجسٹریشن، عملی تربیت اور پیشہ ورانہ مواقع سے منسلک کرنے کے لیے شروع کیے گئے ہیں۔
چیئرمین پی ای سی نے کہا کہ انجینئرز کی رجسٹریشن کو لازمی بنانے کے ساتھ کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والا ہر انجینئر باقاعدہ طور پر رجسٹرڈ ہو۔ پی ای سی مصنوعی ذہانت سے متعلق پروگرامز بھی شروع کر رہا ہے تاکہ پاکستانی انجینئرز اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور عالمی سطح پر بہتر مواقع حاصل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مقصد صرف Brain Drain کو روکنا نہیں بلکہ “Brain Gain” کی طرف بڑھنا ہے، تاکہ پاکستانی انجینئرز بیرون ملک جدید تجربہ اور مہارت حاصل کرنے کے بعد پاکستان واپس آکر ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پی ای سی نے اپنے نظام کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ISO Certification کے حصول پر بھی کام کیا ہے۔ کونسل کے دفاتر اور خدمات کے نظام کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ انجینئرز اور کنٹریکٹرز کو مؤثر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
انجینئر وسیم نذیر نے بتایا کہ انجینئرز کو قومی سطح پر ڈیجیٹل شناخت فراہم کرنے کے لیے پی ای سی نے نادرا کے ساتھ معاہدہ کیا ہے، جبکہ چین کے ساتھ بھی مختلف معاہدوں کے تحت پاکستانی انجینئرنگ طلبہ کے لیے تربیت اور تعلیم کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق حال ہی میں تقریباً 30 طلبہ کو چین بھیجا گیا، جبکہ آئندہ دس برس کے لیے بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جس کے تحت ہر سال تقریباً 20 سے 30 طلبہ کو مفت مواقع فراہم کیے جاسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے انتخاب میں میرٹ، شفافیت اور برابری کو بنیادی اہمیت دی جائے گی۔
چیئرمین CAP سید افضال الرحمٰن نے کہا کہ پی ای سی نے کنسٹرکٹرز کے لائسنس کی مدتِ اعتبار 31 اگست 2026 تک بڑھا دی ہے، تاہم بعض کلائنٹس اب بھی ورک رینڈرنگ کے عمل کے دوران تجدید شدہ پی ای سی لائسنس طلب کر رہے ہیں، جس کے باعث کنسٹرکٹرز کو مشکلات کا سامنا ہے۔
اس پر چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر نے بتایا کہ انہیں CAP-KP کی جانب سے بھی لائسنس کی مدتِ اعتبار میں مزید ایک ماہ توسیع کی درخواست موصول ہوئی ہے، جس کی وجہ لائسنسز کی پرنٹنگ میں تاخیر بتائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ای سی اس معاملے میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرے گی۔
چیئرمین پی ای سی نے مزید بتایا کہ کنسٹرکٹرز کی سہولت کے لیے پی ای سی ای لائسنس (e-License) متعارف کرانے جا رہی ہے، جبکہ لائسنس کی Instant Renewal سہولت پہلے ہی متعارف کرائی جا چکی ہے، جس کے تحت کنسٹرکٹرز اپنے لائسنس 24 گھنٹوں کے اندر تجدید کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد لائسنسنگ کے عمل کو تیز، شفاف اور مکمل طور پر سہل بنانا ہے۔
چیئرمین آف دی کنسٹرکٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان سید افضال الرحمٰن نے مزید کہا کہ کنٹریکٹرز کی اپ گریڈیشن کے حوالے سے پالیسی مسائل موجود ہیں، تاہم ان کی استعداد کار بڑھانے پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے تجویز دی کہ C-2 تک کی کیٹیگری اپگریڈ رکھی جائے جبکہ دیگر کیٹیگریز کو میرٹ اور اوپن میرٹ کی بنیاد پر اپ گریڈیشن کا موقع دیا جائے۔
انہوں نے پی ای سی کے پاکستان اسٹینڈرڈ ڈاکیومنٹس کے حوالے سے بھی مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود دونوں نظاموں کو مشترکہ نہیں کیا جاسکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں اپنی شرائط لے کر آتی ہیں، جس کے باعث مقامی کنٹریکٹرز کے لیے ان منصوبوں میں شرکت مشکل ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں 70:30 پرائس ایڈجسٹمنٹ فارمولا قابل عمل نہیں رہا۔ عالمی حالات، درآمدی تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے باعث تعمیراتی لاگت بہت بڑھ چکی ہے، اس لیے پرائس ایڈجسٹمنٹ کا تناسب 70:30 کے بجائے 90:10 کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق 90:10 فارمولا کوئی نئی تجویز نہیں بلکہ ماضی میں اس پر عمل بھی ہوچکا ہے اور حکومت کی جانب سے اس بنیاد پر ادائیگیاں بھی کی گئی ہیں۔
افضال الرحمٰن نے لاہور میں قائم پاکستان انسٹیٹیوٹ آف کنسٹرکشن اینڈ کنٹریکٹ (PICC) کو دوبارہ فعال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ تعمیراتی شعبے میں ریٹس، انجینئرنگ تخمینوں، پرائس ایڈجسٹمنٹ اور مختلف شرائط کی تشریح کو معیاری بنانے میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ PICC کی بحالی سے کنٹریکٹرز کے ساتھ ساتھ کنسلٹنٹس اور سرکاری محکموں کو بھی فائدہ ہوگا۔
انہوں نے پی ای سی کی جانب سے مختلف معاملات پر رائے دینے کے لیے فیس مقرر کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ ان کے مطابق کسی معاہدے یا شرط کی تشریح کے لیے پی ای سی سے رائے طلب کرنے پر پانچ لاکھ روپے جمع کرانے کا کہا جاتا ہے۔