پاکستان میں بھی موٹاپا کم کرنے والے انجیکشنز کا استعمال بڑھنے لگا
پاکستان میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے ساتھ تیزی سے وزن کم کرنے والے انجیکشنز کے استعمال کا رجحان بھی تیزی سے بڑھنے لگا ہے۔
سیاستدانوں، اداکاروں سمیت مختلف شعبوں سے وابستہ افراد بھی وزن کم کرنے کے لیے ان ادویات کا استعمال کر رہے ہیں، جبکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا استعمال عام ہونے لگا ہے۔
سربراہ شعبہ اینڈوکرنولوجی میمن میڈیکل انسٹیٹیوٹ ڈاکٹر ندیم نعیم کے مطابق وزن کم کرنے والے انجیکشنز کا رجحان ابتدا میں مغربی ممالک میں تیزی سے بڑھا، تاہم اب ایشیائی ممالک میں بھی اس کا استعمال تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ان کے مطابق سیماگلوٹائڈ، لیراگلوٹائڈ اور ٹرزیپٹائڈ سمیت مختلف ادویات وزن کم کرنے کے لیے استعمال کی جارہی ہیں۔
ڈاکٹر ندیم نعیم کا کہنا ہے کہ یہ ادویات GLP-1 ہارمون کے اثرات پر کام کرتی ہیں، بھوک کم کرنے اور پیٹ بھرنے کا احساس بڑھانے میں مدد دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں کھانے کی مقدار کم ہونے اور وزن گھٹانے میں مدد مل سکتی ہے۔
بعض ادویات ہفتے میں ایک مرتبہ استعمال کی جاتی ہیں اور GLP-1 کے اثرات کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ ڈاکٹر ندیم نعیم کے مطابق ان کے کلینک میں اب تک تقریباً 5 ہزار افراد وزن کم کرنے کے لیے انجیکشنز استعمال کرچکے ہیں، جبکہ انجیکشن استعمال کرنے والے افراد کی عمریں تقریباً 12 سے 70 سال تک ہیں۔
تاہم ہر فرد کے لیے وزن کم کرنے والی ادویات موزوں نہیں ہوتیں اور دوا کا انتخاب مریض کی عمر، وزن اور طبی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ صرف انجیکشن لگوانا وزن کم کرنے کے لیے کافی نہیں، بلکہ ڈائٹ، میڈیکیشن اور ایکسرسائز پر مشتمل مکمل پلان ضروری ہے۔
ان کے مطابق موٹاپے کے علاج میں انجیکشن کے ساتھ طرز زندگی میں تبدیلی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے دوسری جانب کلینیکل ڈائٹیشن سحرش عتیق کا کہنا ہے کہ وزن کم کرنے والے انجیکشنز کے استعمال کے دوران مناسب اور متوازن غذا پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ وزن کم کرنے کے دوران جسم کو مطلوبہ مقدار میں پروٹین، فائبر اور پانی فراہم کیا جانا چاہیے تاکہ جسمانی کمزوری اور غذائی کمی سے بچا جاسکے۔