پمز سانحہ، غفلت کے ذمے دار کون؟
فوٹو: فائل
کسی اسپتال میں موت اگر بیماری کے ہاتھوں آئے تو اسے انسانی المیے کا نام دیا جاتا ہے، مگر جب زندگی بچانے کے لیے قائم ادارے کی دیواروں کے اندر حفاظتی نظام کی کمزوری کسی بے زبان بچے کو موت کے حوالے کردے تو سوال صرف حادثے کا نہیں رہتا، ریاست کی ذمے داری کا بن جاتا ہے۔
اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں چودہ نومولود بچوں کا زندہ جل جانا ،اسی سوال کو ہمارے سامنے پوری سنگینی سے رکھتا ہے۔ یہ بچے کسی سڑک کے حادثے، قدرتی آفت یا اچانک آنے والی وبا کا شکار نہیں ہوئے،وہ ایک ایسے مقام پر جان سے گئے جہاں ان کے والدین نے انھیں علاج، نگہداشت اور تحفظ کے یقین کے ساتھ داخل کرایا تھا، اس اعتماد کا ٹوٹنا خود ایک قومی سانحہ ہے۔
پمز نرسری کی آتشزدگی کو محض ایک بدقسمت حادثہ قرار دینا اس واقعے کی اصل نوعیت کو چھپانے کے مترادف ہوگا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق صبح 6 بج کر 38 منٹ پر چنگاری نکلی اور صرف ایک منٹ بعد زوردار دھماکے کے ساتھ آگ نے پوری شدت اختیار کرلی۔ انکیوبیٹرز کے قریب موجود آکسیجن پوائنٹس نے شعلوں کو چند سیکنڈ میں انتہائی خطرناک بنا دیا۔ اگر یہی صورتحال تحقیق میں بھی ثابت ہوتی ہے تو اصل سوال یہ ہوگا کہ ایسی جگہ جہاں آکسیجن، برقی آلات، انکیوبیٹرز اور انتہائی کمزور مریض ایک ساتھ موجود ہوں، وہاں حفاظتی انتظامات کس معیار کے تھے؟ کیا خطرات کی باقاعدہ نشاندہی ہوئی تھی؟ کیا برقی نظام، آکسیجن لائنوں اور طبی آلات کا تکنیکی معائنہ بروقت کیا گیا تھا؟ اور کیا انتظامیہ کو معلوم تھا کہ کسی معمولی چنگاری کے نتائج کتنے تباہ کن ہوسکتے ہیں؟سب سے زیادہ تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حادثے کی بنیادی وجہ کے بارے میں مختلف سرکاری بیانات سامنے آئیں۔
کہیں شارٹ سرکٹ کا ذکر ہوا، کہیں ایئرکنڈیشنر کے کمپریسر میں دھماکے کو وجہ بتایا گیا اور کہیں آکسیجن سے متعلق آلے میں پیدا ہونے والی چنگاری کو ابتدائی سبب قرار دیا گیا۔ حتمی تحقیق سے پہلے کسی ایک امکان کو حقیقت سمجھنا درست نہیں، لیکن مختلف بیانات اس امر کا تقاضا ضرور کرتے ہیں کہ تحقیق محض رسمی کارروائی نہ ہو۔ ایک بڑے سرکاری اسپتال میں برقی اور طبی نظام کا ریکارڈ، فائر سیفٹی انسپیکشن، مینٹیننس رپورٹس، ڈیوٹی روسٹر، کیمروں کی فوٹیج اور ایمرجنسی لاگز موجود ہونے چاہئیں۔ انھی دستاویزات سے معلوم ہوگا کہ خرابی اچانک پیدا ہوئی یا پہلے سے موجود تھی اور اگر پہلے سے موجود تھی تو اسے دور کیوں نہیں کیا گیا۔ پمز انتظامیہ کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت دو ڈاکٹر، دو نرسیں اور سیکیورٹی اہلکار موجود تھے۔
آگ لگتے ہی امدادی کارروائی شروع کی گئی، ایک نومولود کو نرسری سے نکالا گیا، ملحقہ کمرے سے چار بچے اور تین مائیں بچائی گئیں، جبکہ گائنی وارڈ کے 73 مریضوں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ انتظامیہ کے مطابق 35 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال ہوئے اور تمام ایمرجنسی راستے کھلے اور فعال تھے، اگر یہ تمام دعوے درست ہیں تو پھر ایک بنیادی سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے۔ نرسری میں موجود باقی بچوں تک امدادی ٹیم بروقت کیوں نہ پہنچ سکی؟ کیا وہاں موجود بچوں کی منتقلی کے لیے پہلے سے عملی منصوبہ تھا؟ کیا عملے کو اس منصوبے کی مشق کرائی گئی تھی؟ اور کیا نومولود بچوں کے لیے ایسا انخلا ممکن تھا جو چند منٹوں کے بجائے چند سیکنڈوں میں شروع کیا جاسکے؟اس سانحے نے سرکاری اعدادوشمار کے اعتبار سے بھی سنجیدہ سوال اٹھا دیے ہیں۔
پمز انتظامیہ نے نرسری میں 16 بچوں کی موجودگی بتائی، جبکہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے اسپتال کے دورے کے بعد دعویٰ کیا کہ وہاں 40 سے 50 بچے موجود تھے۔ یہ معمولی عددی اختلاف نہیں۔ مریضوں کی تعداد ہی ہنگامی منصوبہ بندی کی بنیاد بنتی ہے، اگر کسی نرسری میں گنجائش سے کہیں زیادہ بچے موجود ہوں تو عملے، انکیوبیٹرز، آکسیجن اور ہنگامی انخلا کے وسائل پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے یہ طے ہونا چاہیے کہ اس صبح نرسری میں حقیقی تعداد کتنی تھی، کون سے بچے کہاں رجسٹرڈ تھے اور کس نظام کے تحت انھیں وہاں رکھا گیا تھا۔
متاثرہ والدین کے سوالات بھی اسی وجہ سے اہم ہیں۔ ایک ماں نے دعویٰ کیا کہ موقع پر متعلقہ ڈاکٹر اور نرسیں موجود نہیں تھیں، این آئی سی یو کا دروازہ لاک تھا اور بعض ڈاکٹر بعد میں وہاں پہنچے۔ یہ الزامات درست ہیں یا نہیں، اس کا فیصلہ جذبات نہیں بلکہ ثبوت کریں گے، لیکن اگر ایک ماں یہ سوال اٹھا رہی ہے کہ آگ کے وقت اس کے بچے کے پاس کون موجود تھا تو ریاست کی ذمے داری ہے کہ اسے واضح جواب دے۔ ڈیوٹی روسٹر، حاضری، داخلی راستوں کا ریکارڈ، کیمرہ فوٹیج، دروازوں کے لاک سسٹم اور فون کالز کی تفصیل سے چند گھنٹوں میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کس وقت کون کہاں موجود تھا۔ تحقیق کا معیار یہی ہوگا کہ وہ دعوؤں اور جوابی دعوؤں کے بجائے قابل تصدیق شواہد پر فیصلہ کرے۔وزیراعظم کی جانب سے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کا قیام اور 48 گھنٹوں میں ابتدائی رپورٹ طلب کرنا فوری ردعمل کے طور پر مناسب ہے، مگر پاکستان کا اصل مسئلہ کمیٹی بنانا نہیں، کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنا ہے۔
ہمارے ہاں سانحات کے بعد انکوائریاں بنتی ہیں، رپورٹس تیار ہوتی ہیں، ذمے داروں کے تعین کی بات ہوتی ہے، چند اہلکار معطل ہوتے ہیں اور پھر وقت کے ساتھ فائلیں خاموش ہوجاتی ہیں، اگر پمز کا معاملہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوا تو یہ چودہ اموات محض ایک اور سرکاری فہرست کا حصہ بن جائیں گی۔ اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔تحقیقات کو کسی ایک ڈاکٹر، نرس یا سیکیورٹی اہلکار کو قربانی کا بکرا بنانے سے آگے جانا ہوگا، اگر کسی ماتحت نے غفلت کی تو اس کی ذمے داری ضرور طے ہو، لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ اسے مناسب تربیت، افرادی قوت، آلات اور واضح ہدایات کس نے فراہم کی تھیں، اگر فائر سیفٹی معائنہ ہوا تھا تو اس پر دستخط کس کے تھے؟ اگر خرابی رپورٹ ہوئی تھی تو کارروائی کس نے روکی؟ اگر بجلی یا آکسیجن کا نظام ناقص تھا تو مرمت کا بجٹ کہاں گیا؟ اگر عملہ کم تھا تو اس کمی کا ذمے دار کون تھا؟ انتظامی ذمے داری ہمیشہ نیچے کی سطح پر ختم نہیں ہوتی، اس کی ایک زنجیر اوپر تک جاتی ہے۔
وفاقی وزیر صحت کے استعفے کا مطالبہ سیاسی ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے، مگر استعفیٰ اور احتساب ایک ہی چیز نہیں۔ اگر وزیر یا وزارت کی براہ راست انتظامی غفلت ثابت ہو تو سیاسی جواب دہی لازماً ہونی چاہیے، لیکن صرف ایک استعفیٰ اس نظام کو درست نہیں کرے گا جس میں فائر سیفٹی ممکنہ طور پر کاغذی تصدیق تک محدود ہو۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا حکومت پورے ملک کے سرکاری اسپتالوں کا آزادانہ فائر سیفٹی آڈٹ کرانے پر آمادہ ہے؟ کیا ہر نرسری، آئی سی یو، آپریشن تھیٹر اور آکسیجن سے وابستہ یونٹ کا عملی معائنہ ہوگا؟ کیا خراب نظام کو درست کرنے کے لیے وقت مقرر کیا جائے گا اور دوبارہ جانچ بھی ہوگی؟نومولود بچوں کے وارڈ میں فائر سیفٹی کا مطلب صرف چند ایکسٹنگوشرز دیوار پر لٹکا دینا نہیں۔ اس میں دھوئیں کی فوری نشاندہی، خودکار الارم، محفوظ بجلی کا نظام، آکسیجن مینجمنٹ، ہنگامی روشنی، واضح راستے، محفوظ دروازے، مناسب کمپارٹمنٹلائزیشن، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ عملی مشق شامل ہیں۔
ایسے وارڈ میں یہ فرض کرلینا کہ حادثہ نہیں ہوگا، خود ایک انتظامی ناکامی ہے۔ محفوظ نظام وہ نہیں جو معمول کے دنوں میں خوبصورت دکھائی دے؛ محفوظ نظام وہ ہے جو تباہی کے پہلے تیس سیکنڈ میں اپنا فرض ادا کرے۔ پمز کا سانحہ ملک کے دوسرے اسپتالوں کے لیے بھی آخری وارننگ ہونا چاہیے۔ حکومت کو تمام بڑے سرکاری اسپتالوں میں نومولود اور انتہائی نگہداشت کے مراکز کا فوری آزادانہ حفاظتی جائزہ کرانا چاہیے۔ یہ کام اسی انتظامیہ کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو اپنی کارکردگی کی جانچ خود کرے۔ فائر انجینئرز، طبی ماہرین، ریسکیو اداروں اور متعلقہ تکنیکی ماہرین پر مشتمل غیر جانب دار ٹیمیں تشکیل دی جائیں، خامیوں کی درجہ بندی ہو، اصلاح کی مدت مقرر ہو اور ذمے دار افسر کا نام ریکارڈ میں موجود ہو۔
چودہ نومولود بچوں کی موت کے بعد سب سے آسان کام افسوس کرنا ہے۔ اس سے قدرے مشکل کام ذمے داری قبول کرنا ہے، اور سب سے مشکل کام ایسا نظام بنانا ہے جس میں یہی سانحہ دوبارہ نہ ہو۔ قوم کو اب بیانات نہیں، نتائج چاہئیں۔ اگر تحقیق سچ تک پہنچتی ہے، ذمے داروں کا تعین ہوتا ہے، سیاسی و انتظامی جواب دہی یقینی بنتی ہے اور اسپتالوں کے حفاظتی نظام میں حقیقی تبدیلی آتی ہے تو ان معصوم جانوں کی موت کم از کم ایک قومی اصلاح کا نقطہ آغاز بن سکتی ہے، لیکن اگر فائل بند ہوگئی، چند معطلیاں ہوئیں اور زندگی معمول پر آگئی تو شمعیں بجھنے کے بعد اندھیرا پھر وہیں ہوگا۔
ان بچوں نے دنیا میں قدم رکھتے ہی کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ان کے والدین نے صرف اتنا چاہا تھا کہ ان کے بچے محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔ اب ریاست کو ثابت کرنا ہے کہ یہ اعتماد غلط نہیں تھا۔ پمز کی نرسری کے شعلوں نے صرف چودہ چراغ نہیں بجھائے، انھوں نے ہمارے انتظامی نظام کی کمزوریاں بھی روشن کردی ہیں۔ اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم ان کمزوریوں کو پردے میں چھپاتے ہیں یا انھی شعلوں کی روشنی میں پورا نظام بدلنے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔