کراچی کی شناخت، سرکاری اسکولوں میں ممتاز دہلی گورنمنٹ اسکول سرکاری تحویل سے رخصت ہوگیا

80ء و 90ء کی دہائی میں اس کا شمار ممتاز سرکاری اسکولوں میں ہوتا تھا جس کے طلبہ ہر بار میٹرک میں پوزیشنز حاصل کرتے تھے

کراچی:

کراچی کی شناخت اور شہر کے سرکاری اسکولوں میں ممتاز مقام رکھنے والا دہلی گورنمنٹ اسکول آخر کار سرکاری تحویل سے رخصت ہوگیا، عدالتی حکم پر فیڈرل بی ایریا میں قائم اس معروف اسکول کی عمارت سیل کردی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق اس صورتحال کے بعد محکمہ تعلیم سندھ کے ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے بھی اسکول کے باہر تحریری نوٹس لگادیا گیا ہے جس میں طلباء و طالبات اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ڈی ای او یا ڈائریکٹوریٹ سے رابطہ کریں عدالتی احکامات پر اسکول کی عمارت کو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ 80 اور 90 کی دہائی میں دہلی گورنمنٹ اسکول کا شمار کراچی کے ان ممتاز اور معروف سرکاری اسکولوں میں ہوتا تھا جس کے طلبہ میٹرک میں کسی دوسرے سرکاری و نجی اسکول کو پوزیشن نہیں لینے دیتے تھے، اگر اس اسکول کی پوزیشن کسی ایک سال شہر کے کسی دوسرے سرکاری اسکول کے پاس چلی جاتی تھی تو دہلی گورنمنٹ اسکول آئندہ برس اس اسکول سے اپنی فرسٹ پوزیشن واپس چھین لیتا تھا۔

1996ء تک دہلی گورنمنٹ اسکول نے مسلسل کئی برس تک میٹرک کے امتحانات میں فرسٹ پوزیشن اپنے نام رکھی تاہم 90 کی دہائی کے وسط سے سرکاری اسکولوں کے شروع ہونے والے زوال کے سبب میٹرک سائنس گروپ کی پوزیشن دہلی اسکول سے نجی اسکولوں کو ملنے لگی تاہم سال 2024ء میں حیرت انگیز طور پر اسی اسکول کے ایک طالب علم نے میٹرک سائنس کی پوزیشن اپنے نام کرلی۔

80 اور 90 کی دہائی میں دہلی اسکول کراچی کے ان اسکولوں میں سے ایک تھا جہاں کراچی کی اشرافیہ اپنے بچوں کا داخلہ کرانے اور انھیں دہلی اسکول سے پڑھانے کی فخر کرتے تھے۔ اسکول میں داخلے کا طریقہ کار اس قدر سخت تھا والدین اپنے بچوں کے اس اسکول میں داخلے کرانے کے لیے سفارشیں تلاش کرتے تھے اور عمومی طور پر اس اسکول میں داخلے کے لیے کمشنر، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلی ہاؤس کی سفارشیں چلا کرتی تھی۔

 

اسکول کے تدریسی عملے کی شہرت کچھ ایسی تھی کہ یہاں پڑھانے والے اساتذہ دیگر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے مقابلے میں پورے تعلیمی حلقے میں اپنی جداگانہ حیثیت و شناخت رکھتے تھے اور دیگر اسکولوں کے سینیئر اساتذہ دہلی اسکول میں اپنا ٹرانسفر کرانے کو ایک اعزاز سمجھتے تھے۔

اسکول اپنے تعلیمی معیار کے ساتھ ساتھ اپنے ہیڈ ماسٹر المعروف " شمسی صاحب" کی وجہ سے بھی مشہور ہوچکا تھا جو داخلے کے سلسلے میں بااثر حلقوں کی سفارش رد کرنے کے حوالے سے معروف تھے۔

"ایکسپریس " کے رابطہ کرنے پر محکمہ اسکول ایجوکیشن کے ایک سابق افسر نے بتایا کہ " جب ہمارے دفتر سے شمسی صاحب کو کسی داخلے کے سلسلے میں فون جاتا تھا اور انھیں بتایا جاتا تھا کہ یہ داخلہ وزیر اعلی ہائوس سے بجھوایا گیا ہے تو ان کا جواب ہوتا تھا وزیر اعلی نے مجھ سے تو کچھ نہیں کہا اگر آپ سے کہا ہے تو آپ ہی جواب دیں ہیں جب مجھ سے کہا جائے گا جب دیکھوں گا فی الحال اسے رہنے دیں"۔

ادھر محکمہ اسکول ایجوکیشن نے عدالتی احکامات کے تناظر اور اسکول کی عمارت سیل ہونے کے بعد اس کی منتقلی کی منصوبہ بندی شروع کردی۔ دہلی اسکول کی عمارت میں بیک وقت تین سرکاری اسکول لگتے ہیں جس میں صبح و شام کی شفٹ میں گرلز اسکول جبکہ صبح کی شفٹ میں ایک بوائز اسکول موجود تھا۔

ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن سیکنڈری ارشد بیگ نے اسکول کی منتقلی کے حوالے سے رابطہ کرنے پر "ایکسپریس " کو بتایا کہ دہلی اسکول کی مجموعی انرولمنٹ تقریبا 2 ہزار ہے اب ہم ان بچوں کو اطراف کے سرکاری اسکولوں میں منتقل کرنے کی پلاننگ کررہے ہیں اور اس پر کام ہورہا ہے۔

انھوں نے عدالتی حکم نامے کے حوالے سے بتایا کہ سال 2007ء میں کورٹ کی جانب سے اسکول اینگرو اورینٹل اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے حوالے کرنے کے آرڈر آچکے تھے تاہم اس وقت سرکاری اسکول شہری حکومتوں کے پاس تھے اور اس وقت کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے اسکول کو سرکاری تحویل میں رکھنے کے حوالے سے اپنا کردار ادا کیا تھا طلبہ خود تالا کھول کر اسکول میں داخل ہوگئے تھے اسی وقت سے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ اس اسکول کو بچانے کی کوشش کرتا رہا ہم مسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ فریق کو اسکول کی عمارت کا کرایہ بھی ادا کرتے رہے اور آخری بار جون 2006 تک کرایا بھی ادا کیا گیا تاہم فریق اسکول کی عمارت سرکاری تحویل میں رکھنے کے لیے کسی طور راضی نہیں ہوئے۔

Load Next Story