خوشی اور غم کا منبع

موت برحق ہے، ہم سب کو اس دنیا کو ایک نہ ایک دن خیرباد ضرورکہنا ہے

کہا جاتا ہے کہ حیات بشر خوشی و غم کا منبع ہے مگر آج کے پرآشوب دور میں خوشیوں کے لمحات کم ہیں اور غموں کا تناسب کچھ زیادہ ہے۔ میرا قلم افسردگی کی ایک عجب سی کیفیت میں مبتلا ہو کر کچھ سطریں زیر تحریر لانے کی جسارت کر رہا ہے۔

کہتے ہیں جس پر غم کا یہ پہاڑ ٹوٹتا ہے، وہ اس دکھ کی اتھاہ گہرائیوں کی حقیقت کو خوب سمجھتا ہے۔ بہر حال یہ اوپر والے کے اٹل فیصلے ہیں جس کو صحت کے ساتھ زندگی عطا کرے اور جس کو اپنے پاس دیر بدیر بلا لے۔ ویسے بھی اگر دیکھا جائے تو دنیا میں زیادہ قیام بھی گناہوں کے بوجھ میں اضافے کا موجب ہے۔ کہتے ہیں دنیا میں تکلیف سہہ کر آخرت کے لیے زیرو میٹر ہو جاتا ہے اور اس کے گناہ اللہ تعالی معاف فرما دیتا ہے ۔

موت برحق ہے، ہم سب کو اس دنیا کو ایک نہ ایک دن خیرباد ضرورکہنا ہے کیونکہ دنیا فانی ہے۔ گزشتہ ماہ اس خاکسار کی اکیس سالہ بھتیجی سیدہ کنول فاطمہ نقوی ڈیڑھ سال کے طویل عرصے تک خون کے مہلک عارضہ میں مبتلا رہنے کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملی۔

موجودہ زمانہ کاالمیہ ہے کہ اس غم سے ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد ضرور دوچار ہوا ہے۔ یہ ایسا موذی اور اذیت ناک مرض ہے کہ روپے پیسے کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باوجود مریض اپنی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

والدین نے بچی کی صحت یابی کے لیے ہر طرح سے جتن کر لیے، مگر افسوس وہ جانبر نہ ہو سکی۔ حتی ٰکہ کیمو تھراپی ، بون میرو اور نہ جانے ان گنت تعداد میں خون کی بوتلیں جو دوست احباب نے عطیہ کی تھیں، سب کی سب مریضہ کو منتقل کر دی گئیں ۔

یہ ایک ایسا موذی اور جان لیوا مرض ہے کہ انسان کی روح تک کانپ جاتی ہے۔ متذکرہ مریضہ کی بھی کچھ یہی کیفیت تھی ۔مرحومہ اس خاکسار کے سب سے چھوٹے بھائی سید ظفر عباس نقوی کی اولاد میں سب سے بڑی تھی اور جامعہ کراچی میں بین الاقوامی تعلقات کے شعبے میں زیر تعلیم تھی۔ بڑی اولاد ہونے کے ناتے موصوف نے بڑے چاہت اور لاڈ پیار سے اس کی تربیت کی تھی کیونکہ بیٹی کو رحمت خداوندی کا درجہ عطا کیا ہے، جس کی مثال ہمارے پیاری نبی آنحضرت محمد ﷺ کی عزیز ترین دختر حضرت بی بی فاطمۃالزہرہ سلام اللہ علیہ ہیں۔

اس وقت جدید طبی سائنس کی دنیا کے حوالے سے دیکھا جائے تو گردوں کی دائمی بیماریاں ، کارڈیولوجی اور سب سے زیادہ خطرناک جان لیوا خون کا سرطان (کینسر) جیسی بیماریاں آج کل سر فہرست ہیں۔ گردوں اور کارڈیو کا کسی حد تک علاج ممکن ہو چکا ہے مگر خون کے عارضہ کا علاج اس جدید سائنسی دور میں ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔

موجودہ شماریاتی تجزیہ کے مطابق انھی تین امراض کے نتیجے میں ہونے والی انسانی اموات کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔ بد قسمتی سے اس ملک میں علاج معالجے کی مد میں سرکاری سطح کا بھی حال کچھ تسلی بخش نظر نہیںآتاجب کہ قدیم زمانہ کی جان لیوا امراض میں دمہ، تپ دق، ٹائیفائیڈ، ملیریا، خسرہ، ڈفتھیریا، انفلوئنزا، پولیو، چیچک اور طاعون قابل ذکر تھیں۔

قدیم زمانہ میں آ ج کی طرح جدید میڈیکل سائنس اور جدید فارمیسی اور علاج معالجہ میں استعمال ہونے والے سرجیکل آلات موجود نہ تھے۔ یہ زمانہ وہ تھا کہ جب مستند حکما جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ یونانی ادویات سے کیا کرتے تھے۔

مستند حکیم تجربہ کی بنیاد پر اتنے ماہر تھے کہ وہ مریض کی صرف نبض چیک کرکے امراض کا پتہ چلا لیا کرتے تھے اور اس کا کسی حد تک علاج بھی کر لیا کرتے تھے۔زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان خطرناک بیماریوں کے علاج کا سد باب کسی حد تک کا مختلف اقسام کی ویکسین سے ممکن ہو رہا ہے جو کسی حد تک موثر ثابت ہو رہا ہے۔ ایسے امراض عمر کی قید نہیں رکھتے، یہ انسان کی عمر کے کسی بھی حصہ میں لگ سکتے ہیں۔

 آج کل کمسن بچے اور بچیاں ، نوجوان اور درمیانی عمر کے صحت مند افراد بھی ان بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان بیماریوں کی پھیلاؤکی رفتار میں دن بدن تیزی آ رہی ہے۔ان بیماریوں کی افزا ئش کی مختلف وجوہا ت سامنے آ رہی ہیں۔

معاشرے میں بڑھتی ہوئی مادیت پرستی (ہوس زر) اس کی سب سے بڑی بنیادی وجہ ہے۔ رشوت ستانی، ناجائز منافع خوری، اشیائے خوردنی میں زہریلے مادہ اور کیمیائی اجزا کی ملاوٹ انسانی جانو ں کو شدید خطرہ لاحق ہے۔

نوبت تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جان بچانے والی ادویات جعلی اور مہنگے داموں بازار میں برائے فروخت ہیں۔ دوسری وجہ لوگوں کا طرز زندگی بھی بدل چکا ہے۔مشینوں کی ایجاد نے حضرت انسان کو سست الوجود بنا کر رکھ دیا ہے۔

زمانہ قدیم کا دور بھی کیا خوب تھا جب کھانا مٹی کے برتنوں میں پکایا جاتا تھا اور گیس کی بجائے لکڑی، کوئلہ یا مٹی کا تیل ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا ۔ لطف کی بات یہ کہ ان کھانوں میں بہترین ذائقہ ہو ا کرتا تھا۔

مصالحہ جات اور مختلف اقسام کی چٹنیاں پتھر کے سل بٹے پر پیسی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں پانی چکنی مٹی سے تیار کردہ مٹکے سے یا صراحی سے پیا جاتا تھا۔ ہینڈ پمپس اور کنوئیں سے پانی حاصل کیا جاتا تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ مائیں اپنے شیر خوار بچوں کو اپنا دودھ پلایا کرتی تھیں جو بچے کی صحت کا ضامن ہوا کرتا تھا۔ آج کل زیادہ تر مائیں اپنے نومولودہ بچوں کوڈبے کے دودھ پلوا رہی ہیں جو بچے کی صحت کا ضامن ہر گز نہیں ہے۔

آج سب کچھ اس کے برعکس ہو چکا ہے۔ مرد حضرات صحت و توانا ہوا کرتے تھے اور ایک سے زائد ازواج کے مالک ہوا کرتے تھے۔ ایلوپیتھی علاج کی بجائے حکمت کا رواج تھا۔ کھانا گھروں کی عورتیں خود پکاتی تھیں ،آج کی طرح بازاری کھانوں کا رواج کا فقدان تھا۔

بازاری اور مرغن کھانوں نے بھی انسان کی جسمانی صحت میں بگاڑ پیدا کیا ہے۔ آج کل معاشرہ کے ہر خاص و عام میں برگر ، پیزا اور مرغی کے گوشت سے تیارشدہ زنگر جیسے کاروباری جنک فوڈخوری کا رواج عام ہو چکا ہے۔

اس ضمن میں عوام میں ان فوڈ کمپنیوں نے نت نئے پرکشش رعایتی پیکیجز مارکیٹ میں متعارف کر وائے ہیں۔ سب سے خطرنا ک امر یہ ہے کہ یہ وبا ہمارے نوعمر بچوں میں تیزی سے سرایت کر چکی ہے وہ سبزی اور دال جیسے دیسی گھریلو کھانوں کی طرف رغبت سے عاری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب انسان کی عمر پچاس برس سے زیادہ نہیں رہی۔ پچاس برس سے تجا و ز پر سمجھ لیں کہ آ پ کی بقیہ زندگی بونس پر قائم ہے۔ اللہ تعالی اپنی رحمتوں کا نزول حضرت انسان پر قائم رکھے ۔ (آمین)

Load Next Story