معاشی نا انصافی

معاشی انصاف کا مطلب صرف آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ کی منصفانہ تقسیم ہوتا ہے

معاشی نا انصافی کے معنی ہیں مالیاتی یا معاشی تفاوت اور سرمایہ کی غیر منصفانہ تقسیم اس کے بنیادی تین نکات ہیں ۔

1۔ سرمایہ کی غیر منصفانہ تقسیم: اس سے مراد معاشرے میں دولت کا چند لوگوں کے پاس سمٹ جانا اور عام لوگوں کو وسائل سے محروم رکھنا ہے۔

2 ۔ مالی عدم مساوات: غریب اور اشرافیہ کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج اور آمدنی کا یکساں مواقع نہ ملنا۔

3۔معاشی استحصال: غریب و کمزور لوگوں کی محنت کا پورا صلہ نہ دینا اور وسائل پر اشرافیہ کا مکمل قبضہ ہونا ہے۔

اقوام متحدہ معاشی نا انصافی اور عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے پائیدار ترقی کے اہداف مساوی مواقع اور قدرتی وسائل کی شفاف اور منصفانہ تقسیم کے اصولوں پر زور دیتا ہے تاکہ اقوام عالم میں غربت اور معاشی استحصال کا خاتمہ کیا جا سکے۔

پاکستان کے دستوری و قانونی ڈھانچے میں معاشی انصاف پر زور کے باوجود بدقسمتی سے معاشی انصاف کے لیے درکار پالیسیوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا اور ریاست غربت اور معاشی تفاوت کم کرنے کے لیے درکار مالی وسائل مختص کرنے میں پوری طرح ناکام رہی جو کہ ملک میں معاشی نا انصافی اور استحصال کے بنیادی عوامل ہیں۔

معاشی انصاف کا مطلب صرف آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ سرمایہ کی منصفانہ تقسیم ہوتا ہے ،حکومت کی یہ اولین ترجیح ہونی چاہیے کہ بجٹ مختص کرتے وقت عوام کی بنیادی معاشی ضروریات کا خیال کرے مزید یہ کہ وفاقی حکومت کا مالیاتی حجم اٹھارھویں ترمیم کی نسبت سے کم کیا جائے اور اشرافیہ کی آمدنی کو ریگولر ٹیکس کے نظام میں لایا جائے۔

پاکستان کے بگڑتے معاشی ماحول کی بدولت عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے جس سے آگے چل کر مزید مسائل پیدا ہوں گے ۔آج عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ،حکومت کو چاہیے کہ وہ معاشی انصاف کے لیے فوری طور پر اقدامات اٹھائے۔

معاشی انصاف کی عدم دستیابی کے باعث ایک عام فرد کی زندگی بے حد دشوار ہو چکی ہے اگر فوری طور پر ہنگامی اقدامات نہیں اٹھائے گئے ،اس سلسلے میں تو حالات دن بدن اور خراب ہوتے جائیں گے ،وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا ہے ۔ایک غریب کا پاکستان اور دوسرا اشرافیہ کا پاکستان ۔

راقم الحروف دخترحبیب جالب، طاہرہ حبیب جالب کی زندگی میں ہونے والے کچھ واقعات کا ذکر کرنا چاہے گا، پوری قوم حبیب جالب کی شاعری اور ان کی معاشی مزاحمتی تحریک کے بارے میں جانتی ہے، حبیب جالب نے اپنی ساری زندگی میں معاشی نا انصافی کے خلاف جدوجہد کی اور کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے ،انھوں نے ساری عمر محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالا۔

حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ حبیب نے بھی اپنے والد محترم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے محنت مزدوری کی ۔وہ ان ڈرائیو چلایا کرتی تھی ،گاڑی لینے کے لیے انھوں نے حکومت وقت سے قرض لینے کے لیے درخواست دی لیکن بدقسمتی سے ان کی درخواست ری جیکٹ ہو گئی پھر انھوں نے اپنے حلقہ احباب سے قرض لے کر گاڑی لی اور ان ڈرائیو پر ڈرائیور بن کر گاڑی چلائی اور اپنا گزر بسر کرنے لگی۔

لیکن آئے روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث انھوں نے یہ کام بند کر دیا، پھر انھوں نے ڈی سی صاحب کو ایک درخواست دی جس میں انھوں نے ماڈل ریڑھی اور چھوٹا موٹا ڈھابہ کھولنے کی اجازت مانگی جس سے وہ گھر میں بنی ہوئی صاف ستھری کھانے پینے کی اشیاء لگانا چاہ رہی تھی جس سے ان کا گزر بسر ہو مگر بدقسمتی سے حبیب جالب کی صاحبزادی کو ڈھابہ لگانے کی بھی اجازت نہیں ملی۔

پھر انھوں نے تنگ آ کر اپنے طور پر ایک دال چاول کا ڈھابہ لگا لیا مگر بدقسمتی سے ہمارا نظام حکومت اس قدر ظالم ہو چکا ہے کہ انھوں نے حبیب جالب کی صاحبزادی کو ڈھابہ لگانے بھی نہیں دیا اور میونسپل کارپوریشن کے عملے نے انھیں وارننگ دی کہ وہ کل سے ڈھابہ نہ لگائیں۔ طاہرہ حبیب جالب کو پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی اپنا عہدے دار بنایا ہے پنجاب میں ،مگر بدقسمتی سے انھیں اپنا گھر چلانے کے لیے کوئی بھی عملی طور پر امداد نہیں کر رہا ہے۔

میری تو یہ خواہش ہے کہ میرا کالم شائع ہونے سے پہلے طاہرہ حبیب جالب کا مسئلہ حل ہو جائے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں ایک عام آدمی محنت مزدوری بھی نہیں کر سکتا؟ کیا قانون صرف ایک عام آدمی کے لیے ہے؟

اشرافیہ کے لیے کوئی قانون اس ملک میں نہیں؟ دختر حبیب جالب کے ساتھ اس پاکستان میں یہ حال ہے تو آپ سوچیں عام شہریوں کا کیا حال ہوگا؟ اسی طرح کا ناروا سلوک محترمہ فاطمہ علی جناح کے ساتھ بھی اشرافیہ نے کیا تھا ۔کیا یہ ملک اشرافیہ کے لیے بنا ہے؟ غریب اکثریت میں ہونے کے باوجود وسائل سے محروم ہیں ۔اس موقع پر حبیب جالب کا ایک مشہور شعر پیش خدمت ہے ۔

اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو

سجدے میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

ہر شخص سر پر کفن باندھ کے نکلے

حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی

اشرافیہ اور عوام میں بڑھتی ہوئی خلیج آگے جا کر معاشرے میں ایک سنگین بگاڑ پیدا کر سکتی ہے، اگر یہ خلیج دن بدن مزید بڑھتی گئی تو کوئی بھی ایوان اقتدار اپنی جگہ پر قائم و دائم نہیں رہے گا ۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ،نو کروڑ عوام غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایک عام آدمی دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھا سکتا۔

سب اچھا ہے سب اچھا ہے کا راگ الاپنے والے ہمارے حکمران درحقیقت عوام سے اور ملک سے وفادار نہیں ہیں یہ صرف اپنے معاشی مفادات کی خاطر اقتدار میں آتے ہیں اور مالیاتی لوٹ کھسوٹ کرپشن کر کر چلے جاتے ہیں، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ با اختیار طبقہ حکمرانوں کے معاملات پر باریک بینی سے نظر رکھے اگر لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کا یہ سلسلہ اب نہیں روکا گیا تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ آگے جا کر عوام میں مزید بے چینی پیدا کرے گا جو کسی کے حق میں نہیں ہوگی۔

مقتدر اداروں کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ حکمرانوں کو گائیڈ لائن دیں تاکہ معاشرے سے معاشی نا انصافی کا خاتمہ ہو ،اگر بروقت اس سلسلے میں اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو عوامی سخت مزاحمت سامنے آئے گی۔

Load Next Story