ترک اسرائیل گریٹ گیم کا قصہ
اگست کے وسط میں امریکا نے شام کو دھشت گرد ممالک کی فہرست سے باضابطہ خارج کر کے ملک میں امریکی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کر دی۔اگرچہ معزول اسد حکومت کے برعکس احمد الشرع کی حکومت اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانا چاہتی ہے اور پہلی بار شامی وزیرِ خارجہ اور اسرائیلی انٹیلی جینس موساد کے سربراہ نے اردن کے دارالحکومت عمان میں ملاقات کی ہے۔مگر دونوں میں آخر کیا بات ہوئی ہو گی ؟
اسرائیل نہ صرف شام سے انیس سو سڑسٹھ میں چھینی گئی گولان کی پہاڑیاں باضابطہ ہضم کر چکا ہے بلکہ اس نے شام کے دگرگوں عسکری و سیاسی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نہ صرف اس کی فضائی و بحری قوت کو لگ بھگ ختم کر دیا ہے بلکہ شامی دروز اقلیت کی ’’ ہمدردی ‘‘ میں گولان کی ترائی میں ایک بڑے علاقے پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔دارالحکومت دمشق اس وقت اسرائیلی توپوں کی زد سے صرف اسی کیلومیٹر پرے ہے۔
البتہ شام کی طویل ترین سرحد ترکی سے لگتی ہے۔ترکی پہلا مسلمان ملک تھا جس نے اسرائیل کو اس کے قیام کے سال بھر بعد ہی تسلیم کر لیا تھا۔ دونوں میں ایک عشرے پہلے تک گاڑھی چھنتی رہی۔مگر غزہ اور مغربی کنارے کے المیے ، ترک امدادی کشتیوں پر اسرائیلی یلغار اور ترک ہمسائے یونان اور قبرص کو جدید اسرائیلی اسلحے کی فراہمی اور قبرص میں اسرائیلی یہودیوں کی جانب سے بھاری سرمایہ کاری نے دو طرفہ تعلقات کی آنکھ میں وہ بال ڈال دیا جو شائد ایک عرصے تک نہ نکل پائے۔
شامی پناہ گزینوں کا سب سے زیادہ بوجھ بھی ترکی ہی گذشتہ پندرہ برس سے اٹھا رہا ہے۔ کرد اقلیت کی برس ہا برس انقرہ اور دمشق سے پیکار چلتی رہی۔لیکن اب ترک حکومت اور کرد اقلیت کے مابین صلح جوئی کی فضا بحال ہے جبکہ شام میں بھی مرکزی حکومتوں سے نبرد آزما کرد مسلح ملیشیا نے خود کو قومی فوج میں ضم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
تاہم شام اور ترکی کو استحکام کی جانب لے جانے والی یہ پیش رفت اسرائیل کو ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔ترکی اپنی جنوبی سرحد پر ایک مستحکم شام دیکھنا چاہتا ہے جبکہ اسرائیل ایک ٹوٹا پھوٹا شام دیکھنا چاہتا ہے جو اس کے علاقائی عزائم بالخصوص جنوبی لبنان پر مستقل قبضے کے عزائم میں رکاوٹ نہ بنے۔
مشکل بس یہ ہے کہ اسرائیل کا سرپرستِ اعلی امریکا ترکی کو یکسر نظرانداز نہیں کر سکتا کیونکہ ترکی ناٹو کا کلیدی رکن ہے اور امریکا کے بعد ناٹو میں سب سے زیادہ فوج بھی ترک ہے۔ناٹو کے آرٹیکل پانچ کے مطابق کسی ایک رکن پر کسی غیر ریاست کا حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ اسرائیل کے نزدیک آرٹیکل پانچ کی تشریح یہ ہے کہ اگر ترک سرزمین کو براہِ راست نشانہ بنائے بغیر بیرونِ ملک تعینات ترک فوجی دستوں کو نشانہ بنایا جائے تو پھر ناٹو کا آرٹیکل پانچ شائد حرکت میں نہیں آئے گا۔بیعنہہ جب ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجیوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا تو ناٹو کے دیگر ارکان صدر ٹرمپ کے طعنوں اور برا بھلا کہنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئے۔
چنانچہ اپنے اس نظریے کو آزمانے کے لیے اسرائیلی فضائیہ نے شمالی شام میں ادلب کے قریب ترک سرحد سے ستر کیلومیٹر پرے قائم ابو الدہور ایربیس پر اٹھارہ اگست کو بمباری کی۔جواز یہ پیش کیا گیا کہ ترکی اس بیس پر ایر ڈیفنس سسٹم نصب کرنا چاہ رہا ہے جس سے اسرائیلی عسکری مفادات خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
مگر ترکی کو دراصل یہ پیغام یہ دینا مقصود تھا کہ اگر ہم تمہارے اتنے قریب پھٹک سکتے ہیں تو ’’ غلطی ‘‘ سے تمہارے علاقے میں بھی گھس سکتے ہیں۔ اس نیت کی شہادت خود وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے دی کہ ’’ ہم شام میں بڑھتی ہوئی ترک موجودگی کو اپنے مفادات کے لیے ایک ناقابلِ برداشت خطرہ سمجھتے ہیں۔ہم نے یہ بات انھیں بارہا سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں سمجھے۔شائد اب سمجھ جائیں ‘‘۔
اس اندازِ بیان سے یہ تو عیاں ہو گیا کہ اسرائیل شام کو اپنی باجگذار ریاست کا درجہ دیتا ہے اور ترک طاقت کو اپنے علاقائی عزائم کی راہ میں آخری بڑا چیلنج سمجھتا ہے۔مگر اس اسرائیلی طرزِ عمل سے امریکا کو بھی خوشی نہیں ہوئی۔ترکی میں متعین امریکی سفیر اور شام کے لیے صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے ابو الدہور ایربیس پر اسرائیلی حملہ غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی حرکتوں سے علاقائی امن مستحکم نہیں ہوگا۔اور تو اور اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائک ہکبی جو نیتن یاہو سے بھی زیادہ اسرائیل نواز مشہور ہیں ان تک نے کہا کہ اسرائیلی کارروائی سے کشیدگی میں اضافہ ہی ہوگا لہذا درجہِ حرارت میں کمی ضروری ہے۔
حالانکہ امریکا گذشتہ ایک برس سے شام اور اسرائیل کے مابین کسی باضابطہ امن سمجھوتے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے مگر اسرائیل نے ترک سرحد کے نزدیک ایر بیس پر حملے سے شائد ٹرمپ انتظامیہ کو بھی چیلنج کیا ہے کہ ایران سے معاملات تو آپ نے بالا بالا طے کرنے کی کوشش کر لی مگر شام کے ساتھ معاملات ہمارے مفادات کو نگاہ میں رکھے بغیر آپ سیدھے نہیں کر سکتے۔اس طرزِ عمل پر فی الحال ٹرمپ صاحب بوجوہ کھل کے یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ’’ ہماری بلی ہمیں کو میاؤں ‘‘۔ کیونکہ انھیں ڈھائی ماہ بعد کانگریس کے مڈٹرم انتخابات کا چیلنج درپیش ہے۔
البتہ ترک صدر اردوان نے اسرائیل کے چھچور پن پر ٹھنڈے دل سے تبصرہ کیا کہ ’’ ناگزیر ترک خطرے کا کارڈ دکھانا نیتن یاہو کی انتخابی مجبوری ہے کیونکہ اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں ووٹر کو کچھ تو دکھانا ہے جو اب تک نہ غزہ میں اور نہ ہی لبنان میں دکھایا جا سکا۔ کچھ بھی ہو جائے ہم اپنے دوستوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ہماری خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا فیصلہ کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا۔امید ہے اسرائیلی انتخابی نتائج کے بعد یہ بخار اتر جائے گا ‘‘۔
صرف نیتن یاہو ہی کیا ان کے انتخابی حریف بھی ان دنوں ترک خطرے کا انتخابی منجن بیچ رہے ہیں۔مثلاً سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا ہے کہ اردگان اسرائیل کو گھیرنے کے لیے ایک چالاک حریف ثابت ہو رہے ہیں۔ اردگان ایک ’’ یہود دشمن آمر ‘‘ ہیں۔تل ابیب کی شاہراہوں پر جو انتخابی پوسٹر لگے ہیں ان میں ایران ، ترکی ، حزب اللہ کی قیادت اور نیویارک کے مئیر ظہران ممدانی کو ایک ساتھ دکھایا گیا ہے ۔
ترکی نے جواباً بس اتنا سا نمک چھڑکا ہے کہ اس نے غزہ جانے والے سمود امن فلوٹیلا پر اسرائیلی حملوں میں ترک رضاکاروں کی ہلاکت کا مقدمہ جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت میں دائر کر کے نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کی ہے اور جب سے ترکی ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہوا ہے تب سے اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کے سینے پر مزید سانپ لوٹ رہے ہیں۔
اسرائیل نے شام میں اپنے دانت مزید گاڑنے کے لیے احمد الشرع حکومت کو ہر طرح سے اشتعال دلانے کی کوشش کی مگر انھوں نے ترکوں کے مشورے پر خود کو ٹھنڈا رکھا ہوا ہے۔اسرائیل نے ایرانی کردوں کو ایران میں افراتفری پھیلانے کے لیے مسلح کرنے کی بارہا ناکام کوشش کی ( سی آئی اے نے بھی اس کارِ خیر میں ہاتھ بٹایا )۔حتی کہ ترکی کو ایف تھرٹی فائیو طیاروں کی فراہمی رکوانے کے لیے بھی واشنگٹن میں واویلا کیا کہ اس سودے سے علاقائی توازنِ طاقت بگڑ جائے گا۔مگر صدر ٹرمپ نے یہ دلیل سنی ان سنی کر دی۔
تیزی سے بدلتی علاقائی صورتِ حال میں اسرائیل کو اپنے فوری مقاصد اور عظیم تر اسرائیل کا طویل المیعاد منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کی زیادہ پریشانی ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل کے پاس مستقبل میں خود کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی پلان بی نہیں جبکہ ترکی لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہو رہا ہے۔
(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)