درد کی چٹختی ٹیسیں

صحت کے ایسے ہی غیر ذمے دار وزیروں کو یہ دیس دہائیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہے

Warza10@hotmail.com

وہ سانحہ ہی کیا کہ جس میں آنکھیں نہ پتھرائیں اور آنکھوں کا سیل رواں بہنے سے پہلے معذرت کر لے،وہ بصارت ہی کیا جو درد اور دکھ کے بین سننے سے انکاری ہو جائے،وہ وجود بھلا کیسے استقامت پر کھڑا رہے جو اپنے لرزنے اور مزاحمت کرنے سے اپنا رشتہ توڑ لے۔

پاکستان ایسے سماج میں جب سوچنے، سمجھنے،دیکھنے اور اپنے حقوق لینے کے لیے چیخ ہی بے آواز کر دی جائے اور احساس کرنے کی نسوں کی ہی نس بندی کر دی جائے تو احساس بھلا مرنے کی طرف نہ جائے تو کیا کرے؟

جب ہماری ریاست ہی پچھلے 79 برس سے عام آدمی کے احساس کو ’’ریاستی بیانیے‘‘ کے پر فریب نعرے میں چابک مارنے پر تلی رہے تو اس سماج میں نئے خیالات کی کونپلیں کیسے پھوٹیں گی؟

جب ریاست ہی احساس سے بانجھ کر دی جائے تو چاہے نومولود مرے،شیر خوار مرے یا کوئی کڑیل جوان اپنی زندگی سے ہاتھ دھوئے تو اس پر کف افسوس کے بیان تو آسکتے ہیں، مگر ان ماؤں کی خالی گود کے دکھ درد کو محسوس کرنے سے قوم غافل اور بے حس ہی رہے گی،برسوں سے یہی کچھ تو ہو رہا ہے ہمارے اس انسانی بے توقیر سماج میں جب کہ صورتحال آج بھی جوں کی توں ہے۔

بدھ اور جمعرات کی شب ’’پمز اسپتال‘‘ کی انتظامیہ نے نومولود والدین اور لواحقین کو جب یہ بتایا ہوگا کہ ان کے نومولود بچوں کی بہتر طبی صحت مند امداد کے لیے پمز اسپتال کے تیسرے مالے پر ’’چائلڈ ہیلتھ سینٹر‘‘ میں رکھ کر ان کی زندگیوں کو مزید بہتر کیا جائے گا تو یقینا نومولد بچوں کے والدین نے سکھ کا سانس لیا ہوگا کہ اب ان کے نومولود بچے صحت مند زندگی کے لیے محفوظ ترین مقام پر ہیں۔

لہٰذا نومولود بچوں کے والدین کسی حد تک پر سکون ہوچکے ہوں گے،انھیں کیا پتہ تھا کہ ان کا وقتی سکون ان کی زندگی کا وہ روگ اور دکھ بن جائے گا جو ان کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کے بعد بھی شاید زندگی بھر مندمل نہ ہو سکے گا۔

نومولود بچوں کے والدین جب پمز اسپتال میں دو گھڑی سستانے کی غرض سے اسپتال کے کسی خاموش گوشے میں جا چکے ہوں گے تو انھیں کیا علم ہوگاکہ اچانک رات کے پچھلے پہرکی انسانی چیخوں اور اسپتال کے بچوں کے نگہداشت کے کمروں سے آگ کے شعلے بھڑکیں گے اور نومولود بچوں کے والدین تمام تر کوششوں اور آرزؤں کے باوجود پمز اسپتال کی انتظامیہ کے رحم و کرم پر ہوں گے اور چشم زدن میں زندگی کو توانا کرنے کی غرض سے انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے والے14 بچے زندگی سے ہاتھ دھوکر اپنے والدین کو درد کا ساکت بت بنا جائیں گے۔

پمز اسپتال کے منتظمین سے لے کر صحت کے وزیر تک صرف اس سانحے کی صفائیاں پیش کرنے کے علاوہ کسی بھی طرح کے عملی اقدامات سے نہ صرف گریز پا دکھائی دے رہے ہیں بلکہ ایک وجہ کے بعد دوسری وجہ گڑھنے یا بتانے کی کوشش میں عوام کا اعتبار کھوتے جا رہے ہیں۔

پہلے انتظامیہ کی طرف سے کہاگیا کہ اسپتال کے بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں انکی زندگیوں کو محفوظ کرنے کی غرض سے 15 بچے وارڈ میں شفٹ کیے گئے تاکہ انکے تنفس کے نظام کو مطلوبہ گیس کی فراہمی دی جائے تاکہ بچوں کی زندگی کو لاحق خطرات سے روکا جائے۔

پھر انتظامیہ کا موقف تبدیل ہوا کہ دراصل وارڈ میں گیس کی فراہمی کے آلات میں شارٹ سرکٹ کے نتیجے میں اس کی تپش سے گیس کی فراہم کردہ نالیوں یا نظام میں آگ پہنچ گئی جسکے نتیجے میں آگ تیزی کے ساتھ پھیل گئی اور چشم زدن میں نومولود بچے بھسم ہو گئے۔

جب کہ رپورٹ کے مطابق بچوں کے وارڈ میں آگ سے بچاؤ یا کسی ممکنہ حادثے کی صورت میں فوری امداد کی فراہمی کے لیے کوئی ایسا اخراج کا نظام نہیں تھا کہ جس کے ذریعے بچوں کو موت سے بچایا جائے،جب کہ صحت کے وزیر موصوف پوری قوم کے سامنے اسپتال کی انتظامیہ کی نا اہلی اور کوتاہی کو بچانے کے لیے بس ایک ہی راگ الاپ رہے تھے کہ ’’چونکہ پمز اسپتال میں سالوں سے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا کوئی موثر انتظام نہیں تھا،اور پمز اسپتال میں مریض گنجائش سے زیادہ آتے ہیں ،لہٰذا اکثریت کو بر وقت طبی امداد دینا اسپتال کی گنجائش سے زیادہ ہے۔

ان کے مطابق ایسے سانحات کا ہونا ایک امر مجبوری ہے،گویا صحت کے وزیر موصوف جب اسپتالوں کی گنجائش بڑھانے یا حکومت سے گنجائش کی سفارش کرنے میں بھی بے بس و لاچار ہیں تو پھر وہ خود مستعفی کیوں نہیں ہو جاتے؟

جب کہ دوسری جانب صحت کے مذکورہ وزیر سینیٹ اجلاس میں فارماسیٹیکل کمپنیوں کی دوائیوں کی قیمتیں نہ بڑھنے پر بہت دل گرفتہ تھے کہ دواؤں کی قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے بہتر معیار کی دوائیں وافر مقدار میں دستیاب نہیں ہو پاتیں جس کی وجہ سے اسپتال اور مریض پریشانی سے دو چار ہوتے ہیں۔‘‘

اب ذرا غور کیجیے کہ جوصحت کا وزیر 14نومولود بچوں کی ناگہانی موت پر اپنی غفلت اور انتظامیہ کی نا اہلی کے بجائے دوائیوں کی قیمتیں بڑھانے پر دلیل دیتا رہے ،وہ صحت کا وزیر کتنا درد دل رکھنے والا یا علاج معالجے کو سمجھنے والا ہوگا؟

صحت کے ایسے ہی غیر ذمے دار وزیروں کو یہ دیس دہائیوں سے دیکھتا چلا آرہا ہے مگر ان سب کے باوجود کوئی حکومت صحت،تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے پر راضی نظر نہیں آتی،گویا کہ ہمارا دیس قومی اسمبلی سے لے کر سینیٹ تک میں گزشتہ آٹھ دہائیوں سے فارم 47 پر چلایا جا رہا ہے۔

 سوچتا ہوں کہ کیا یہ قوم صرف بڑے بڑے سانحات کے لیے پیدا ہوئی ہے کہ جب دیکھو حکومت یا اداروں کے افراد کی نا اہلی یا غفلت کی وجہ سے کوئی نہ کوئی سانحہ جنم لے لیتا ہے اور ابھی ایک سانحے کے اسباب ہی تلاش کیے جا رہے ہوتے ہیں کہ دوسرا سانحہ جنم لے کر پہلے والے سانحے کو بھلادینے کا بہترین سبب بن جاتا ہے۔

وفاق کے سب سے بڑے اسپتال ’’پمز‘‘ میں 14 نومولود بچوں کی موت کی خبر نے درد دل رکھنے والے تمام افراد کو پھر سے ایک ایسے سانحے کی جانچ پڑتال اور والدین کو انصاف دلانے کی جدوجہد پر مائل کر دیا ہے کہ جہاں درد دل رکھنے والا ہر شخص موہوم سی امید لیے ’’ریاست‘‘سے انصاف اور احتساب کا منتظر نظر آتا ہے،کیا انصاف اور احتساب کے ان خواہاں افراد کو واقعی ریاست مطمئن کر پائے گی یا پھر بے ابتر ی کا یہ سماج امیدوں کے کڑوے گھونٹ پینے پر دوبارہ آمادہ کر دیا جائے گا؟

سوال یہ ہے کہ ہم یا ہماری نسلیں کب تک لاقانونیت اور اداروں کے کڑے احتساب کے پر فریب نعروں میں اپنے پیاروں کے جنازے اٹھاتے رہیں گے؟کب تک عوام کو سہولیات پہنچانے والے اداروں کے نظم و ضبط میں نہ ہونے کا رونا پیٹ کر اداروں کے ذمے داران کو تحفظ فراہم کیا جاتا رہے گا؟

وہ کونسا دن مہینہ سال ہوگا جب عوام ایک بھی سانحے کے وقوع پذیر نہ ہونے کو دیکھیں گے؟لاقانونیت سے لے کر نا انصافی میں ریاست کے اداروں کے ذمے دار افراد جب خود ملوث ہو جائیں تو کیا اس سماج سے بیروزگاری ختم کی جا سکتی ہے۔

عوام کی معاشی ضرورت بہتر کی جاسکتی ہے،کیا عوام کو دروازے پر اور ریاستی خرچے پربہتر صحت فراہم کی جا سکتی ہے یا کیا نسل کومفت تعلیم کی سہولت ریاست کے فرائض کے طور پر دی جا سکتی ہے،کیا اس اعلیٰ طبقاتی نظام کی ریاست سے عوام کے نومولود سے لے کر جوانوں کی لاشیں نہ لینے اور بیٹیوں کی عزت نفس برقرار رکھنے کی ذمے داری لی جا سکتی ہے؟

Load Next Story