ایف بی آر نے پاکستان کوسٹ گارڈ کو کسٹمز کے بعض اختیارات تفویض کر دیے
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاکستان کوسٹ گارڈ ،پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے افسران اور فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ/ساوٴتھ) کے اہلکاروں کو بھی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کسٹمز افسران کے مخصوص فرائض اور بعض اختیارات دیدیئے ہیں۔
اس حوالے سے ایف بی آر نے نوٹیفکیشن جاری کردیئے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت یہ بعض اختیارات اور کسٹمز افسران کے مخصوص فرائض تفویض کئے گئے ہیں ایف بی آر کے کسٹمز ونگ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اختیارات فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے جبکہ 7 جولائی 2023 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن نمبر S.R.O. 903(I)/2023 کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکار اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں ساحلی پٹی سے 50 کلومیٹر تک کے علاقے میں مقررہ کسٹمز فرائض انجام دے سکیں گے۔ تاہم شہر کی میونسپل حدود، کسٹمز ایریاز، کسٹمز اسٹیشنز، بندرگاہوں، بارڈر کسٹمز اسٹیشنز، بین الاقوامی ہوائی اڈوں اور بانڈڈ گوداموں سمیت دیگر مخصوص مقامات اس دائرہ اختیار سے خارج ہوں گے۔
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکار کسی بھی حقیقی مسافر کے سامان اور کسٹمز ایریا سے کلیئر ہونے والی اشیا کی چیکنگ نہیں کریں گے۔
نوٹیفکیشن کے تحت کوسٹ گارڈ اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جائز تجارتی اشیا، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈ کو تفویض کیے گئے اختیارات پاکستان کسٹمز کے اختیارات کے متبادل کے طور پر استعمال نہیں ہوں گے بلکہ کسٹمز حکام کی معاونت کے لیے ہوں گے۔
پاکستان کوسٹ گارڈ کے اہلکار ضرورت پڑنے پر کسٹمز افسران کو ان کے فرائض کی انجام دہی میں معاونت فراہم کریں گے ایف بی آر کے مطابق اسمگل شدہ یا اسمگلنگ کے لیے مختص ہونے کے شبہ میں ضبط کی جانے والی اشیا صرف قریبی کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاوٴس یا کسٹمز کلکٹر کی جانب سے منظور شدہ اسٹیٹ ویئر ہاوٴس میں جمع کرائی جائیں گی۔
نوٹیفکیشن میں ضبط شدہ سامان کی رپورٹنگ کا طریقہ کار بھی وضع کیا گیا ہے۔ پاکستان کوسٹ گارڈ کے ہر ونگ کا آفیسر کمانڈنگ ہر ماہ کی پانچ تاریخ تک اپنے متعلقہ علاقے کے کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ)، گڈانی یا کراچی، کو گزشتہ ماہ کی ضبط شدہ اشیا کی تفصیلات فراہم کرے گا۔
رپورٹ میں تحویل یا ضبط کی گئی اشیا اور گاڑیوں کی تفصیل، تحویل اور ضبطگی کی تاریخ اور اس اسٹیٹ ویئر ہاوٴس کا نام اور مقام شامل ہوگا جہاں سامان جمع کرایا گیا ہو۔
نوٹیفکیشن کے مطابق کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کی جانب سے ضبط کی گئی اشیا کی رپورٹ متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ کو سامان تحویل میں لیے جانے کے 15 روز کے اندر بھیجی جائے گی، جبکہ رپورٹ کی ایک نقل متعلقہ کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کو بھی فراہم کی جائے گی۔
ضبط شدہ اشیا یا گاڑیوں کو متعلقہ قانونی فورم کی جانب سے بحقِ سرکار قرار دیے جانے کے بعد متعلقہ کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کسٹمز ایکٹ 1969 کی متعلقہ دفعات، نیلامی کے قواعد اور متعلقہ کسٹمز جنرل آرڈر کے تحت ان کی نیلامی یا تلفی کرے گا۔ ایسی خراب ہونے والی یا دیگر اشیا جنہیں قانون کے تحت فوری طور پر نمٹانا ضروری ہو۔
انہیں بھی متعلقہ کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) کسٹمز ایکٹ اور قواعد کے مطابق نمٹائے گا ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان کوسٹ گارڈ کے مختلف رینکس کے افسران کو کسٹمز ایکٹ کی مخصوص دفعات کے تحت مقررہ اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔
نان کمیشنڈ افسران، جونیئر کمیشنڈ افسران، کمیشنڈ افسران اور کمانڈنٹ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں نوٹیفکیشن کے تحت مقرر کردہ کسٹمز فرائض انجام دیں گے نوٹیفکیشن کے مطابق چیف کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد ہر ماہ پاکستان کوسٹ گارڈ کے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل کے ساتھ رابطہ کاری اجلاس منعقد کریں گے، جس میں کارکردگی کا جائزہ اور باہمی مشاورت کی جائے گی۔
ایف بی آر کے مطابق یہ نوٹیفکیشن 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہے گا۔ اس کی مدت ختم ہونے سے قبل چیف کلکٹر آف کسٹمز (انفورسمنٹ) پاکستان کوسٹ گارڈ کی کارکردگی کے بارے میں ایف بی آر کو رپورٹ پیش کریں گے، جس کی بنیاد پر بورڈ تسلی بخش کارکردگی اور نوٹیفکیشن میں مقرر کردہ شرائط کی تکمیل کی صورت میں پاکستان کوسٹ گارڈ کے آپریشنز میں توسیع کا فیصلہ کر سکے گا۔
دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق ایف بی آر نے پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے افسران کو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بعض اختیارات اور کسٹمز افسران کے مخصوص فرائض تفویض کر دیے ہیں نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے اہلکار اپنے متعلقہ دائرہ اختیار میں تفویض کردہ کسٹمز فرائض انجام دیں گے، تاہم انہیں جائز تجارتی اشیا، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
تفویض کردہ اختیارات پاکستان کسٹمز کے اختیارات کے متبادل نہیں ہوں گے بلکہ کسٹمز حکام کی معاونت کے لیے استعمال کیے جائیں گے ایف بی آر کے مطابق اسمگلنگ کے شبہ میں ضبط کی جانے والی اشیا صرف قریبی کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاوٴس یا کلکٹر کسٹمز سے منظور شدہ اسٹیٹ ویئر ہاوٴس میں جمع کرائی جائیں گی، جبکہ ضبط شدہ سامان کی رپورٹ متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ کو سامان تحویل میں لیے جانے کے 15 روز کے اندر بھجوائی جائے گی اور اس کی نقل متعلقہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کو بھی دی جائے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے ہر ونگ کا آفیسر کمانڈنگ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک ضبط شدہ سامان کی تفصیلات کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) گڈانی یا کراچی کو فراہم کرے گا۔ ضبط شدہ یا بحقِ سرکار قرار دی گئی اشیا اور گاڑیوں کی نیلامی یا تلفی متعلقہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کسٹمز ایکٹ اور متعلقہ قواعد کے تحت کرے گا۔
ایف بی آر کے مطابق چیف کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) اسلام آباد ہر ماہ پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کے متعلقہ ڈپٹی کمانڈر کے ساتھ رابطہ کاری اجلاس منعقد کریں گے۔ نوٹیفکیشن 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہے گا اور اس کی مدت ختم ہونے سے قبل پاکستان میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی کی کارکردگی کی رپورٹ کی بنیاد پر اس کے آپریشنز میں توسیع کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔
اسکے علاوہ تیسرے نوٹیفکیشن کے تحت ایف بی آر نے فرنٹیئر کور بلوچستان (نارتھ/ساوٴتھ) کے اہلکاروں کو کسٹمز ایکٹ 1969 کے تحت بعض اختیارات اور کسٹمز افسران کے مخصوص فرائض تفویض کر دیے ہیں۔ ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق یہ اختیارات بلوچستان میں متعلقہ دائرہ اختیار کے اندر استعمال کیے جائیں گے، جبکہ 24 ستمبر 2024 کو جاری کردہ نوٹیفکیشن منسوخ کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے تحت فرنٹیئر کور کے اہلکار اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مقررہ علاقوں اور شاہراہوں پر کارروائی کر سکیں گے، تاہم انہیں جائز تجارتی اشیا، درآمدات و برآمدات اور عام شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہ ڈالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ اختیارات پاکستان کسٹمز کے اختیارات کے متبادل نہیں ہوں گے بلکہ کسٹمز حکام کی معاونت کے لیے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ کسٹمز کلیئر شدہ سامان اور کسی بھی جائز مسافر کے سامان کی تلاشی نہیں لی جائے گی ایف بی آر کے مطابق اسمگلنگ کے شبہ میں ضبط کی جانے والی اشیا صرف قریبی کسٹمز اسٹیٹ ویئر ہاوٴس یا کلکٹر کسٹمز سے منظور شدہ اسٹیٹ ویئر ہاوٴس میں جمع کرائی جائیں گی۔
ضبط شدہ سامان کی رپورٹ متعلقہ ایڈجوڈیکیشن کلکٹریٹ کو سامان تحویل میں لیے جانے کے 15 روز کے اندر بھجوائی جائے گی اور اس کی نقل متعلقہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کو بھی دی جائے گی نوٹیفکیشن کے مطابق ہر ونگ کا آفیسر کمانڈنگ ہر ماہ کی 5 تاریخ تک ضبط شدہ سامان کی تفصیلات کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) گڈانی یا کراچی کو فراہم کرے گا۔
ضبط شدہ یا بحقِ سرکار قرار دی گئی اشیا اور گاڑیوں کی نیلامی یا تلفی متعلقہ کلکٹر کسٹمز (انفورسمنٹ) کسٹمز ایکٹ اور متعلقہ قواعد کے تحت کرے گا ایف بی آر کے مطابق متعلقہ چیف کلکٹر کسٹمز ہر ماہ فرنٹیئر کور کے متعلقہ انسپکٹر جنرل کے ساتھ رابطہ کاری اجلاس منعقد کریں گے۔
نوٹیفکیشن 30 جون 2027 تک نافذ العمل رہے گا اور اس کی مدت ختم ہونے سے قبل فرنٹیئر کور کی کارکردگی کی رپورٹ کی بنیاد پر اس کے آپریشنز میں توسیع کا فیصلہ کیا جا سکے گا۔