عراق کا بڑا سفارتی قدم، ایران اور امریکا میں معاہدے کیلئے ثالثی کی پیشکش
بغداد: عراقی وزیراعظم کے سکیورٹی مشیر قاسم الاعرجی نے کہا ہے کہ عراق ایران اور امریکا کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی ایسے معاہدے کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کررہا ہے جو پورے خطے کے حقوق اور مفادات کو یقینی بنائے۔
الجزیرہ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں قاسم الاعرجی نے کہا کہ عراق کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ ان تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عراق کی خواہش ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بات چیت آگے بڑھے اور ایسا معاہدہ طے پائے جو صرف دونوں ممالک ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفادات اور حقوق کو مدنظر رکھے۔
عراقی سکیورٹی مشیر کے مطابق ایران نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ عراق کی سرزمین سے شدت پسند گروہوں کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے اس معاملے کو بھی علاقائی سکیورٹی کے لیے اہم قرار دیا۔
قاسم الاعرجی کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ عراق کی جغرافیائی حیثیت اور ایران و امریکا دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات اسے ممکنہ رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔