کینسر کا کاروبار

عالمی ادویہ ساز اداروں کے سفاکانہ کھیل کی کہانی

کینسر۔۔۔۔ایک موذی مرض ہی نہیں اور بھی بہت کچھ ہے۔۔۔تکلیف۔۔۔شدید ہوتی تکلیف۔۔۔بڑھتا درد۔۔۔رفتہ رفتہ بڑھتی اذیت۔۔۔موت کے بڑھتے قدموں کی دھمک۔۔۔مایوسی کے اندھیرے۔۔۔پھر کسی نئے ڈاکٹر یا حکیم کے دعوؤوں سے بجھ کر روشن ہوتی امید کی لو۔۔۔اس امید سے بندھا فیسوں اور دواؤں کا نیا سلسلہ۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔ ایک ایسی قیامت جسے متاثرہ شخص ہی نہیں اس کے سب پیارے اور پورا گھر جھیلتا ہے۔ لیکن یہ درد اور تکلیف دواسازوں سے ڈاکٹروں تک کتنوں کے لیے دولت کی راحت لے کر آتی ہے۔ سرطان کی دوا کا ہر ہر نسخہ وہ ’’چیک‘‘ ہے جو جانے کہاں کہاں کیش ہوتا ہے۔ جب یہ درد کسی کم آمدنی والے کے گھر میں نازل ہوجائے تو مریض کی تکلیف کے ساتھ مہنگے علاج کا فکر بلا کی صورت ساتھ اترتی ہے۔

کینسر کے جان لیوا مرض سے جُڑا مسئلہ اس کا مہنگا علاج ہے، جو دنیا بھر میں نچلے متوسط اور مفلس طبقے کے گھر، زمینیں اور زیورات بکوادیتا ہے، انھیں قرض کے بھنور میں دھکیل دیتا ہے اور ان کی کتنی ہی ضرورت، خواہشات، خوابوں کو نگل جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کینسر سمیت جان لیوا امراض کی ادویات کے بھاری دام واقعی جائز ہیں؟

 کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافے کا عالمی رجحان کافی عرصے سے جاری ہے۔ امریکی ’’نیشنل بیورو آف اکنامک ریسرچ‘‘ کے 2015 کے ایک مطالعے کے مطابق، 1995 اور 2013 کے درمیان کینسر کی ادویات کی قیمتوں میں ہر سال 10 فی صد اضافہ ہوا، اور گزرتے برسوں کے ساتھ سرطان کا علاج عام آدمی کی سکت سے باہر ہوچکا ہے۔ ادویہ کے مہنگا ہونے کے عمل میں ان کی اصل ذمے دار فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ مختلف ممالک کے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی شریک ہیں۔ برطانیہ کے ’’ڈیپارٹمینٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر‘‘ سے ملحق ادویہ سے متعلق ادارے ’’نائس‘‘ (NICE ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسی لینس) کو مریضوں کی تنظیموں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، کیوںکہ اس نے کینسر کی متعدد ادویات کو استعمال کرنے سے صرف اس لیے روک دیا کیوںکہ وہ لاگت کے لحاظ سے فائدہ مند (cost effective) نہیں سمجھی گئیں۔ درحقیقت دنیا بھر کے ہیلتھ کیئر سسٹمز، بشمول کینسر کی ادویات کا خرچ اٹھانے کے تصور سے بھی ہانپ جاتے ہیں۔ اس بات کے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ ان بھاری قیمتوں کا یہ رجحان جلد ختم ہوجائے گا یا ان قیمتوں کو آسانی سے لگام دی جاسکے گی۔

دواؤں کی بڑھتی قیمتوں کی بابت کنگز کالج لندن کے انسٹی ٹیوٹ آف کینسر پالیسی کے ڈائریکٹر پروفیسر رچرڈ سلیوان کہتے ہیں، ’’قیمتیں آپے سے باہر ہوچکی ہیں۔ ادویات کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے اس کی لاگت کی بنیاد بہت لچک دار (Elastic) ہے، قیمتیں بس اوپر ہی جا رہی ہیں۔ یہ دوا کی اصل قدر یا افادیت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ مارکیٹ کتنا بوجھ برداشت کرسکتی ہے۔‘‘ گویا معاملہ زیادہ سے زیادہ منافع کی سرمایہ دارانہ سوچ کا ہے۔ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ریسرچ کے مطابق، کینسر پر دنیا کی کسی بھی دوسری بیماری کے مقابلے میں سب سے زیادہ پیسہ خرچ ہوتا ہے، جو کہ سالانہ تقریباً 895 ارب ڈالر ہے۔ واضح رہے کہ یہ تخمینہ 2016 میں شایع ہوا تھا۔ ادویات کے ساتھ اس میں تشخیص، ریڈیو تھراپی، امیجنگ، پیتھالوجی، سرجری اور زندگی کے آخری ایام کی دیکھ بھال کے اخراجات بھی شامل ہیں۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ رچرڈ سلیوان کہتے ہیں کہ مریضوں کی حالت بہتر بنانے میں ادویات کا حصہ صرف 4 سے 5 فی صد ہے، جب کہ زیادہ تر کنٹرول اور علاج سرجری اور ریڈیو تھراپی کے ذریعے ہوتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی 2018 میں شایع شدہ رپورٹ میں جس کا عنوان ’’ادویات، ویکسینز اور طبی مصنوعات؛ کینسر کی ادویات‘‘ تھا، میں واضح کیا گیا ہے کہ کینسر کی ادویات کی قیمتیں دیگر تمام بڑی بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات سے کہیں زیادہ ہیں، اور ان کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار بھی سب سے تیز ہے۔ اس رپورٹ کے خلاصے سے معلوم ہوتا ہے کہ مناسب انشورنس کوریج نہ ہونے کے باعث دنیا بھر میں کینسر کا شکار لاکھوں مریض اس مہنگے علاج کا خرچ اٹھانے سے بالکل قاصر ہیں۔ مثال کے طور پر، چھاتی کے کینسر کی ایک ابتدائی اور مخصوص قسم (HER2) کے علاج کا پورا کورس خریدنے کے لیے بھارت اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک میں ایک عام شہری کو اپنی اوسطاً 10 سال کی پوری کمائی داؤ پر لگانی پڑتی ہے، جب کہ امریکا جیسے امیر ملک میں بھی یہ لاگت انسان کی پونے دو سال (1.7 سال) کی اوسط آمدنی کے برابر ہے۔ زندگی بچانے والے ان اہم علاجوں تک رسائی نہ ہونے کا ہول ناک نتیجہ دنیا کے مختلف حصوں میں کینسر سے شفایابی کی شرح میں واضح فرق کی صورت میں نظر آتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جہاں امیر اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں کینسر کا شکار ہونے والے 80 فی صد سے زائد بچے اس مرض سے مکمل طور پر صحت یاب ہوجاتے ہیں، وہیں غریب اور متوسط آمدنی والے بعض ممالک میں کینسر سے بچوں کے بچنے کی یہ شرح مایوس کن حد تک کم یعنی صرف 10 فی صد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق میں، جس کا نتیجہ اس رپورٹ کی صورت میں سامنے آیا، ابتدائی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) سے لے کر دوا کی تیاری، مارکیٹنگ اور پیٹنٹ کی مدت ختم ہونے کے بعد سستی جینرک ادویات کے مارکیٹ میں آنے تک کے پورے تجارتی سلسلے کا تفصیلی موازنہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کا حتمی نتیجہ چونکا دینے والا ہے،’’مجموعی تجزیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ادویات پر آنے والے ریسرچ، ڈیولپمنٹ اور پروڈکشن (تیاری) کے اخراجات کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کہ دوا ساز کمپنیاں کینسر کی ادویات کی قیمتیں کیا طے کرتی ہیں۔‘‘ رپورٹ کے مطابق، ’’دوا ساز کمپنیاں قیمتوں کا تعین صرف اپنے تجارتی مفادات اور کاروباری اہداف کو سامنے رکھ کر کرتی ہیں، اور ان کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ خریدار (یا حکومت) سے کسی دوا کی زیادہ سے زیادہ کتنی قیمت وصول کی جاسکتی ہے۔ قیمتوں کا یہی بے لگام طریقہ کار کینسر کی ادویات کو عام انسان کی پہنچ سے باہر کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے ان ادویات کے اصل طبی فوائد سے محروم رہا جاتا ہے۔‘‘ اس تحقیق میں یہ بھی پایا گیا کہ جیسے ہی کسی دوا کے پیٹنٹ (حقوقِ ملکیت) کی مدت ختم ہونے کے دن قریب آتے ہیں، تو کمپنیاں مارکیٹ میں سستی جینرک ادویات کا راستہ روکنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ ’’پروڈکٹ ہاپنگ‘‘ ( hopping Product) ہے، جس میں دوا کے بنیادی فارمولے میں معمولی اور برائے نام تبدیلی کرکے اسے ایک نئی پروڈکٹ کے طور پر پیش کردیا جاتا ہے، حالاںکہ اس کا کوئی اضافی طبی فائدہ نہیں ہوتا، لیکن اس کا واحد مقصد مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔

 ’’نالج ایکولوجی انٹرنیشنل‘‘ کے ڈائریکٹر جیمز لو نے ایک ٹوئیٹ میں انکشاف کیا کہ کینسر کی 99 ادویات کے ڈیٹا کے مطابق، کمپنیوں نے ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) پر خرچ کیے گئے ہر 1 ڈالر کے بدلے اوسطاً 3.30 ڈالر سے لے کر 55 ڈالر تک کا بھاری منافع کمایا ہے۔

دواساز کمپنیاں اپنا منافع بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لیے کیا کیا حربے استعمال کرتی ہیں، اس کی مثال ایک مشہور کثیرالقومی دواساز کمپنی کی کاروباری تیکنیک سے دی جاسکتی ہے۔

صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم ICIJ کی ایک سالہ طویل عالمی تحقیقات سے یہ انکشاف ہوا کہ کس طرح دنیا کی سب سے بڑی دوا ساز کمپنی نے اپنے منافع کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی سیاسی اور تجارتی حکمتِ عملیاں اختیار کیں جن سے نہ صرف اس دوا کے نسخوں کی تعداد میں مصنوعی اضافہ کیا گیا، بلکہ لابنگ کے ذریعے اس کی سستی متبادل ادویات کو مارکیٹ میں آنے سے روکا گیا۔ تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ اس کمپنی اور اس کے شراکت داروں نے کینسر کے پیٹنٹ سسٹم کا پوری عیاری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دنیا کے 53 ممالک اور خطوں میں سرطان کے لیے بنائی گئی اپنی نہایت مہنگی دوا کے گرد کم از کم 1,212 پیٹنٹ درخواستوں کا ایک ناقابلِ تسخیر قلعہ تعمیر کر رکھا ہے۔ اس چکر کا مقصد یہ ہے کہ 2028 میں جب اس دوا کے اصل پیٹنٹس کی مدت ختم ہوجائے، تب بھی کمپنی اضافی اور ذیلی پیٹنٹس کے سہارے مزید 14 سال تک مارکیٹ میں کسی بھی سستی متبادل دوا (Biosimilars) کا راستہ روکا جاسکے اور کمپنی متبادل ادویہ نہ ہونے کے سبب لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اربوں ڈالر کا منافع بٹورتی رہے۔

کئی نامور ماہرینِ سرطان (Oncologists) کا کہنا ہے کہ اس کمپنی نے جان بوجھ کر مارکیٹ میں اپنی مذکورہ دوا کی ایسی خوراکوں کو فروغ دیا ہے جو ضرورت سے کہیں زیادہ ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے ایک تخمینے کے مطابق، اگر پھیپھڑوں کے کینسر کے مریضوں کو فکسڈ ڈوز کے بجائے صرف ان کے وزن کے حساب سے دوا دی جائے، تو 2040 تک عالمی سطح پر 5 ارب ڈالر کی بچت کی جاسکتی ہے، لیکن محض تجارتی مقاصد کے لیے دوا کی خوراکوں کی تعداد بڑھاکر دوا کی زیادہ سے زیادہ فروخت کو یقینی بنایا جاتا ہے، اور اس کے ملحقہ مضر اثرات (سائیڈ افیکٹس) سے نہ کمپنیوں کو سروکار ہوتا ہے نہ ڈاکٹروں کو۔

اس دوا ساز کمپنی نے قیمتوں کی پالیسیوں میں انتہائی رازداری برتی ہے اور میڈیکل انڈسٹری کے ضابطوں کے چور راستوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ صرف امریکا میں، اس کمپنی نے ڈاکٹروں، اسپتالوں اور صحت کے شعبے سے وابستہ پیشہ ور افراد میں، اپنے حق میں مہم چلانے، کنسلٹنگ فیس اور سفری اخراجات کی مد میں کروڑوں ڈالر تقسیم کیے ہیں، تاکہ اس دوا کے استعمال کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جا سکے۔

آئی سی آئی جے کے مالیاتی تجزیے کے مطابق 2014 سے اب تک یہ کمپنی صرف سرطان مخالف دوا کی فروخت سے 163 ارب ڈالر کی کمائی کرچکی ہے۔ اس خطیر آمدنی میں سے کمپنی نے 75 ارب ڈالر اپنے شیئر ہولڈرز کو ڈیویڈنڈز کی شکل میں دیے اور 43 ارب ڈالر کے اپنے ہی شیئرز دوبارہ خریدے۔ اس کے ساتھ ہی، کمپنی نے ٹیکس بچانے کے لیے اپنے منافع کو ان ممالک (جیسے سوئٹزرلینڈ) کے کھاتوں میں ظاہر کیا جہاں ٹیکس کی شرح کم ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ بتاتی ہے کہ اس سرطان مخالف دوا کی قیمت نہایت زیادہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر جعلی اور غیرمعیاری ادویات کا ایک کالا بازار جنم لے چکا ہے، جہاں غریب اور مجبور مریضوں کو جعلی دوا فروخت کرکے ان کی زندگی کو مزید کم کیا اور زیادہ اذیت ناک بنایا جارہا ہے۔

جب اس دواساز کمپنی نے کینسر کی زندگی بچانے والی دوا متعارف کروائی، تو دنیا بھر کے مریضوں کے لیے یہ ایک معجزے سے کم نہیں تھی۔ لیکن اس معجزے کے پیچھے ایک ایسی کاروباری اور قانونی حکمتِ عملی چھپی ہوئی ہے جس کا مقصد اس دوا پر کمپنی کی اجارہ داری کو ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنا ہے۔ اس طریقہ کار کو قانونی اور طبی دنیا میں ’’ایورگریننگ‘‘ (Evergreening) کہا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ پرانے پیٹنٹس (حقوقِ ملکیت) کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی دوا میں معمولی تبدیلیاں کر کے نئے پیٹنٹس حاصل کر لیے جائیں تاکہ سستی متبادل ادویات کو مارکیٹ میں آنے سے روکا جا سکے، اس طریقۂ واردات کا پچھلی سطروں میں سرسری طور پر تذکرہ کیا جاچکا ہے، لیکن یہ معاملہ تفصیل کا تقاضا کرتا ہے، کیوں کہ ایورگریننگ کی خوب صورت اصطلاح کے پیچھے جو کاروباری مفادات چھپے ہیں ان کے باعث کروڑوں مریض کم قیمت دواؤں سے محروم کردیے جاتے ہیں اور حالات دوا خریدنے کی اجازت نہ دیں تو وہ تڑپ تڑپ کر جان دے دیتے ہیں۔ ICIJ کی جانب سے پیٹنٹ کے عالمی ریکارڈز کے گہرے تجزیے سے یہ انکشاف ہوا کہ مذکورہ دواساز کمپنی نے اپنی سرطان مخالف دوا کا متبادل نہ بننے دینے کے لیے سیکڑوں پیٹنٹس کا ایک ِ جال بن دیا ہے جو اس دوا کی قیمت کو گرنے نہیں دے رہا۔ آئی سی آئی جے کی تحقیقی رپورٹ انکشاف کرتی ہے کہ اس کمپنی اور اس کے کاروباری شراکت داروں نے دنیا کے 53 ممالک اور خطوں میں اپنی سرطان مخالف دوا کے حوالے سے کم و بیش 1,212 پیٹنٹ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ اس دوا کا اصل پیٹنٹ (جو اس کے بنیادی فارمولے کی حفاظت کرتا ہے) 2028 میں ختم ہونے والا ہے، لیکن کمپنی کی جانب سے دائر کردہ دیگر ذیلی پیٹنٹس کی وجہ سے، کم از کم مزید 14 سال یعنی 2042 تک کینسر کی دواؤں کی مارکیٹ پر اپنا تسلط برقرار رکھ سکتی ہے۔ ان نئے پیٹنٹس میں کوئی انقلابی تبدیلی نہیں کی گئی، بلکہ دوا دینے کے طریقوں (جیسے جلد کے نیچے انجکشن لگانا) یا اسے دوسری عام ادویات کے ساتھ ملا کر دینے جیسے معمولی طریقوں کو بنیاد بنا کر نئے حقوق حاصل کیے گئے ہیں۔

یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ ایورگریننگ کا جال کیسے بُنا جاتا ہے۔ جب کوئی کمپنی نئی دوا ایجاد کرتی ہے، تو قانون اسے 20 سال کا پیٹنٹ دیتا ہے تاکہ وہ اپنی تحقیق پر آنے والی لاگت پوری کرسکے اور منافع کما سکے۔ اس مدت کے بعد دیگر کمپنیوں کو اس دوا کے ’’بایوسیمیلرز‘‘ (سستی متبادل ادویات) بنانے کی اجازت ہوتی ہے، جس سے قیمتیں 80 فی صد تک گر جاتی ہیں۔ تاہم، جس کمپنی کا ذکر ہورہا ہے اس نے اپنی دوا کے معاملے میں اس قانون کا چور راستہ نکالا۔ کمپنی نے نہ صرف دوا کے بنیادی اجزاء بلکہ اس کی تیاری کے مراحل، پیکنگ کی تیکنیک، اور یہاں تک کہ مخصوص قسم کے کینسر کے مریضوں پر اس کے اثرات کو بھی الگ الگ پیٹنٹ کروا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اگر کوئی دوسری کمپنی سستی دوا بنانا بھی چاہے، تو اسے اِس کمپنی کے وکلاء کی طرف سے درجنوں مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا خرچ اٹھانا کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔

دوا ساز کمپنی کی اس پیٹنٹ جنگ کا سب سے ہول ناک اثر عام مریضوں پر پڑ رہا ہے۔ سستی متبادل ادویات کا راستہ روکنے کی وجہ سے اس کی سرطان مخالف دوا کی قیمتیں غریب اور ترقی پذیر ممالک میں لوگوں کی پہنچ سے باہر ہیں۔

یونیورسٹی آف ہیمپشائر کے پیٹنٹ قانون کے پروفیسر اور دیگر قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹنٹ کے قانون کو استعمال کرکے سستی ادویہ کا راستہ روکنے یہ رویہ پیٹنٹ سسٹم کے اصل مقصد کی توہین ہے۔ پیٹنٹ سسٹم اس لیے بنایا گیا تھا تاکہ نئی ایجادات کی حوصلہ افزائی ہو، اس لیے نہیں کہ مریضوں کو بلیک میل کرکے اربوں ڈالر کمائے جائیں۔

اب آتے ہیں دوا کی خوراک کی طرف۔

امریکن سوسائٹی آف کلینیکل اونکولوجی (ASCO) کی سالانہ کانفرنس میں پیش کی جانے والی نئی طبی تحقیقات سے یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی مہنگی ترین ادویات، بشمول دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی وہ دوا جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے، کی طے شدہ خوراک میں کمی کر کے نہ صرف عالمی سطح پر صحت کے بجٹ میں سالانہ اربوں ڈالر کی خطیر بچت کی جا سکتی ہے، بلکہ غریب ممالک کے لاکھوں مریضوں کے لیے اس زندگی بچانے والے علاج تک رسائی بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ جس وقت امریکی ادارے ’’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘‘ (FDA) نے 2014 میں جب مذکورہ دوا کی منظوری دی تھی، تو اس کی مقدار مریض کے وزن کے حساب سے (2 ملی گرام فی کلوگرام) طے کی گئی تھی۔ تاہم، بعد میں اسے بنانے والی دوا ساز کمپنی نے کاروباری حکمتِ عملی کے تحت ایف ڈی اے سے ایک ’’مقررہ خوراک‘‘ ( Dosage Fixed) کی منظوری حاصل کرلی۔ چناں چہ کمپنی کی جانب سے مریض کے وزن اور دوا کی خوراک سے اس کی صحت پر ہونے والے مضر اثرات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ہر تین ہفتے بعد 200 ملی گرام یا ہر چھے ہفتے بعد 400 ملی گرام کی بھاری خوراک تجویز کی جاتی ہے۔ شکاگو میں منعقدہ طبی کانفرنس میں ماہرین نے اصرار کیا تھا کہ موجودہ طریقۂ کار کے تحت کینسر کے مریضوں کو ضرورت سے کہیں زیادہ ادویات دی جا رہی ہیں، جس کا براہِ راست فائدہ دوا ساز کمپنیوں کے منافع کی شکل میں نکل رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس دوا کی کم مقدار بھی کینسر کے خلاف اتنی ہی مؤثر اور کارآمد ہے۔ ایک سائنسی مطالعے کے مطابق ادویہ کی خوراکیں کم کرنے سے دنیا بھر میں سالانہ 30 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوسکتی ہے، اور ظاہر ہے اسی اعتبار سے مریض پر مرتب ہونے والے ملحقہ مضر اثرات میں بھی کمی ہوگی، لیکن دواساز اداروں کا دھندا کچھ مندا ہوجائے گا، اور انھیں بس اسی سے غرض ہے۔ یونیورسٹی آف شکاگو کے محققین کی ایک تحقیقی رپورٹ میں امریکی ادارے ایف ڈی اے (فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن) سے منظور شدہ 29 مہنگی ترین ادویات کا گہرا تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے 21 ادویات ایسی ہیں جنھیں اگر کم مقدار میں یا زیادہ وقفے کے ساتھ دیا جائے، تب بھی وہ اتنی ہی کام یابی سے کینسر کے خلیات کو ختم کرتی ہیں۔ اس سے ایک عام مریض کے علاج میں سالانہ 40 ہزار سے 2 لاکھ 40 ہزار ڈالر تک کی بچت ہوسکتی ہے، جو عالمی سطح پر مجموعی طور پر 31 ارب ڈالر کا ریلیف بنتا ہے۔ اس تحقیق کے شریک محقق محمد علی نے بتایا کہ کینسر کے خلاف لڑنے والی یہ اینٹی باڈیز انسانی جسم میں طویل عرصے تک موجود رہتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ مریض کو روز روز یا مسلسل بھاری خوراک دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

مغربی دنیا کے برعکس، جہاں بڑی کارپوریشنز کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے، بھارت کے ڈاکٹروں نے گذشتہ نو سال سے سیکڑوں مریضوں پر کم خوراک والی امیونو تھراپی کے کلینیکل ٹرائلز کام یابی سے انجام دیے ہیں۔

ٹاٹا میموریل ہسپتال کے ڈاکٹر پربھاش کہتے ہیں،’’جب ہم دوا کی بھاری خوراک استعمال کرتے ہیں، تو بھارت میں کینسر کے صرف 5 فی صد مریض اس کا خرچ اٹھا پاتے ہیں، جب کہ خوراک کم کرنے سے یہ سہولت فوری طور پر 60 فی صد تک مریضوں کی پہنچ میں آجاتی ہے۔‘‘ اس ضمن میں کی جانے والی ایک تحقیق پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا 380 مریضوں کو دو حصوں میں بانٹا گیا۔ ایک گروہ کو روایتی کیموتھراپی دی گئی، جب کہ دوسرے گروہ کو کیموتھراپی کے انسدادسرطان کی دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی دوا کی انتہائی کم مقدار (صرف 50 ملی گرام) دی گئی۔ نتائج حیران کن تھے، کم خوراک لینے والے مریض نہ صرف زیادہ عرصے تک زندہ رہے بلکہ ان میں کینسر کے پھیلاؤ کی رفتار بھی انتہائی سست دیکھی گئی۔ ایسا ہی ایک اور کام یاب تجربہ 400 سے زائد مریضوں پر دوا کی بہت کم خوراک کے ساتھ سر اور گردن کے کینسر کے مریضوں پر کیا گیا، جس کے نتائج بھی انتہائی حوصلہ افزا رہے۔

اب ایک طرف سرطان میں مبتلا تکلیف جھیلتے، مرتے مریض اور ان کے علاج کے خرچے سے نڈھال اہل خانہ ہیں اور دوسری طرف دواساز کمپنیوں کے کاروباری مفادات، حربے اور مکاریاں، اِدھر کینسر زندگی اور کاروبار حیات کا دشمن بن کر آتا ہے تو اُدھر کینسر کاروبار چمک اٹھتا ہے!  

Load Next Story