فیسکو نجکاری: 10 ادارے بولی کیلیے اہل قرار، کے الیکٹرک باہر
نجکاری کمیشن نے فیصل آبادالیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کی نجکاری کیلیے 10 کمپنیوں اور کنسورشیمز کو بولی کے اگلے مرحلے میں شرکت کیلیے اہل قرار دیدیا،چینی کمپنی کومطلوبہ دستاویزات چینی زبان میں جمع کرانے پر نان کمپلائنٹ قرار دیاگیا۔
نجکاری کمیشن کے بورڈ نے وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمدعلی کی زیر صدارت اجلاس میں فیسکوکی نجکاری کیلیے دلچسپی رکھنے والے اداروں کی پری کوالیفکیشن کی منظوری دی۔ اہل ادارے اب نجکاری کے اگلے مرحلے میں داخل ہونگے۔اہل قرار پانے والے اداروں میں تین ترک کمپنیاں،پاکستان کے بڑے کاروباری گروپس شامل ہیں۔
میاں محمد منشا کی سربراہی میں نشاط گروپ کے کنسورشیم کو بھی اہل قرار دیاگیا،جس میں نشاط ملز،نشاط پاور،نشاط چونیاں، لال پیر، پاک الیکٹرون اورکوہ نور انرجی شامل ہیں،سہگل خاندان کی میپل لیف سیمنٹ اورکوہ نور ٹیکسٹائل بھی اہل امیدواروں میں شامل ہیں،دیگر پاکستانی امیدواروں میں داؤدخاندان کی اینگرو انرجی،سیفائرفائبرز،حب پاور ہولڈنگز، لکی سیمنٹ، شیرازی انویسٹمنٹس اور آرٹسٹک ملنرز شامل ہیں۔
دوسری جانب کے الیکٹرک نے فیسکوکی نجکاری کیلیے اپنی ایکسپریشن آف انٹرسٹ واپس لے لی، جس کے باعث وہ پری کوالیفائیڈ امیدواروں کی فہرست میں شامل نہ ہوسکی۔
نجکاری کمیشن کے مطابق کے الیکٹرک نے گزشتہ تین سال کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے جمع نہیں کرائے تھے۔کے الیکٹرک ترجمان کے مطابق کمپنی کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے ملٹی ایٔر ٹیرف کے حتمی تعین تک دستیاب نہیں، جوکمپنی کے اختیار سے باہر معاملہ ہے۔
نجکاری کمیشن نے چین کی جیانگ شی الیکٹرک پاورکنسٹرکشن کمپنی لمیٹڈکو بھی نان کمپلائنٹ قرار دیا، کمپنی پاورکنسٹرکشن کارپوریشن آف چائنا کی ذیلی کمپنی ہے۔
حکام کے مطابق کمپنی نے مطلوبہ تفصیلات پاکستان کی سرکاری زبان انگریزی کے بجائے چینی زبان میں جمع کرائی تھیں۔ کمیشن نے کمپنی کودستاویزات دوبارہ جمع کرانے کیلیے دو ہفتے کاوقت دیا، تاہم مقررہ مدت میں مطلوبہ تعمیل نہیں کی گئی۔
حکومت نے فیسکو سمیت تین بجلی تقسیم کارکمپنیوں کی نجکاری کیلیے حال ہی میں تنظیم نوکے منصوبے کی بھی منظوری دی ہے،منصوبے کے تحت تینوں کمپنیوں کے مجموعی طور پر 911 ارب روپے کے اثاثے نئے خریداروں کو 648 ارب کی ذمہ داریوں کے مقابل منتقل کیے جائیں گے،جس سے خریداروں کو مجموعی طور پر تقریباً 263 ارب روپے کی مثبت ایکویٹی حاصل ہوگی۔
فیسکو کیلیے حکومت نے 290۔5 ارب روپے کے اثاثے منتقل کرنے کے مقابل 226۔5 ارب روپے کی ذمہ داریاں منتقل کرنے کی منظوری دی ہے،جس سے خریدارکوتقریباً 64 ارب روپے کی مثبت ایکویٹی ملے گی،حکومت فیسکو کی تقریباً 73 ارب روپے مالیت کی زمین اپنے پاس رکھے گی۔
فیسکو کے بجلی کی تقسیم کے نقصانات گزشتہ مالی سال تقریباً 8 فیصد رہے،جن کی مالیت تقریباً ایک ارب روپے بتائی گئی ہے۔ حکومت نے فیسکو کے مجاز حصص کے سرمائے کو بڑھاکر 100 ارب روپے کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔
حکومت نے تینوں کمپنیوں کی انتظامیہ کو اگست کے اختتام تک بنیادی زمین کودیگر اثاثوں سے الگ کرنے کی ہدایت کی تھی، تاکہ اسے نئے خریداروں کو لیز پر دیاجاسکے، تاہم یہ ڈیڈ لائن متاثر ہونے کاامکان ہے،حکومت فیسکوکے 51 سے 100 فیصد حصص فروخت کرنے کامنصوبہ رکھتی ہے۔