کراچی: زچگی کے دوران نومولود غائب ہونے کا معاملہ، گائنی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ کا بیان سامنے آگیا

طبی معائنے اور لیبارٹری رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ خاتون حاملہ نہیں تھی، ڈاکٹر انجم آرا حسن

کراچی کے علاقے ناظم آباد کے نجی اسپتال میں زچگی کے دوران نومولود بچہ غائب ہونے کے معاملے میں اسپتال کی ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر انجم آرا حسن کا ویڈیو بیان سامنے آگیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق گائنی ڈیپارٹمنٹ کی ہیڈ ڈاکٹر انجم آرا حسن نے بتایا کہ خاتون پہلی مرتبہ فروری میں ان کے پاس آئی تھیں اور اس وقت مریضہ نے بتایا تھا کہ وہ تین ماہ سے حاملہ ہے، تاہم فروری میں کرائے گئے الٹرا ساؤنڈ میں حمل کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ مریضہ نے بعد ازاں اسپتال میں رجسٹریشن کرائی اور اکثر ایمرجنسی میں معائنے کے لیے آتی رہی، تاہم اس نے کبھی ان سے براہِ راست معائنہ نہیں کروایا۔

ہیڈ آف گائنی ڈیپارٹمنٹ کے مطابق مریضہ کی فائل میں معائنے کے اندراج بھی مبینہ طور پر جعلی ہیں جبکہ مریضہ نے کسی دوسرے اسپتال کی ایسی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ پیش کی جس میں اسے حاملہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آپریشن کے بعد معلوم ہوا کہ خاتون حاملہ نہیں تھی جبکہ خاتون کی ایم ایل او رپورٹ بھی سامنے آچکی ہے۔ طبی معائنے اور لیبارٹری رپورٹس سے بھی خاتون کے حاملہ نہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

دوسری جانب تحقیقاتی کمیٹی نے خاتون کے شوہر اور اسپتال کے ڈاکٹرز کو ناظم آباد تھانے طلب کرلیا۔

پولیس کے مطابق تمام افراد کے رات گئے تھانے میں بیانات ریکارڈ کرلیے گئے جبکہ اسپتال انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ڈیلیوری کے دوران بچے کی پیدائش نہیں ہوئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی ٹیکنیکل بنیادوں پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ اسپتال کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ بھی تحویل میں لے لیا گیا۔

پولیس کے مطابق اسپتال کے ریکارڈ سے متاثرہ خاتون کا ڈیٹا چیک کیا جارہا ہے جبکہ ضرورت پڑنے پر اسپتال کے دیگر ملازمین کو بھی تحقیقاتی کمیٹی طلب کرسکتی ہے۔

 

Load Next Story