امریکا نے آبنائے ہرمز پر حملے کو ’جارحیت‘ قرار دینے کا ایرانی دعویٰ مسترد کردیا
واشنگٹن: امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایرانی فورسز کے خلاف کارروائی کو ’جارحیت‘ قرار دینے کے ایرانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بالکل غلط قرار دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کوشش کرنے والی ایرانی پاسداران انقلاب کی فورسز کے خلاف محدود اور درست کارروائی کی۔
سینٹکام کے مطابق ایرانی فورسز کی سرگرمی آبنائے ہرمز میں موجود شہری بحری جہازوں اور عالمی تجارتی آمدورفت کے لیے فوری خطرہ بن رہی تھی، اس لیے امریکی فوج نے اس خطرے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی کی۔
امریکی کمانڈ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے اس دعوے کو بالکل غلط قرار دیا کہ امریکی کارروائی ایک جارحانہ اقدام تھی۔ سینٹکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی کارروائی کا مقصد شہری ملاحوں، تجارتی جہازوں اور عالمی تجارت کی آزادانہ آمدورفت کا تحفظ تھا۔
امریکی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ اس راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے کی کسی بھی کوشش سے بحری جہازوں کی آمدورفت اور عالمی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ خطرہ ایرانی فورسز کی جانب سے پیدا کیا گیا تھا اور امریکی فوج نے کارروائی کرکے اس خطرے کو ختم کیا۔ امریکی کمانڈ کے مطابق اس اقدام کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت اور عالمی تجارت کے تسلسل کو یقینی بنانا تھا۔
🚫CLAIM: Iran’s Islamic Revolutionary Guard Corps (IRGC) claimed in a recent statement that strikes by U.S. forces to prevent the IRGC from placing mines in the Strait of Hormuz were an “act of aggression.” This claim is absolutely FALSE.
— U.S. Central Command (@CENTCOM) August 31, 2026
✅FACT: U.S. forces took limited,… pic.twitter.com/XLx8xNTHto
دوسری جانب ایران مسلسل آبنائے ہرمز کے معاملے پر اپنے مؤقف کا اظہار کرتا رہا ہے اور امریکی فوجی اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان متضاد بیانات کے باعث اس اہم سمندری راستے کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
امریکی اور ایرانی مؤقف میں یہ تازہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں اور بحری آمدورفت کے حوالے سے کشیدگی برقرار ہے۔ صورتحال میں مزید بگاڑ کی صورت میں عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر بھی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔