کوچۂ سخن
فوٹو: فائل
غزل
پیرہن جو کم دیا ہے مجھ کو میرے ناپ سے
اس پہ کیا میرا گلہ بنتا نہیں کچھ آپ سے
گرم کپڑوں کی تمنا میں ٹھٹھرتے نونہال
سرد سانسیں چھین لی ہیں بے کسی نے باپ سے
اس سے بڑھ کے اور کیا ہو زندگانی کا جواز
دل کا انجن چل رہا ہے آنسوؤں کی بھاپ سے
ناچنے لگتے ہیں سائے پھر اندھیری رات کے
تھرتھراتا ہے دیا جس دم ہوا کی چاپ سے
ایک بوسے کی طلب دوزخ میں لے آئی مجھے
رات بھر جلتا رہا میرا کلیجہ تاپ سے
روزِ محشر جس خطا کی کوئی بخشش ہی نہ ہو
یا الہٰی! تو بچانا مجھ کو ایسے پاپ سے
چاہتوں کے گیت ارشد ؔگنگنانا سیکھ لے
یار مہکیں گی فضائیں ایک دن آلاپ سے
(ارشد محمود ارشد۔سرگودھا)
غزل
تہذیب سے شعور سے عاری ملے مجھے
حرص و ہوس کے دھن کے پجاری ملے مجھے
حق بات ہو سکی نہ جہاں پر مری عیاں
ہر سو قلم فروش لکھاری ملے مجھے
کس کو بتاؤں حال دلِ بد نصیب کا
جب دکھ مری مجال سے بھاری ملے مجھے
کرتا بیان کیا میں کسی سے ضرورتیں
ہر گام ہر قدم پہ بھکاری ملے مجھے
جنگل کا دبدبہ تھا ہر اک ذہن پر سوار
خود مبتلائے خوف شکاری ملے مجھے
تحریر سب کے چہروں پہ ناکامیوں کی تھی
کل شام اس کے چند حواری ملے مجھے
کب تک بنا رہوں گا کھلاڑی میں بارہواں
ساویزؔ ایک بار تو باری ملے مجھے
(زاہد ساویز۔ چنیوٹ)
غزل
ہے آئنہ خانوں پہ یہ احسان ہمارا
جلوہ ہے پسِ دیدۂ حیران ہمارا
ہوتی ہی چلی جاتی ہے وہ آنکھ پرائی
بڑھتا ہی چلا جاتا ہے نقصان ہمارا
اک روز اُکھڑ جائیں گی اِس گھر کی فصیلیں
اک روز چلا جائے گا مہمان ہمارا
اک موڑ پہ تھم جائے گی رفتار ہماری
اک موڑ پہ لٹ جائے گا سامان ہمارا
بھولے سے بھی آتی نہیں اک یاد کی آہٹ
سنسان پڑا رہتا ہے دالان ہمارا
ویسی ہی گھٹن، ویسی ہی بھرپور اداسی
کچھ کم تو نہیں گھر سے یہ زندان ہمارا
اپنے ہی تعاقب میں بسر ہو گئے ہم اور
درپیش رہا ہم کو ہی بحران ہمارا
(ماہم حیا صفدر ۔ فیصل آباد)
غزل
تاخیر کے بغیر کمالوں میں جت گئے
اشعار سے ہٹے تو مقالوں میں جت گئے
پہلے تو لوگ خواب کی تشہیر میں رہے
تعبیر نہ بنی تو خیالوں میں جت گئے
جب خود نہ بوجھ پائے خدا کی پہیلیاں
ایسا کیا خدا سے سوالوں میں جت گئے
دونوں میں کیا دراڑ ہے واقف نہیں لوگ
مجھ سے ملے تو تیرے حوالوں میں جت گئے
خاصا لطیف کام تھا کرنوں سے کھیلنا
تم کس لیے الاؤ کے ہالوں میں جت گئے
دیتے تھے تم صدا کہ تڑی پار لوٹ آ
پھر کیا ہوا کہ دیس نکالوں میں جت گئے
کرنی تھی جن کو ہاتھ میں تاروں کی کہکشاں
جاموں سے جی بھرا تو نوالوں میں جت گئے
عرصے سے اختلاف ہے ساگر مجھے یہی
رقصاں ہوئے وجود بھی نالوں میں جت گئے
(ساگر حضور پوری۔ قطر)
غزل
اک تماشا بنا کے بیٹھ گئے
پَر،کا کوّا بنا کے بیٹھ گئے
ایک قطرہ چرا کے بارش کا
اپنا دریا بنا کے بیٹھ گئے
یار بندہ خطا کا پتلا ہے
تم تو قصہ بنا کے بیٹھ گئے
ہم نا! تجھ کو بھی بھول جائیں گے
جب ارادہ بنا کے بیٹھ گئے
یونہی بچوں کو اک تسلی دی
گھر کا نقشہ بنا کے بیٹھ گئے
جس نے بھی ہنس کے بات کی ہم سے
اس کو اپنا بنا کے بیٹھ گئے
قصہ یوسف کا سن کے آئے تھے!
سب ہی چرخہ بنا کے بیٹھ گئے
(تفسیر عباس بابر ۔چیچہ وطنی )
غزل
حسین چہرے اتر گئے ہیں
جو کام کرنا تھا کر گئے ہیں
یقینا اب اختلاف ہوگا
وہ بات کرکے مکر گئے ہیں
یہ قصہ گوئی ہے یا حقیقت؟
سنا ہے کہ لوگ مر گئے ہیں
شکستگی دیکھ کر وہ میری
نگہ جھکا کر گزر گئے ہیں
ندیمؔ شہرت کی آس میں یاں
تمام منظر بکھر گئے ہیں
(ندیم ملک۔ کنجروڑ۔ نارووال)
غزل
گمان کرتا ہوا زندگی نبھاتا ہوا
ابھی تھکا نہیں میں بس ہوں ڈگمگاتا ہوا
کوئی لگن مجھے اب لے ہی جائے گی کسی سمت
کوئی جنوں مجھے ہمہ وقت ہے ستاتا ہوا
جگائے رکھتی ہے مجھ کو خیال کی بندش
خیال ایسا جو مجھ کو ڈگر پہ لاتا ہوا
تغیرات سے بھرپور ہے یہ عالمِ نیست
کہیں پہ روتا کہیں کوئی مسکراتا ہوا
میں جانے لگتا ہوں جب بھی بجانبِ صحرا
تبھی کوئی مجھے روکے صدا لگاتا ہوا
(علی زریاب ۔گوجرانوالہ)
غزل
پھل ملے باغ َعطا سے کیسے
سوچیے بھر گئے کاسے کیسے
وقت دیتا ہے دلاسے کیسے
مطمئن ہوتے ہیں پیاسے کیسے
کیا ہوئی عزت و عظمت کی قبا
ہاتھ میں آ گئے کاسے کیسے
نہ زباں تھی نہ دعا والے ہاتھ
مانگتے کچھ بھی خدا سے کیسے
خامشی بچ کے نکل آئی ہے
کوچۂ حرف و نوا سے کیسے
ہر قدم پر تھا وہاں موت کا رقص
بچ گئے دستِ قضا سے کیسے
یہ ہنر تم کو سکھائے گی ندی
پیش آتے ہیں گدا سے کیسے
کوئی پوچھے تو چراغوں سے یہ نورؔ
بچ گئے تیز ہوا سے کیسے
(سید محمد نورالحسن نور ۔ممبئی ،انڈیا)
غزل
کس نے کہاکہ مجھ کو،الفت کی چاہ نہیں
گزروں گاجس سے بچ کر،ایسی یہ راہ نہیں
تعظیم اس کی حد میں رہ کر کروں گا میں
مجھ سا ہے ایک انساں،عالم پناہ نہیں
ترکِ نماز پر تو فتوے ہیں کفر کے
دل کو دکھا رہے ہو،کیا یہ گناہ نہیں؟
رشتوں کے بیچ جب بھی آئے گا مال و زر
سمجھو کہ پھر وہاں پر ہونی نباہ نہیں
کردارِ بد نے منھ پر کالک ہے تھوپ دی
ظاہر میں اس کا چہرہ یوں تو سیاہ نہیں
معنی کی تہ میں جاکر پیغام میراسمجھو
شعروں پہ میرے بے شک کیجو گا’واہ‘ نہیں
لاکھوں پری وشوں کا مجمع ہے رو برو
ہر اک پہ جا ٹکے جو میری نگاہ نہیں
(ندیم دائم۔ ہری پور)
غزل
دلوں پہ مہر لگی ہے کہ اب حقیقت میں
زباں نہ بول سکی حلقۂ عدالت میں
دیارِ غیر کو سمجھا گیا درِ فردوس
جواب سارے لئے جائیں گے قیامت میں
غنیمِ نور ہوں گنتی میں تب بھی بھاری ہیں
سفیرِ شب کا تو سایہ نہیں حقیقت میں
تلاشِ حرمتِ جاں اور مری زبوں حالی
کسی سے جیتنا ممکن کہاں ندامت میں
فصیلِ شہرِ غریباں پہ چھا گیا ماتم
امیرِ شہر جو پاگل ہوا جلالت میں
بلا کی دوستی تھی دشمنوں کے دشمن سے
مزارِ الفت و راحت بنا عداوت میں
ذرا سا تھم کے چلے کہہ دو موسمِ گل سے
وجودِ شوق پگھلتا رہے گا عجلت میں
(بلال ہادی۔ چکوال)
غزل
مشکلوں کا کچھ نہ کچھ حل نکل کے آئے گا
ظالموں کی پستی کا پل نکل کے آئے گا
ایڑیاں رگڑتا جا مضطرب تو مت ہونا
دیکھنا زمیں سے خود جل نکل کے آئے گا
عزم گر جواں ہو تو دوسروں سے کیا مطلب
بھیڑ سے وہ خود اپنے بَل نکل کے آئے گا
مدتوں سے بیٹھا ہوں گھر کے سامنے اُس کے
آج وہ نہیں تو پھر کل نکل کے آئے گا
پیڑ کو ہرا رکھنا سیکھ لو ذرا شبّیرؔ
ایک دن وہ آئے گا، پھل نکل کے آئے گا
(انضمام کٹیہاری۔ چمپارن، بہار)
غزل
ورائے خوفِ فنا کائنات پھیلتی ہے
کسی جھجک کے بنا کائنات پھیلتی ہے
اگر زمین مسلسل سکڑ رہی ہے تو
قدم خلا میں جما کائنات پھیلتی ہے
جب اس نے بانہوں کو پھیلا دیا مرے آگے
مجھے یقین ہوا کائنات پھیلتی ہے
کہ منحصر ہے ہر اک فعل اُس کی مرضی پر
بفضل و حکمِ خدا کائنات پھیلتی ہے
( دائم فراز۔ نارووال)
غزل
دل میںآباد کرو، شاد کرو
مر گیا ہوں میں مجھے یاد کرو
کر لیا میں نے قصرِ دل تعمیر
سنگ اٹھاؤ، اسے برباد کرو
میں کہ چھا جاؤں بن کے اک نغمہ
عشق! تم طرز تو ایجاد کرو
چاہیے شعر کو سلیقۂ غم
خوش گمانی! مجھے برباد کرو
یہ بھی ممکن ہے بھول جاؤ اسے
بھول جاؤ تو پھر سے یاد کرو
ہوچکیں معافیاں، عذر سارے
اپنے حق میں کھلی فریاد کرو
(وقار حسین۔کراچی)
سنڈے میگزین کے شاعری کے صفحے پر اشاعت کے لیے آپ اپنا کلام، اپنے شہر کے نام اورتصویر کے ساتھ ہمیں درج ذیل پتے پر ارسال کرسکتے ہیں۔ موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔
انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘
روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی
موزوں اور معیاری تخلیقات اس صفحے کی زینت بنیں گی۔انچارج صفحہ ’’کوچہ سخن ‘‘ روزنامہ ایکسپریس، 5 ایکسپریس وے، کورنگی روڈ ، کراچی