حکومت کی بڑے ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی مہم تیز

بڑے ریٹیلرز کی تعداد میں 31 فیصد اضافہ، ایف بی آر کو 87 کروڑ 10 لاکھ حاصل

اسلام آباد:

حکومت کی جانب سے بڑے ریٹیلرز کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے کی مہم نے گزشتہ مالی سال کے دوران ایک بار پھر رفتار پکڑ لی، جس کے نتیجے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام سے منسلک کاروباری اداروں کی تعداد 17 ہزار 337 تک پہنچ گئی۔

ایف بی آرکے اعداد و شمارکے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پی او ایس نظام سے منسلک بڑے ریٹیلرزکی تعداد میں ایک سال کے دوران 4 ہزار 124کااضافہ ہوا، جو تقریباً 31 فیصد بنتا ہے۔

بڑے ریٹیلرزکو پی او ایس نظام سے منسلک کرنے کی اسکیم دسمبر 2019 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ پی او ایس کے ذریعے جاری ہونیوالی ہر خریداری کی رسید پر ایف بی آرکو ایک روپے کی رقم بھی حاصل ہوتی ہے، جو ٹیکس حکام کے مطابق افسران کی فلاح و بہبودکیلیے استعمال کی جاتی ہے۔

سرکاری اعدادوشمارکے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ایف بی آر نے پی او ایس رسیدوں سے 87 کروڑ 10 لاکھ روپے حاصل کیے، جو اس سے پچھلے مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 17 فیصد زیادہ ہیں۔

پی او ایس نظام کے تحت دکان یاکاروباری مرکز سے بل الیکٹرانک طور پر جاری ہوتاہے اور اسی وقت اس کی ایک کاپی ایف بی آر کوموصول ہوجاتی ہے۔

اس طرح کاروبارکیلیے بعدمیں فروخت کاکم حجم ظاہرکرنامشکل ہوجاتاہے،کیونکہ لین دین کاریکارڈ پہلے ہی ایف بی آرکے پاس موجودہوتا ہے،تاہم حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی چھوٹے تاجروں کی اسکیم نے ریٹیل شعبے کی ڈیجیٹل دستاویز بندی کے عمل پرسوالات کھڑے کردیے ہیں۔

نئی اسکیم کے باعث اس حدکے مقابلے میں چھوٹے تاجروں کیلیے 20 کروڑروپے تک کی سالانہ فروخت کی گنجائش پیداہوگئی ہے۔

نئی اسکیم کے تحت چھوٹے تاجروں سے انکی سالانہ فروخت پر صرف ایک فیصدٹیکس وصول کیاجائیگا۔ایف بی آر کے مطابق پی او ایس نظام سے منسلک ریٹیلرزکی تعدادمیں ایک تہائی اضافے کے ساتھ ان سے حاصل ہونیوالے ٹیکس میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

گزشتہ مالی سال کے دوران ان ریٹیلرزسے 132 ارب روپے ٹیکس وصول ہوا۔حکام کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 236 جی اور 236 ایچ کے تحت ودہولڈنگ ٹیکس کی نئی حدمقررکرنے سے بھی پی او ایس نیٹ ورک کے دائرہ کار میں اضافہ ہوا،ایف بی آرکی توجہ بالخصوص ریسٹورنٹس، ٹیکسٹائل اورگارمنٹس کی دکانوں پرمرکوز ہے،تاہم خدمات فراہم کرنیوالے کاروباروں کی بڑی تعداداب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔

ٹیکس حکام کے مطابق ڈاکٹرز اوردیگر پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے افرادحقیقی آمدن اور لین دین ظاہرکرنے پر آمادہ نہیں اورکلینکس و اسپتالوں کوالیکٹرانک بلنگ نظام سے منسلک کرنے کی مزاحمت کررہے ہیں۔

ایف بی آر حکام کاکہناہے کہ الیکٹرانک بلنگ یکساں معیار ہے،اسکامقصدکسی مخصوص پیشے کو نشانہ بنانانہیں،دکانداروں اور ریسٹورنٹس کونظام میں شامل کرنے سے ٹیکس واجبات میں نمایاں اضافہ ہواہے۔

Load Next Story