پشاور نادرن بائی پاس پر پولیس پر حملہ، انٹرپول سے واپس لایا گیا مطلوب ملزم 2 ساتھیوں سمیت ہلاک
پشاور کے نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی پر مبینہ دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے سمیت 3 افراد ہلاک جبکہ دو ایس ایچ اوز زخمی ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق تھانہ شاہ پور کی حدود نادرن بائی پاس پر پولیس پارٹی بدنام زمانہ اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے کو اسلام آباد سے پشاور منتقل کررہی تھی کہ اس دوران مسلح افراد نے پولیس پارٹی پر شدید فائرنگ کردی اور ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا۔
پولیس کے مطابق حملہ آوروں کی فائرنگ اور ہینڈ گرنیڈ حملے کے نتیجے میں دو ایس ایچ اوز زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آوروں میں سے دو افراد ہلاک ہوگئے۔
حملے کے دوران پولیس کو مطلوب اشتہاری مجرم ممتاز عرف ممتازے بھی ہلاک ہوگیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ممتاز عرف ممتازے پشاور پولیس کو تقریباً 40 مقدمات میں مطلوب تھا اور اسے آج انٹرپول کے ذریعے پاکستان لایا گیا تھا۔
ممتازے کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے پشاور منتقل کیا جارہا تھا کہ نادرن بائی پاس پر پشاور میں پولیس پارٹی کو نشانہ بنایا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔
پولیس نے حملہ آوروں کی جانب سے مزید افراد کی موجودگی کے شبے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے، جبکہ ہلاک ہونے والے حملہ آوروں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ ابتدائی طور پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ حملہ ممتاز عرف ممتازے کے مخالفین کی جانب سے کیا گیا، تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے لائی جائیں گی۔ واقعے کے بعد سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال کا دورہ کیا اور نادرن بائی پاس حملے میں زخمی ہونے والے دونوں ایس ایچ اوز کی عیادت کی۔
سی سی پی او نے زیر علاج پولیس افسران کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت سے متعلق ڈاکٹرز سے تفصیلی بریفنگ لی۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹرز کو زخمی پولیس افسران کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
ڈاکٹر میاں سعید احمد نے زخمی پولیس افسران کے حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ پولیس افسران اور اہلکاروں کی صحت و سلامتی پولیس قیادت کی اولین ترجیح ہے۔ واقعے کے بعد نادرن بائی پاس اور ملحقہ علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ سرچ آپریشن کے ساتھ ساتھ حملے کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کے حوالے سے تحقیقات بھی جاری ہیں۔