وزیراعظم کی بشکیک میں ایرانی صدر سے ملاقات، اسلام آباد ایم او یو کو آگے بڑھانے پر زور
وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایران اور ازبکستان کے صدور سے ملاقات کیں جن میں پاک ایران اور پاک کرغستان تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہانِ مملکت کے اجلاس کے موقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا اور باہمی تعاون کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کی اہمیت کا ذکر کیا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets Iranian President H.E. Dr. Masoud Pezeshkian in Bishkek on the sidelines of the SCO Summit. pic.twitter.com/NzgK1UUx89
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) August 31, 2026
دونوں رہنماؤں نے اس حوالے سے رواں سال جون میں صدر پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی اہمیت پر بھی زور دیا، دونوں رہنماؤں نے علاقائی روابط کے فروغ اور عوامی سطح پر روابط مزید بڑھانے کے لیے جاری کوششوں کا بھی جائزہ لیا۔ ملاقات کے دوران علاقائی صورتحال میں ہونے والی تازہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ تہران اور ان کے تعمیری روابط سے اچھے نتائج کی امید ہے وزیراعظم نے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کےحصول کے لیے تحمل، ضبط و برداشت اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا دورہ کرغستان.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 31, 2026
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی کرغستان کے دارالحکومت بشکیک میں ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے ملاقات شروع ہوگئی.
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان نے باہر آ کر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا استقبال کیا. وزیراعظم محمد شہباز شریف بشکیک… pic.twitter.com/LNwwtQJGdz
انہوں نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (MOU) کے تحت طے پانے والی مفاہمت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے یہ واحد قابلِ عمل راستہ ہے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں کو سراہا ایرانی صدر نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کی پائیدار مضبوطی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات صدیوں پر محیط مشترکہ تاریخ، ثقافت اور مذہب کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔
انہوں نے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے تہران کی بھرپور خواہش کا اعادہ کیا۔صدر پزشکیان نے عصرِ حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امتِ مسلمہ کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے کی ضرورت اہمیت کا ذکر کیا۔
وزیراعظم نے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کو ان کی سہولت کے مطابق جلد از جلد پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت دی ایرانی صدر نے بھی وزیراعظم محمد شہباز شریف کو دسمبر 2026 میں تہران میں منعقد ہونے والے آئندہ اقتصادی تعاون تنظیم (ECO) سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔
ازبک صدر سے ملاقات
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف سے ملاقات کی وزیر اعظم نے صدر شوکت مرزایوف اور برادر ملک ازبکستان کے عوام کو ازبکستان کی آزادی کی 35ویں سالگرہ پر دلی مبارکباد پیش کی۔ وزیر اعظم نے فروری 2026ء میں صدر مرزایوف کے دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے اور اعلیٰ سطح اسٹریٹجک تعاون کونسل کے پہلے اجلاس نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی رفتار فراہم کی ہے۔
وزیراعظم نے قیادت کی سطح پر کیے گئے فیصلوں، خصوصاً تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی رابطوں اور اقتصادی تعاون سے متعلق فیصلوں پر بروقت عملدرآمد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے 2029 تک دوطرفہ تجارت کا حجم 2 ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے مشترکہ ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے توسیع شدہ ترجیحی تجارتی معاہدے پر مؤثر عملدرآمد، کاروباری سطح پر روابط میں اضافے اور باہمی مفاد پر مبنی مشترکہ منصوبوں کے فروغ کی اہمیت کا ذکر کیا۔
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif met H.E. Mr. Shavkat Mirziyoyev, President of the Republic of Uzbekistan, on the sidelines of the SCO Council of Heads of State Meeting in Bishkek.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) August 31, 2026
Mr. Jam Kamal Khan, Minister for Commerce, Mr. Abdul Aleem Khan, Minister for Communications… pic.twitter.com/HN5evMrSAr
علاقائی رابطوں کو مشترکہ اسٹریٹجک ترجیح قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کی اہمیت اجاگر کی، جو وسطی اور جنوبی ایشیا کو باہم منسلک کرنے اور ازبکستان کو پاکستان کی بندرگاہوں تک رسائی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مشترکہ فزیبلٹی اسٹڈی پر جلد پیش رفت اور پہلے سے موجود کثیر جہتی ٹرانسپورٹ راہداریوں کے زیادہ سے زیادہ استعمال پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے ازبک تجارت کے لیے پاکستان کی بندرگاہوں اور ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے ذریعے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے صنعت، زراعت، ادویہ سازی، ٹیکسٹائل، کان کنی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، تعلیم، ثقافت، دفاع اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے فضائی رابطوں میں اضافے، بالخصوص تاشقند۔کراچی براہ راست پروازوں کے حوالے سے پیش رفت کی بھی حمایت کی۔ وزیر اعظم نے ازبکستان کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے بہترین سیاسی تعلقات کو عوام کے لیے ٹھوس معاشی فوائد میں تبدیل کیا جائے گا۔