ٹرمپ کی جھیل اونٹاریو کو ’جھیل امریکا‘ بنانے کی اے آئی ویڈیو وائرل

جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی عظیم جھیلوں میں شامل ہے اور اہم آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جھیل اونٹاریو کو ’جھیل امریکا‘ قرار دینے کے حوالے سے ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جاری کیے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر خبروں میں آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں جھیل اونٹاریو کے کنارے موجود سائن بورڈ کو تبدیل کرکے ’’Lake America‘‘ دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی ہے اور حقیقی مقام پر سائن بورڈ تبدیل کیے جانے کی فوٹیج نہیں ہے۔

جھیل کے نام پر تنازع امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری سیاسی اور تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ پہلے بھی کینیڈا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے سخت بیانات دیتے رہے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے شیئر کی گئی ایک اور مزاحیہ نوعیت کی ویڈیو میں جھیل کے کنارے بطخوں کو اسلحہ اٹھائے اور ٹرمپ کے مخصوص ہیئر اسٹائل جیسی شکل میں گشت کرتے دکھایا گیا۔ ان ویڈیوز نے سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل کی اور صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے کیے گئے۔

کینیڈا کی جانب سے بھی اس معاملے کا دلچسپ انداز میں جواب دیا گیا۔ صوبہ اونٹاریو کے سربراہ ڈگ فورڈ نے جھیل کے کنارے ایک بڑا سائن بورڈ نصب کیا، جس پر ’’Lake Ontario — Now and Forever‘‘ یعنی ’’جھیل اونٹاریو، اب اور ہمیشہ‘‘ درج ہے۔

ڈگ فورڈ نے سائن بورڈ کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کے آنے سے بہت پہلے بھی اس جھیل کا نام اونٹاریو تھا اور ان کے جانے کے بہت عرصے بعد بھی اسے جھیل اونٹاریو ہی کہا جائے گا۔

جھیل اونٹاریو شمالی امریکا کی عظیم جھیلوں میں شامل ہے اور امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع اہم آبی ذخائر میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جاری سیاسی بیان بازی میں ایک علامتی موضوع بن گیا ہے۔

سوشل میڈیا صارفین نے ٹرمپ کی اے آئی ویڈیو پر مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ بعض صارفین نے اسے مزاحیہ قرار دیا جبکہ کچھ نے امریکی صدر کی جانب سے جھیل کے نام سے متعلق بیانات پر تنقید کی۔

یوں جھیل اونٹاریو کا نام تبدیل کرنے کی بحث اب صرف نام تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری سیاسی اختلافات اور بیان بازی کی ایک دلچسپ مثال بن گئی ہے۔

Load Next Story