زباں فہمی294 ؛کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ؛ (حصہ چہارُم)
زباں فہمی293 ؛ کچھ اردو اور فرینچ کے باہمی تعلق کے بارے میں ، (حصہ چہارم)
(گزشتہ سے پیوستہ): اردو کے فرانسی الاصل یا فرانسی نژاد شعراء کا ذکر ہورہا ہے۔ بلتہزر فطرتؔ (فرانسی: بیل تیزیغ۔ Belthezer ) عُرف شہزاد مسیح کا تعلق فرانس کے مشہورشاہی خاندان بوربوں (بوغ بوں:House of Bourbon) سے تھا، اُن کے جدِّ امجد فلپ شاہ ِ فرانس ہنری چہارم کے رشتے دار تھے جو شاہی خاندان ہی کے ایک فرد کے قتل میں ماخوذ ہونے کے سبب، وہاں سے فرار ہوکر ہندوستان چلے آئے تھے۔
یہ بات ہے مغل بادشاہ اکبر کے عہد سلطنت کی ۔یہ صاحب یعنی فطرتؔ کے جدّاعلیٰ پہلے مدراس میں مقیم ہوئے پھر آگرہ یعنی دارالسطلنت پہنچے تو انھوں نے اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے بادشاہ سے نواب کا خطاب اور جاگیر حاصل کی ;اس پر مستزاد فلپ صاحب کی پہلی بیوی (لیڈی ڈاکٹر) جولیانا کو شاہی حرم کی معالج ِ خاص مقرر کردیا گیا، گویا بادشاہ کے گھر تک رسائی ہوگئی۔
ایک روایت کے مطابق آگرہ کا کیتھولک چرچ بھی انہی صاحب کا تعمیر کردہ ہے۔ مغل بادشاہ اکبر کے عطاکردہ اعزازات، نادرشاہ دُرّانی کے حملے کے وقت تک، ان کے خاندان کے پاس محفوظ تھے۔ اس یلغار کے بعد فلپ کا گھرانا پہلے گوالیار اور پھر اٹھارویں صدی میں بھوپال جابسا۔ اسی خاندان کے ایک سلویڈان عُرف عنایت مسیح، فطرتؔ کے والد تھے (یہ نام اصل ہجّے نہ ملنے کے سبب فرانسی تلفظ میں نہیں لکھا جاسکتا، ویسے قیاس ہے کہ یہ سِلواں ہے جس کی جڑ لاطینی میں بھی ہے اور جس کے مختلف ہجّے یوں ملتے ہیں: Silvain, Sylvana, Sylvan)۔موصوف نے مرہٹوں کے خلاف جنگ میں دادشجاعت دی اور نواب بھوپال وزیر محمد خاںکے دربارمیں نمایاں مقام حاصل کیا تھا۔
بھوپال میں آنکھ کھولنے والے ،بیل تیزیغ فطرتؔ نے بھی اپنے والد کی طرح بھوپال کے شاہی دربار میں ممتاز مقام حاصل کیا۔ نواب وزیر محمد خاں نے اُسے اپنا وزیر بنایا اور مختلف مواقع پر سفارت کی خدمات بھی سونپیں۔ چونکہ فطرتؔ انگریزی، فارسی اور اُردو سے بھی بخوبی واقف تھے، لہٰذا والیٔ بھوپال اور انگریزوں کے مابین ہونے والے معاہدہ ٔ دوستی میں اہم کردار اَدا کرنے کے سبب، انگریزسرکار نے فطرتؔ کی خدمات براہ ِ راست مستعار لیں اور اُنھیں فوج میں کرنل کے عہدے پر فائز کردیا۔نواب بھوپال نے بھی فطرتؔ کو ایک جاگیر عنایت کی ۔ جب 1819ء میں اتفاقیہ گولی لگنے سے نواب جاں بحق ہوئے تو اُن کی بیوہ قدسیہ بیگم نے فطرت ؔ کو ریاستِ بھوپال کا مختارِکار مقرر کردیا اور ساتھ ہی 34000 روپے سالانہ کی جاگیر بھی عطا کی۔ فطرتؔ کے متعلق ایک دل چسپ انکشاف یہ ہے کہ اُن کی بیگم ایلزبتھ کی والدہ ایک پٹھان خاتون تھیں جنھیں ’’میڈم دُلہن‘‘ کہا جاتا تھا یعنی اصل نام مشہور نہیں تھا۔
فطرتؔ نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہے، مگر اُن کا اردو دیوان فقط چھیاسٹھ (66) صفحات پر مشتمل تھا جس میں ڈیڑھ سو غزلیات اور آٹھ مخمس تھے۔ 1830ء میں فوت ہونے والے اس فرانسی شاعر کے استاد کا نام تو معلوم نہیں، البتہ نمونہ کلام سے اُن کی مہارتِ لسان اور قدرتِ کلام کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اُس دور کی مخصوص کلاسیکی شاعری میں ایسا کلام بہرحال قابل ِ ذکر سمجھا جاتا تھا:
بارِ سَر ، دُور مِرے دوش سے گر یَار کرو
اس گراں باری سے واللہ ! سبک سار کرو
٭٭٭٭٭
بُت پرستی سے مجھے باز نہ رکھو یارو!
کیا یہ مرضی ہے کہ بندے کو گنہگار کرو
٭٭٭٭٭
نہ کر بہرِخد ا بیداد اَے صیّاد اِتنی بھی
کوئی بلبل کے فصل ِ گل میں بال وپر کترتا ہے؟
فرانس سے خطہ ہند میں آنے والے بہت سے فرانسی خاندانوں میں فانتوم (فرانسی: فاں تومFantôme/Fanthôme) کا نام اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے کئی شعراء نے اردو میں نام کمایا۔اس خاندان کے سربراہ کیپٹن برنارڈ فانتوم (فرانسی: بیغ نَو فاں تومBernard Fanthome)1771ء میں پیداہوئے، 1791ء میں اُن کا قیام پانڈیچری میں تھا جہاں سے وہ ریاست حیدرآباد، دکن چلے آئے اور موسیو غیمو کی فوج کا حصہ بنے; 1798ء میں اس فوج کے خاتمے کے بعد وہ کرنل ولیم لیزس گارڈنر کی فوج میں شامل ہوئے اور ایک لڑائی میں راجہ مادھو گڑھ کو دست بدست مقابلے کے بعد ہلاک کرکے اُس کی تلوار اَپنے خاندان کے نوادر میں شامل کرلی۔ اگست 1803ء میں کمپنی کے جاری کردہ فرمان کی رُو سے تمام یورپی افراد، کمپنی کی فوج میں شامل ہوئے تو کپتان نے بھی اس کی تعمیل کی اور اکتوبر 1803ء میں کمپنی کی فوج میں ملازم ہوگئے۔ موصوف نے یورپی اور ہندوستانی خواتین میں سات شادیاں کیں جن سے متعدد بچّے ہوئے۔ چند کے اسماء یہ ہیں: جارج فانتوم (فرانسی: ژوغژ فاں توم) المتخلص بہ صاحبؔ وجرجیسؔ (ماخذ میں تو جرجِس لکھا ہے مگر گمان ِ غالب ہے کہ نقل کرنے میں سہو ہوا ہوگا کیونکہ یہ بنی اسرائیل کے ایک نبی سے موسوم نام ہے)، جیمس فانتوم (فرانسی: ژانْم، مع نون غنّہ;ویسے جیمس فرانسی نام نہیں، یعنی یہ نام اپنی ترکیب کے لحاظ سے مخلوط ہے)، جان فانتوم شائقؔ (فرانسی: ژاں فاں توم)، ہنری فانتوم (فرانسی: اَوں غی فاں توم) اور ولیم فانتوم (فرانسی: وی لی آں;یہ بھی غیرفرانسی نام کا فرانسی تلفظ ہے۔ فاں توم)۔ مزید دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر بیٹے نے اپنی ماں کا مذہب اختیار کیا اور اِس خاندان کی ہندوستانی شاخ جے پور، بریلی اور لکھنؤ سمیت مختلف شہروں میں پھیل گئی۔
کپتان فانتوم نے 1816ء میں فوج سے سبکدوشی کے بعد طب کے شعبے سے جُڑکر معاشرے میں اپنا مختلف مقام بنایا۔ شاہ اکبر شاہ ثانی نے 1820ء میں انھیں اپنی بہن کے علاج کے لیے دِلّی بلوایا ;محترمہ کی صحت یابی کی خوشی میں فانتوم کو اِنعام واکرام اور تعریفی خط سے نوازاگیا۔ بادشاہ نے انھیں اپنے شاہی مکتوب میں ’’فانتوم فلاطوں (افلاطون) بہادر‘‘ کہہ کر مخاطب کیا۔ کپتان کے فرزند صاحبؔ کے کہے گئے قطعہ تاریخ ِ وفات سے اُن کا سنِ وفات 1835ء معلوم ہوتا ہے۔
میرے خالق نے رکھا مجھ کو زباں داں صاحبؔ
اَور کے شعر کو کیا اپنے سخن سے نسبت
اس تعلّیٰ کے شاعر کا نام جارج فانتوم صاحبؔوجرجیسؔ ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ ہمارے یہاں کیسے کیسے ’غیراہلِ زباں‘ بھی ماہر شاعر ہوگزرے ہیں کہ جنھیں اپنی اردو دانی اور اردوشاعری پر ناز تھا۔ ویسے بات کی بات ہے کہ موصوف کی والدہ مغل شہزادے فیروز شاہ کی بیٹی (یعنی مسلمان اور اُردو گو) تھیں، لہٰذا اُن کا ’زباں داں‘ ہونے کا دعویٰ کچھ غلط بھی نہیں۔ قیاس ہے کہ انھوں نے اپنی ماں کے دین کواختیار کرتے ہوئے مسلمان ہونا پسند کیا تھا، جیسا کہ اُن کے اردوکلام میں جابجا ظاہر ہوتا ہے۔ (یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اُن کی والدہ کپتان فانتوم کی ساتویں بیوی تھیں)۔ گمان ِ غالب ہے کہ وہ رام پور میں پیدا ہوئے، اُن کا سن ِ پیدائش براویتِ امیرؔمینائی 1822ء ہے۔ صاحبؔ نے حافظ شیرانی طالبؔ، مولوی نورالاسلام اور مولوی حِفظ اللّہ سے فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی(اوّل الذکر وہ حافظ شیرانی نہیں جو ’پنجاب میں اردو ‘ کے محقق ہوگزرے ہیں)۔ (جبکہ وہ فارسی اور اِنگریزی میں بھی شعر کہتے تھے اوراُنھوں نے عربی کے صَرف ونحو پر ایک کتاب فارسی میں بھی لکھی تھی)۔ اُسی مکتبی ماحول میں صاحبؔ شاعر بھی بن گئے اور اُنھوں نے شاہ نصیر ؔ کے شاگرد، مِیرنجف علی شفقتؔ (فرزندِ یار اَحمد شاہ درگاہی) سے اصلاح ِ سخن کے لیے رجوع کیا۔ صاحبؔ وجرجیسؔ کا نمونہ کلام پیش ِخدمت ہے:
نہیں آشفتہ رنگ اور بُو کا
میں تو دیوانہ ہوں تیری خُو کا
٭٭٭٭٭
گر تُو اِندر کے اکھاڑے کی پری ہے میری جاں
میں بھی اب تسخیر کو تیری سلیماں ہوگیا
٭٭٭٭٭
طفیلِ طالب ؔو شفقتؔ سے میر شفقت کی
ترا بھی جرجیسؔ اب شاعری میں نام ہوا
رام پور اور بریلی میں زندگی بسر کرنے والے اس سخنور کی وفات دس محرّم 1296ھ (اندازاًتین جنوری 1879ء) کو ہوئی ۔
نزع میں ہچکی اگر لگی ہیتو نظر مِری سُوئے در لگی ہے
اجل ٹھہرجا! خبر لگی ہے کہ مِرے درتک وہ آچکے ہیں
(خبر لگنا اب سننے پڑھنے میں نہیں آتا، غالباً متروک ہے)
یہ منفرد شعر کہنے والے الفریڈ (فرانسی: الفغید) فانتوم المتخلص بہ صوفیؔ نے اسلام قبول کیا تو اُنھیں فرید شاہ کہا جانے لگا تھا۔ صوفی ؔ صاحب مرادآباد ہائیکورٹ میں وکالت کیا کرتے تھے، مابعد بریلی تشریف لے گئے اور محلہ موتی میاں میں سکونت اختیار کی;وہ اکثر فوجداری مقدمات ہی لیا کرتے تھے۔اُن کے متعلق معلوم ہوا کہ فارسی، عربی، انگریزی، اردو اور لاطینی سے بخوبی آشنا تھے۔ اُن کا سن ِ وفات 1910ء یا بہ اختلافِ روایت 1912ء ہے۔ نمونہ کلام پیش کرتا ہوں:
خوشی بعید ہے اور ہے قریب اَلَم مجھ سے
غرض کہ ہوں گے بہت کم نصیب، کم مجھ سے
٭٭٭٭٭
اگرچہ لکھنے کو لکھا ہے حالِ دل یکبار
ہنوز باقی ہے ناگفتنی ہزار ہزار
٭٭٭٭٭
خدا نجات دے جلد اِ س بلائے ہجراں سے
ہوں کامیاب مَیں صوفیؔ ، وصال ِجاناں سے
فانتوم فرزندِ صاحبؔ بھی مسلمان ہوئے اور عملاً صالح مسلمان تھے، مگر اُن کا نام جوزف لائنل فانتوم ہی معلوم ہوسکا، تخلص کا پتا نہ چلا۔ اُن کے بارے میں بیان کیا گیا کہ اس قدر مشرقی رنگ میں ڈھل چکے تھے کہ یورپی زبانیں برائے نام ہی جانتے تھے۔ عوام النّاس اُنھیں بنّے صاحب اور بینی صاحب کہا کرتے تھے۔ اُن کی عمر 1933ء میں ستّر سال تھی اور پلٹن گنج، بریلی میں مقیم یہ شاعر اپنے جواں سال بیٹے ابراہیم کی موت کے سبب خستہ حال ہوچکے تھے۔ نمونہ کلام پیش ِ خدمت ہے:
لحد میں سورہے، آرام سے لختِ جگر تم
ہماری زندگی یاں پر بڑی مشکل سے گزرتی ہے
(ہماری زندگی یاں پر بڑی مشکل سے گزری ہے۔یا۔گزرے گی ہونا چاہیے تھا;شاید سہوِ کتابت ہے)
عداوت کی ، محبت میں جفا کی
ستم گر پھر محبت تُو نے کیا کی
٭٭٭٭٭
ستاروں کا وہ زیور کیوں پہنتے
کہ صورت چاند سی ہے مہ لقا کی
جان برنارڈ ((فرانسی: بیغ نَو) فانتوم شائقؔ، صاحبؔ کے بھائی تھے اور اَپنی عُرف جان صاحب سے مشہور تھے۔1817ء میں پیدا ہوئے اور بعداَزآں ریاست بھرت پور میں پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر میں ہیڈ کلرک کے طور پر ملازم ہوئے۔ جنگ ِ آزادی 1857ء میں سرکارِ انگلشیہ کے لیے جاسوسی کی خدمات انجام دیتے ہوئے جان کی بازی لگانے والے یہ شاعر بظاہر مشرقی ومسلم تہذیب میں رنگے ہوئے بھی تھے، مگر اُن کے قبول ِ اسلام کی کوئی روایت نہیں ملی۔ اُن کی وفات 8 جولائی 1866ء کو ہوئی جبکہ اُن کی بیوہ سوفی فاویل (Sophie Favvel) کا انتقال 22مارچ 1873ء کو ہواتھا۔نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں:
ہم نے دل سَو جگہ لگا دیکھا
کوئی تجھ سا نہ دِل رُبا دیکھا
٭٭٭٭٭
کان رکھ کر سُنا نہ اُس گُل نے
حالِ دل بارہا سُنا دیکھا
٭٭٭٭٭
للہ ! دو قدم تو جنازے کے ساتھ چل!
شائق ؔ نے دی ہے جانِ حزیں تیرے واسطے
(اس پر بے اختیار بیسویں صدی کے مقبول شاعر اُستاد قمرؔ جلالوی کا یہ شعر یاد آگیا:
جاتی ہوئی میّت دیکھ کے بھی، واللہ! تم اٹھ کے آ نہ سکے
دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف گوارا کرتے ہیں)
ظفر یاب علی گوہرؔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے کہ جارج فانتوم صاحبؔ کے مسلمان بیٹے تھے۔ ایک بیان کے مطابق اُن کے نواسے حافظ عبدالحق، عزیز ظفر اور رشید ظفر کے پاس اُن کا غیرمطبوعہ کلام علی گڑھ میں محفوظ تھا، جس کا بڑا حصہ رباعیات پر مشتمل تھا ، مگر کوئی نمونہ کلام مجھے میّسر نہیں آسکا۔
لیزا خاندان کے تین شعراء
1797ء میں پیدا ہونے والے، لوئی لیزا توقیرؔ ، ہندوستان آکر سردھنہ میں مقیم ہوئے جہاں والی ریاست بیگم سمرو، اہل علم ودانش کی سرپرست تھیں۔ دیگر مغربی حضرات کی طرح یہ بھی بیگم کی فوج سے منسلک ہوئے اور 1831ء تک ملازم رہے۔ مابعد وہ گوالیار کی فوج میں توپ خانے سے وابستہ ہوگئے اور پھر 1848ء میں بے روزگار ہوگئے۔ ایسے میں فادر فائیکل اینجلو نے اُن کو ماہانہ گزارے کے لیے دس روپیہ وظیفہ دینا شروع کیا۔ وہ 1849ء میں فوت ہوئے۔ توقیرؔ اُردوشاعری میں جان ٹامس طوماس کے شاگرد تھے جو اُردو کے انگریز شعراء میں اہم مقام کے حامل تھے۔ توقیرؔ کے کلام میں عیسائیت کا بھرپور پرچار ملتا ہے، دستیاب کلام میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے عقیدت غلو تک پہنچی ہوئی ہے۔ اُن کا نمونہ کلام پیش کرتا ہوں:
جبیں کو چاند کہیے، رُخ کو خورشیدِ ضیاء کہیے
قدم کی خاک کو اَکسیر کہیے، کیمیا کہیے
٭٭٭٭٭
یہ فیض ِ عام ہے ، بیمار جس سے پاتے ہیں صحت
دعا کہیے، دَوا کہیے ، دوا کیسی ، شِفاء کہیے
ان کا نام ’یورپین شعرائے اردو‘ کے مصنف سردار علی اور ’تاریخ ِ ادبِ اردو‘ کے مصنف رام بابو سکسینہ نے مختلف ہجّوں سے لکھا ہے۔توقیرؔکے فرزند ڈومینگو پال لیزا ذرّہ ؔ بھی شاعر تھے۔
ڈومینگو پال لیزا ذرّہؔ کی پیدائش اور پرداخت سردھنہ ہی میں ہوئی۔ انھوں نے محکمہ ڈاک میں ملازمت کی اور بعداَزآں اپنی بیگم روزینہ برویٹ کے ایک رشتے دار ڈاکٹر جارج اسمتھ، معالج ِ خصوصی مہاراجہ بیکانیر، سردار سنگھ کے اصرار پر، بیکانیر جاپہنچے جہاں انھیں انہی سسرالی عزیز کے رسوخ کے طفیل ایک اعلیٰ ملازمت مل گئی۔ وہ جیل کے انچارج اور مابعد بلدیہ کے انچارج ،نیز کچھ عرصہ بیکانیرکی فوج میں کپتان کے عہدے پر فائز رہے۔اردوشاعری میں ذرّہؔ کے استاد یکتاؔ لکھنوی تھے۔ بقول سکسینہ، انھوں نے اپنے دوست اور مشہور فرانسی شاعر شورؔ سے بھی اصلاح لی تھی۔ شورؔ کی دوسری شادی کے موقع پر ذرّہ ؔنے سہرا لکھ بھیجا تھا،مگر کسی وجہ سے خود تقریب میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ ذرّہؔ کا نمونہ کلام پیش ِ خدمت ہے:
وہ عندلیب ہوں کہ سدا مجھ کو غم رہا
باغِ جہاں میں نخلِ تمنّا قلم رہا
(ایہام گوئی کا نمونہ)
کروں گا قربان مَیں دین وایماں، ولے یہ سچ مُچ تو کہہ دے جاناں
کہ اِن کے دینے میں جاں نثاروں میں پھر تو میرا شمار ہوگا
٭٭٭٭٭
تِری فرقت گوارا کرسکے کیوں کر بھلا ذرّہؔ
کہاں سے لائے چھاتی عاشقِ دل گیر پتھر کی
(بات کی بات ہے کہ مجھے کراچی کے ایک مزاح گو عبدالرحمٰن ذرّہ حیدرآبادی مرحوم، مقیم امریکا یاد آگئے جن سے فیس بک پر بات چیت رہی تھی)۔