بینائی کے لیے تجرباتی دوا کے حوصلہ افزا نتائج

تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی میں شائع ہوئے ہیں

کیٹالونیا کے انسٹی ٹیوٹ فار بائیو انجینئرنگ (آئی بی ای سی) کی سربراہی میں محققین نے روشنی سے فعال ہونے والی چھوٹے سالماتی ادویات کی ایک نئی قسم تیار کی ہے، جس نے نابینائی کے جانوروں کے ماڈلز میں بینائی کے اہم افعال بحال کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

محققین کے مطابق یہ مرکبات فوٹوریسیپٹرز کے کچھ اہم افعال سنبھالنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ انہیں آنکھ میں انجیکشن کے ذریعے دینے کے علاوہ آئی ڈراپس کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں نہ جینیاتی تبدیلی کی ضرورت ہے اور نہ ہی آنکھ میں کوئی مصنوعی آلہ نصب کرنا پڑتا ہے۔

تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ مرکبات نابینائی کی بنیادی وجہ، یعنی فوٹوریسیپٹرز کے انحطاط، کو ختم نہیں کرتے۔ البتہ، یہ متاثرہ ریٹینا میں بصری نظام کو دوبارہ فعال کرنے میں مؤثر ثابت ہوئے ہیں۔

محققین نے خاص طور پر ایسا سالماتی طریقہ اختیار کیا ہے جو صحت مند ریٹینا کے قدرتی نظام کے قریب ہو۔ مقصد ریٹینا کے اعصابی نظام کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے اسی مقام پر دوبارہ فعال کرنا ہے جہاں تباہ ہونے والے فوٹوریسیپٹرز کام کرتے تھے۔

ابتدائی تجربات میں مرکبات نے حفاظت کے حوالے سے بھی حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں، جس کے باعث مستقبل میں انہیں بینائی بحال کرنے والی ممکنہ انسانی تھراپی کے طور پر تیار کرنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔

تحقیق کے نتائج جرنل آف دی امریکن کیمیکل سوسائٹی میں شائع ہوئے ہیں۔

Load Next Story