قدرتی آفات کیخلاف مالی تحفظ کاجامع نظام وقت کی ضرورت
ہمالیائی پہاڑی سلسلہ پاکستان کے دریاؤں، پن بجلی، شاہراہوں، سیاحت اور چین کے ساتھ تجارتی رابطوں کیلیے انتہائی اہم ہے، تاہم گلیشیائی جھیل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ یا زلزلے جیسی قدرتی آفات بیک وقت انسانی جانوں کے ساتھ ملک کے بنیادی ڈھانچے اور معیشت کوشدیدنقصان پہنچاسکتی ہیں۔
پاکستان ماضی میں بھی بڑے قدرتی سانحات کے بھاری معاشی اثرات برداشت کرچکاہے، 2005 کے زلزلے میں تقریباً 73 ہزارافرادجاں بحق ہوئے اور اس کے نتیجے میں تقریباً 5۔2 ارب ڈالرکے اخراجات کاسامناکرنا پڑا، جبکہ 2022 کے سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ افرادکومتاثرکیا۔
ماہرین کے مطابق قدرتی آفات اب محض انسانی یا امدادی بحران نہیں رہیں، بلکہ خودمختار ریاستوں کیلیے بڑے مالیاتی جھٹکے بن چکی ہیں۔
تجویز ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو جدیدانشورنس پالیسی سے مزیدمضبوط کیاجائے، اس مقصدکیلیے پہلے مرحلے میں ملکی ڈیزاسٹرریزرو قائم کیاجائے جو چھوٹی اور نسبتاً معمول کی آفات سے ہونیوالے نقصانات کو پوراکرے۔
اس کے علاوہ عالمی بینک کی معاونت سے ابتدائی طور پر 500 ملین ڈالر اور بعد ازاں ایک ارب ڈالر تک کاخودمختار کیٹاسٹرافی بانڈ جاری کیاجاسکتاہے، اس نظام میں پاکستان سالانہ پریمیم اداکرے گا، جبکہ قدرتی آفت کے پہلے سے طے شدہ پیمانے،مثلاً بارش،دریائی سطح، زلزلے کی شدت یاگلیشیائی سیلاب کی مخصوص حدعبورکرنے پر سرمایہ کاروں کی رقم پاکستان کوفوری طور پر فراہم کی جائیگی، اس طرح حکومت کونقصان کے تفصیلی سروے یا ہنگامی قرض کے بجائے فوری مالی وسائل دستیاب ہوسکیں گے۔
تاہم ماہرین نے خبردارکیاہے کہ غلط یاغیر شفاف ٹرگرزکی صورت میں بیسس رسک پیداہوسکتاہے،اس لیے خطرات کی ماڈلنگ شفاف رکھنے اور پیرامیٹرک انشورنس کے ساتھ ملکی ریزرو برقرار رکھنے کی ضرورت ہوگی۔
دنیاکے کئی ممالک پہلے ہی اس نوعیت کے مالیاتی تحفظ سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔ پاکستان بھی عالمی انشورنس اوررسک مینجمنٹ اداروں کو مسابقتی بنیادوں پر مشاورتی عمل میں شامل کرسکتاہے۔
مجوزہ نظام کیلیے مالی وسائل عام شہریوں پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر بھی پیداکیے جاسکتے ہیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 میں کلائمیٹ سپورٹ لیوی سے 50 ارب روپے اور پٹرولیم لیوی سے 1۔676 کھرب روپے حاصل ہونے کاتخمینہ ہے۔
50 ارب کی کلائمیٹ لیوی کو مختص کرنے اور پٹرولیم لیوی کے صرف ایک فیصدکواس مقصدکیلیے استعمال کرنے سے سالانہ تقریباً 66۔8 ارب روپے دستیاب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سپر ٹیکس کی وصولیوں کاپانچ فیصداور مخصوص لگژری اشیا و خدمات پر محدوداورہدفی سرچارج بھی متبادل ذرائع ہوسکتے ہیں۔
تاہم پالیسی میں ایسی عمومی لیویز سے گریزکیاجاناچاہیے جو انشورنس کے فروغ یاصاف ٹیکنالوجی کی حوصلہ شکنی کریں۔
دوسری جانب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تحت قومی کیٹاسٹرافی انشورنس پول قائم کیاجاسکتاہے،جس میں مقامی انشورنس کمپنیاں معیاری زلزلہ اور سیلاب انشورنس فراہم کریں۔