استعفیٰ کی روایت

آگ لگنا اﷲ کی قدرت نہیں ہے یہ ڈاکٹروں کی بناء پر ہوا۔ کسی ڈاکٹر یا نرس کو خراش تک نہیں آ

پاکستان میں غریبوں کے لیے 26 اگست کی صبح انتہائی منحوس تھی، صبح پونے ساتھ بجے کا وقت تھا۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال پمز میں نوزائیدہ بچوں کے آئی سی یو میں آگ بھڑک اٹھی، اس وقت ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹرز اور دیگر عملہ میں سے وارڈ میں کوئی موجود ہی نہ تھا، اچانک وارڈ میں آگ لگ گئی۔ یہ آگ ایئرکنڈیشن کے وائرنگ شارٹ سرکٹ کی بناء پر لگی۔

اب یہ بتایا جاتا ہے کہ آکسیجن کنٹرول کرنے والے آلے میں آگ لگی جس سے وارڈ میں دھواں پھیل گیا اور بچے براہِ راست متاثر ہوئے۔ وارڈ میں دھواں پھیل گیا۔ جیسے آگ لگی منیبہ نامی بچی اپنی بھابھی کے ساتھ وہیں موجود تھی۔ اس نے جرات کا مظاہرہ کیا۔

دھویں کے باوجود وارڈ میں داخل ہوئی ، اپنے بھتیجے کو اٹھایا اور عورتوں کو باہر نکلنے کا راستہ دکھایا، یوں منیبہ کا بھتیجا بچ گیا ،خبروں کے مطابق عملے کے ایک کارکن نے منیبہ اور دیگر عورتوں کو ایک کمرہ میں بندکردیا، اگر عملہ منیبہ کی طرح بہادری کا ثبوت دیتا تو کئی بچوں کی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔ ایک عورت جو اسپتال کے سامنے اپنے بچہ کی موت کا ماتم کررہی تھی کہتی ہیں کہ ایک گھنٹے تک کوئی ڈاکٹر یا نرسیں وارڈ میں موجود نہیں تھیں۔ وہ عورت یہ الزام لگا رہی تھی کہ وہ 15 دن سے اس اسپتال میں رکی ہوئی ہے۔

گائنی وارڈ میں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں اور کوئی کام بخشش کے بغیر نہیں ہوتا۔ آگ لگنا اﷲ کی قدرت نہیں ہے یہ ڈاکٹروں کی بناء پر ہوا۔ کسی ڈاکٹر یا نرس کو خراش تک نہیں آئی۔ وہ عورت یہ کہہ رہی تھی کہ عملہ وارڈ کے دروازہ پر تالہ لگا کر گیا تھا۔ عملہ بچوں کو نہیں بچا رہا تھا بلکہ بڑوں کو نکال رہا تھا۔ جو واقعات سامنے آئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسپتال میں استعمال ہونے والے طبی آلات ناقص تھے اور یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ طویل عرصے سے ان آلات کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی تھی اور یہ ناقص آلات نوزائیدہ بچوں کے آئی سی یو میں بھی استعمال ہو رہے تھے، اس لیے سب سے پہلے بچے اس کا نشانہ بنے۔

ایک دوسرا سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے اسپتال میں آگ بجھانے کا جدید نظام موجود ہی نہیں تھا۔ اس نظام کے تحت ہر فلور پر متبادل پائپ لگائے جاتے ہیں اور ہنگامی صورتحال میں ان پائپ سے خودکار طریقہ سے پانی آنے لگتا ہے اور آگ بجھانے کا عمل فوری طور پر شروع ہوجاتا ہے۔ ہر فلور پر آگ بجھانے والے فوم کے سلینڈر نصب کیے جاتے ہیں اور کوئی بھی فرد اس سلینڈر سے آگ بجھاسکتا ہے۔ قانون کے تحت ہر اسپتال میں ہر چھ ماہ کے دوران عملہ کی تربیت کے لیے مشقیں ہوتی ہیں۔

ان مشقوں میں نہ صرف عملہ کی شرکت لازمی ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ آگ بجھانے کے متبادل نظام کی جانچ پڑتال بھی کی جاتی ہے اور عملہ کو ان مشقوں میں شرکت پر سرٹیفکیٹ دیے جاتے ہیں۔ آگ لگنے کی صورتحال میں عمارت کی ہر منزل پر باہر نکلنے کا ایک علیحدہ ہنگامی راستہ موجود ہوتا ہے تاکہ اگر بجلی بند ہونے سے لفٹ بند بھی ہوجائے تو بھی عمارت میں موجود افراد باہر نکل سکیں، مگر پمز کی عمارت کے اس حصہ میں متبادل راستہ نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فائر بریگیڈ عمارت کی دیوار کے ساتھ علیحدہ سے سیڑھی لگا کر روشن دان توڑ کر نوزائیدہ بچوں کو باہر نکالنے کی کوشش کرتا رہا، مگر دستیاب حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ پمز کی انتظامیہ اور وزارت صحت کے افسران نے کبھی ان حقائق کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔

پمز ایک ٹیچنگ اسپتال ہے اور شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے منسلک ہے۔ پمز کا نظام چلانے کے لیے ایک بورڈ آف گورنر موجود ہے۔ ڈاکٹر عابد ملک بورڈ آف گورنر کے چیئرمین ہیں، بورڈ آف گورنر میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا کوئی رکن شامل نہیں۔ بورڈ کے تمام گورنر ڈاکٹرز، بیوروکریٹ اور ٹیکنو کریٹ ہیں۔ میڈیکل سائنس کے دو سینئر پروفیسر بھی بورڈ کے اراکین میں شامل ہیں۔ پمز کا سالانہ بجٹ 7.63 بلین روپے ہے۔ اس اسپتال میں کل ایک ہزار 254 بیڈ ہیں۔

اس اسپتال میں ڈاکٹروں کی منظورشدہ اسامیوں کی تعداد 800 کے قریب اور مجموعی طور پر یہاں ایک ہزار 800 ملازمین کام کرتے ہیں ، اس بناء پر بجٹ کے لیے مختص رقم اور عملہ کی تعداد سے اسپتال کی کارکردگی بہتر ہونی چاہیے تھی۔ وزارت صحت کی عمارت کے قریب پمز کی مجموعی کارکردگی مایوس کن ہے۔ 26 اگست کو آتش زدگی کا واقعہ علی الصبح ہوا اور وزیر اعظم شہباز شریف اسلام آباد میں موجود تھے، یوں انھوں نے عید میلاد النبی ﷺ کے دن فوری طور پر ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر اعظم نے سیکریٹری وزارت صحت کو فوری طور پر معطل کر کے اس اجلاس سے جانے کا حکم دیا اور ایک اعلیٰ تحقیقاتی کمیٹی فوری طور پر قائم کردی، یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے ریسکیو آپریشن کی نگرانی کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کے اس طرح کے اقدام کی مثال نہیں ملتی۔  لاہور کے اسپتالوں میں گزشتہ عشرہ کے دوران متعدد دفعہ آتش زدگی کے کئی واقعات پیش آئے۔ جعلی دوائیوں سے مریضوںکی اموات کی خبریں آئیں مگر اس وقت کی حکومتوں نے فوری کارروائی سے اجتناب کیا۔

ہمارے صوبہ سندھ کے تو حالات ہی عجیب ہیں۔ پیپلز پارٹی کے بانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے آبائی علاقہ لاڑکانہ ڈویژن کے علاقہ رتوڈیرو میں ایچ آئی وی پوزیٹو کا مرض پھیلنے سے بہت سے بچے اور مریض متاثر ہوئے تھے۔ تحقیقات میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایک پرائیوٹ پریکٹس کرنے والے ڈاکٹر کے دواخانہ سے سرنج کے مریضوں پر بار بار استعمال سے یہ مرض پھیلا۔ اس ڈاکٹر کو پولیس نے کچھ دنوں کے لیے لاک اپ میں بند کردیا تھا۔ نواب شاہ ڈویژن سے ایچ آئی وی پازیٹو پھیلنے کی خبریں آئیں، مگر سندھ کی حکومت نے طبی ٹیم بھیجنے کے علاوہ کوئی کارروائی نہیں کی۔ سندھ کے محکمہ محنت کے زیر نگرانی سندھ سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن کے اسپتال کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ تک اسپتال کے ڈاکٹر اور کمپوڈر مریضوں کو ایک ہی سرنج سے انجیکشن لگاتے رہے، یوں 150 سے زیادہ نوزائیدہ بچوں سمیت کئی افراد اس موذی مرض میں مبتلا ہوئے مگر اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ اور دیگر عملہ کے علاوہ وزارت صحت کے کسی افسر کے خلاف کچھ نہ ہوا۔

گل پلازہ کراچی میں آتش زدگی کے سانحہ میں 80 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اس سانحہ کی سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج نے تحقیقات کیں مگر سندھ حکومت اس تحقیقاتی رپورٹ کو شائع نہیں کرنا چاہتی، اس بناء پر کئی اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی اور متعلقہ وزیر کے مستعفی ہونا ایجنڈا میں شامل نہیں ہے۔ صحت کے وفاقی وزیر مصطفی کمال کا زیادہ وقت کراچی کو صوبہ بنانے کی تحریک میں جان ڈالنے اور ایم کیو ایم میں اقتدار کی جنگ میں کامیابی کے لیے حکمت عملی بنانے میں صرف ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کا یہ مطالبہ درست ہے کہ پمز میں 14 بچوں کی ہلاکت کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے انھیں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی نئی روایت قائم کرنی چاہیے، اگر انہو ںنے یہ روایت قائم کردی تو سندھ کے وزیر صحت، وزیر محنت اور وزیر اعلیٰ سمیت ملک بھر کے تمام وزراء اور وزرائے اعلیٰ حتیٰ کہ وزیر اعظم کے سامنے یہ سوال اہم ہوجائے گا کہ کسی سانحے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے وہ مستعفی ہوجائیں۔

بائیں بازو کے سینئر کارکن ابراہیم صالح محمد نے اس صورتحال کا یوںخوبصورتی سے تجزیہ کیا ہے ’’دارالحکومت اسلام آباد کے قلب میں، پارلیمنٹ ہاؤس سے محض چند منٹ کے فاصلے پر واقع پمز (PIMS) اسپتال کے چلڈرن وارڈ میں لگنے والی آگ نے پندرہ معصوم بچوں کی زندگیوں کا چراغ گل کر دیا۔

وزیر ِ صحت کی روایتی طفل تسلیاں، انکوائری کمیٹیوں کا قیام اور فائر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار کا ایمرجنسی کرین اور فائر ایگزٹ کے بغیر سیڑھی کے سہارے بچوں کو بچانے کا وہ روح فرسا منظر، یہ سب کچھ کسی دور دراز پسماندہ گاؤں میں نہیں، بلکہ ملک کے سب سے محفوظ سمجھے جانے والے شہر میں ہوا۔ یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں، بلکہ اس بوسیدہ، مفلوج اور مجرمانہ غفلت سے لت پت انتظامی نظام کا نوحہ ہے جس کے سہارے ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل چھوڑ چکے ہیں۔‘‘ ان حادثات کے تدارک کے لیے ضروری ہے کہ پورا نظام تبدیل کردیا جائے مگر اس کمزور نظامِ حکومت میں اس طرح کی تبدیلی کا امکان نہیں ہے۔

Load Next Story