کیا امریکہ کی اقتصادی پابندیاں ایران کو جھکا پائیں گی؟

ایران کئی دہائیوں سے اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کر رہا ہے، مکہ معاہدے میں شمولیت ایران کو سہارا دے سکتی ہے

سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران پر مسلط کی جانے والی جنگ اور مزاکرات کے کئی ادوار سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہونے کے بعد ٹرمپ نے ایران پر 'اکنامک ڈی ڈے' عائد کرنے کا اعلان کیا تھا. ڈی ڈے کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم میں اتحادی کی طرف سے جرمن افواج پر شدید ترین حملوں کیلئے استعمال کی گئی تھی۔اسی اعلان کے بعد گزشتہ دنوں امریکا نے ایران سے منسلک کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کر دیں ہیں۔

ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو ثانوی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے گا.امریکی وزیر خزانہ نے ایران سے منسلک کمپنیوں اور شخصیات پر نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے منسلک 60 اداروں، افراد اور جہازوں پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ امریکی وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کمپنیوں اور شخصیات کا تعلق جوہری، میزائل، سائبر اور تیل کے نیٹ ورکس سے ہے جبکہ ایران کو بعض ترسیلاتِ زر کی اجازت دینے والے عمومی لائسنس معطل کر دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات، ہانگ کانگ، چین، سنگاپور، سوئٹزرلینڈ اور یورپ میں بروکر کمپنیاں پابندیوں کی زد میں آئیں ہیں اور روسی خفیہ بحری بیڑے کے جہازوں کے نیٹ ورک پر بھی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔

ان پابندیوں میں ڈیجیٹل اثاثے' ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور بحری شعبوں کو ثانوی پابندیوں کا ہدف بنایا جائے گا جبکہ ٹرمپ نے عالمی رہنماؤں سے ایران کے ساتھ معاشی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر ملک کو ہماری نشاندہی کردہ سرگرمیاں بند کرنے کیلئے واضح ڈیڈ لائن دی گئی۔اگر وہ کارروائی نہیں کرتے تو ہم یک طرفہ طور پر کارروائی کریں گے۔ایران سے تعاون کرنے والے ممالک ہمارے مخالف ملک تصور کئے جائیں گے۔ چین نے ان پابندیوں کو غیر ضروری اقدام قرار دیتے ہوئے تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 دوسری طرف اسی دوران غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ رائٹرز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے بنیادی طور پر یہ درخواست کی گئی تھی کہ پاکستان اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لائے۔

خبررساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ معتبر پاکستانی ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے ہونے والا یہ رابطہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کیا گیا تھا۔ رائٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس کے پریس سیکرٹری کے دفتر نے اس خبر پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا گیا اور فی الحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور صدر ٹرمپ کے درمیان کن امور پر بات چیت ہوئی۔ یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سوموار کو دورہ ایران پر تہران پہنچے تھے جہاں تہران میں ان کی ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ سے ملاقات بھی ہوئی۔

ملاقات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر علاقائی امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کے سلسلے میں ایران گئے تھے۔اس دورے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دیگر چینلز کے ساتھ ایران سے مذاکرات کے چینل کوبھی متحرک رکھنا چاہتا ہے اور دیکھا جائے تو یہ ایک مثبت سفارتی حکمت عملی ہے۔ جہاں تک امریکی اقتصادی پابندیوں کا تعلق ہے تو اس میں یہ دیکھنا اہم ہے کہ ٹرمپ کا ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کیا ہے اور کیا برسوں سے پابندیاں جھیلنے والا ایران ان کے سامنے جھک جائے گا؟

جنگ شروع ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جنگ میں فوری فتح ملے گی۔ اس دعوے کو چھ ماہ گزر چکے ہیں اور تنازع تاحال تعطل کا شکار ہے جبکہ فوجی کامیابی یا مذاکرات کے ذریعے تصفیے کے امکانات بھی مزید کم ہوتے جا رہے ہیں۔

اس تعطل کو توڑنے کے لیے ٹرمپ نے ایک ’اقتصادی ڈی ڈے‘ کا اعلان کیا جس کے تحت ایران پر نئی اقتصادی پابندیاں لگا کر اسے معاہدے پر مجبور کیا جائے گا اور اس کے ساتھ کاروبار کرنے والے کسی ملک کو بھی سخت معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم ہم نے دیکھا ہے کہ ایران طویل عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرتا آ رہا ہے اور اب تک اس نے مشکلات برداشت کرنے اور تنازع طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ شدید اقتصادی اور فوجی دباؤ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ لہٰذا امریکہ کے لیے بنیادی سوال یہ بنتا ہے کہ جہاں دیگر حکمت عملیاں ناکام رہی ہیں کیا مزید اقتصادی پابندیاں وہاں کامیاب ہو سکتی ہیں؟ امریکی اقتصادی دباؤ کا طریقہ کار کیا ہو گا اس کا مستقبل میں عملدرآمد سے معلوم ہوگا۔

 امریکی وزیرِ خزانہ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ امریکہ کسی بھی ایسے ملک کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے ’خواہ وہ دوست ہو یا دشمن‘ جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ ایران کو سہارا فراہم کر رہا ہے۔

انھوں نے کہا یا تو آپ ہمارے ساتھ ہیں یا ہمارے خلاف۔ اگر آپ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے پر مصر ہیں چاہے رقم منتقل کر کے، ان کا تیل خرید کر یا سمندری راستے سے منتقلی کر کے، تو امریکی محکمہ خزانہ اور امریکی حکومت آپ کے خلاف پابندیوں کے لیے اپنی پوری طاقت اور قوت استعمال کرے گی۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ان پابندیوں کو تنازع کے نئے مرحلے سے تعبیر کیا ہے جس میں اقتصادی دباؤ کو امریکہ کے لیے دستیاب سب سے مؤثر ہتھیار قرار دیا گیا ہے۔ وینس کے مطابق وہ ہم پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے لیکن گذشتہ چند ہفتوں میں حقیقت یہ رہی ہے کہ انھوں نے ہمارے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ محسوس کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہم یہ سلسلہ جاری رکھیں گے کیونکہ ہمارا خیال ہے کہ بالآخر حتمی مقصد حاصل کرنے کا یہی بہترین طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ ایران کو 1979 میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے تقریباً آغاز ہی سے امریکہ کی سخت پابندیوں کا سامنا رہا ہے۔ اقتصادی دباؤ کی مہم اس وقت مزید شدت اختیار کر گئی جب ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ نے جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن سے دستبرداری اختیار کی۔ یہ 2015 میں عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان اس کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے طے پانے والا معاہدہ تھا۔

موجودہ تنازع میں امریکی حکومت پہلے ہی آپریشن اکنامک فیوری کا اعلان کر چکی ہے۔ یہ ایک دو رخی امریکی اقتصادی مہم ہے جس میں امریکی محکمہ خزانہ کے تعاون سے ایرانی سرمایے کے بہاؤ کے خلاف پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کے خلاف بحری ناکہ بندی شامل ہے۔ اس حوالے سے یہ سوال اہم ہے کہ اگر تنازع طول پکڑتا گیا تو ایران کے لیے سب سے خطرناک محاذ کون سا ہو گا۔ واشنگٹن ڈی سی میں اٹلانٹک کونسل سے وابستہ جیو سٹریٹیجی کے ماہر اور محکمہ دفاع کے سابق پالیسی مشیر عمران ہیومی کے مطابق امریکہ کا تازہ اعلان غالباً اس بڑھتی ہوئی مایوسی کا نتیجہ ہے کہ دیگر آپشنز ٹرمپ کو مطلوبہ نتائج فراہم نہیں کر سکے۔ انھوں نے کہا کہ یہ درحقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ امریکہ اس جنگ میں تقریباً پھنس چکا ہے۔ یہ اقتصادی دباؤ کی ایک اور کوشش ہے۔ ہیومی نے مزید کہا یہ صرف ایک اور ہتھیار ہے جسے امریکہ استعمال کر رہا ہے۔ ہم نے انتظامیہ کی جانب سے کوئی واضح حکمت عملی نہیں دیکھی۔ امریکہ کیا حاصل کرنا چاہتا ہے اس سوال کا جواب اب بھی نہیں ملا۔

آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول میں آٹھ برس تک خدمات انجام دینے والے اور اقتصادی پابندیوں کے ماہر مائیکل پارکر نے کہا کہ نئی حکمت عملی کے تحت پہلے سے نافذ اقتصادی پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا اور ان ممالک کو بھی نشانہ بنایا جائے گا جو اب بھی ایران کے ساتھ لین دین کرتے ہیں اور ان کی معیشتیں ڈالر پر انحصار کرتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اب تک امریکہ نے بڑی حد تک ان ثانوی پابندیوں کے خطرے کو غیر ملکی مالیاتی اداروں کے خلاف استعمال کیا ہے تاکہ پابندیوں کی پالیسی پر عملدرآمد کی حوصلہ افزائی کی جا سکے۔ پارکر نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی ایسی چیز کو نشانہ بنانے پر کام کم ہوا ہے جو امریکی ڈالر سے بھی منسلک ہو اور ایران سے بھی۔ پارکر نے ان غیر ملکی مالیاتی اداروں کی مثال دی جو ایران کو پابندیوں سے بچ نکلنے میں مدد دیتے ہیں یا ایرانی خزانے کی طرف رقوم منتقل کرتے ہیں۔

ایران ان اقدامات سے کیسے نمٹے گا اور انکا کیا جواب دے گا یہ ابھی واضح نہیں۔ لیکن پابندیوں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اب تک غیر روایتی ذرائع استعمال کر کے پابندیوں کو ناکام بنانے میں مہارت دکھا چکا ہے۔ جیسے تیل کی نقل و حمل کرنے والے ’شیڈو‘ جہاز استعمال کرنا یا ایسے تجارتی راستوں کو استعمال کرنا جہاں امریکی پابندیوں کا اطلاق نہیں ہوتا۔ لندن سٹاک ایکسچینج میں ایکسپورٹ کنٹرول اور پابندیوں کے مینیجر محمد حمودہ نے کہا کہ آپ مسلسل نئے نام سامنے آتے دیکھتے ہیں کیونکہ ایران بہت تیزی سے خود کو ڈھال رہا ہے۔ کوئی بھی پابندی عائد کی جائے، وہ اس سے نکلنے کے لیے ایک نیا راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ جن لوگوں پر ایران کے خلاف پابندیوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری ہوتی ہے، وہ ایران کی جوابی تدابیر کا توڑ ہی کرتے رہ جاتے ہیں۔ حمودہ نے کہا کہ پابندیاں کاغذی ہیں لیکن اصل کام پردے کے پیچھے ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ٹیمیں پابندیاں نافذ کرنے اور متعلقہ فریقوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اسی لیے ایران کو بھی خود کو بدلتے حالات کے مطابق ڈھالنا پڑتا ہے۔

یہ پابندیاں کتنی مؤثر ثابت ہوں گی اس کا زیادہ تر انحصار اس بات پر ہو گا کہ ان کا نشانہ بننے والے ممالک ’جن میں ترکی اور عراق جیسے امریکی اتحادیوں کے ساتھ ساتھ چین بھی شامل ہو سکتا ہے‘ کس طرح ردعمل دیتے ہیں۔ پارکر نے کہا کہ اس کا کچھ حصہ ایران کے اختیار سے باہر ہے۔ پابندیوں سے بچنے یا انھیں نظرانداز کرنے کی ایران کی صلاحیت بڑی حد تک دوسرے ممالک اور مالیاتی اداروں کی اس آمادگی پر منحصر ہے کہ وہ ایران کو باضابطہ بینکاری نظام تک رسائی دیتے ہیں یا نہیں۔

پارکر کے مطابق ان اقدامات کے مؤثر ہونے کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہدف بننے والے ممالک امریکی خارجہ پالیسی کے اہداف کے ساتھ کس حد تک تعاون کرتے ہیں یا پھر امریکی ڈالر سے وابستہ تجارت پر ممکنہ سخت اقتصادی نتائج برداشت کرنے کے لیے کتنے تیار ہیں۔ بیومی نے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ چین اس پر راضی ہو جائے گا۔ یہ تمام ریاستیں ماضی میں اپنے مفادات کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ راستہ نکالنے میں کامیاب رہی ہیں۔ ان نئی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جائے تو بنیادی نکتہ یہ سامنے آتا ہے کہ ہے یہ پابندیاں جنگ کا ایک اور نیا ہتھیار ہیں۔ان کی کامیابی کا انحصار حکمت عملی پر ہے اور کامیاب حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں کہ یہ طویل مدت میں کسی چیز کو تبدیل کر سکے گا۔کیونکہ جیساکہ پہلے اوپر ذکر ہوچکا ہے کہ ایران طویل عرصے سے ایسی پابندیوں کا سامنا کامیابی سے کرتا چلا آرہا ہے۔ چین جیسے طاقتور ممالک ان پابندیوں کو خاطر میں بھی نہیں لاتے تاہم پاکستان جس کیلئے ایران کے ساتھ گیس پٹرولیم اور دیگر مصنوعات کے حوالے سے تجارت بڑھانے کے مواقع پیدا ہوئے تھے اب اس کے امکانات معدوم ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں اور مستقبل میں پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک امریکی دباؤ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ادھر مکہ معاہدہ کے حوالے سے ایک اہم ڈیویلپمنٹ یہ سامنے ائی ہے کہ ایران کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کرنے والے ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے باضابطہ طور پر ایران کو اِس معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت نہیں دی ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ہمیں مکہ معاہدے میں شمولیت کی کوئی دعوت موصول نہیں ہوئی ہے تاہم علاقائی سلامتی کے حوالے سے اِن ممالک کے ساتھ مذاکرات کی تجاویز ضرور دی گئی ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل لبنانی ٹی وی نیٹ ورک ’المیادین‘ نے ایک ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ ایران کو مکہ معاہدے میں شامل ہونے کی دعوت موصول ہوئی ہے اور اس معاملے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایران کے مکہ معاہدے میں شمولیت سے متعلق خبریں سامنے آنے کا سلسلہ دو روز قبل اْس وقت شروع ہوا تھا جب ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کا اس ضمن میں ایک بیان سامنے آیا ایران مکہ معاہدے میں بانی رکن کے طور پر شامل ہونا چاہے گا۔ ان حالات میں ایران کی مکہ معاہدے میں شمولیت یقینا اتحاد کیلئے ایک چیلینج بن سکتی ہے لیکن ساتھ ہی ایران کو خطے اور امریکہ و اسرائیل کیخلاف ایک تقویت فراہم کر سکتی ہے۔

Load Next Story