پابندیاں ایران پر، لیکن مشکلات امریکا کے لیے

ایران کے خلاف امریکی اعلان میں معاشی شریانوں اور مالیاتی چینلز کو کاٹنے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

حال ہی میں امریکی انتظامیہ اور اس کے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران پر معاشی دباؤ کی ایک نئی مہم شروع کی ہے، جسے امریکا کے صدر ٹرمپ نے اکنامک ڈی ڈے کا نام دیا ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد تہران پر زیادہ سے زیادہ معاشی دباؤ ڈالنا ہے۔ تاہم، اس اقدام سے نہ صرف بین الاقوامی سیاست، سفارت کاری اور عالمی معیشت پر اثرات پڑ رہے ہیں بلکہ قانونی اور انسانی بنیادوں پر بھی سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف معاشی محاصرے کا اقدام اس بات کی دلیل ہے کہ امریکا کی وزارت جنگ نے شکست تسلیم کر لی ہے لیکن شاید امریکی صدر کے مشیروں کو یہ بات نہیں معلوم کہ یہ پابندیاں بھی ایران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہیں کیونکہ ایران نے ان حالات کے لیے اپنے آپ کو چالیس برس سے تیار کر رکھا ہے۔

ایران کے خلاف امریکی اعلان میں معاشی شریانوں اور مالیاتی چینلز کو کاٹنے کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ اس کا عملی اور فنی معنی بین الاقوامی بینکنگ اور سوئفٹ (SWIFT) نیٹ ورک کو مفلوج کرنا ہے۔اسی طرح اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایران کے تیل اور ایندھن کی برآمدات کو مکمل طور پر روکا جائے اور اسے صفر تک لایا جائے تا کہ ایران پر شدید معاشی دباؤ آئے۔اوپر استعمال کی گئی اصطلاح کے معنوں میں یہ بھی آتا ہے کہ امریکا ایران کے غیر ملکی کرنسی اور مرکزی بینک کے اثاثے بھی منجمد کرنے کا اعلان کر رہا ہے۔

 سوئفٹ وہ عالمی مالیاتی میسجنگ سسٹم ہے جس کے ذریعے دنیا بھر کے بینکس ایک دوسرے کو پیسے منتقل کرتے ہیں۔ جب کسی ملک کو سوئفٹ سے الگ کیا جاتا ہے تو وہ اپنے تیل، گیس یا اشیاء کی فروخت کے پیسے بین الاقوامی بینکاری کے ذریعے حاصل نہیں کر سکتا۔تیل ایران کی معیشت کی سب سے بڑی شریان ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے تیل کے بحری ٹینکرز، خریداروں اور ان کی انشورنس کمپنیوں پر دباؤ ڈال کر برآمدات کو صفر پر لانا ہے۔ایران کے مرکزی بینک کو بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی سے محروم کرنا اور ڈالر میں لین دین مکمل طور پر بلاک کرنا، تاکہ غیر ملکی کرنسی کی آمد و رفت رک جائے۔

امریکی وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ ایران سے تیل خریدنے والے یا اس سے معاشی تعلق رکھنے والے دیگر ممالک پر شدید ثانوی پابندیاں عائد کی جائیں گی اور انھیں عالمی سطح پر معاشی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ دراصل امریکا نے اپنے دوست اور اتحادی ممالک کی کھلم کھلا توہین کی ہے اور ماہرین کے مطابق اس زبان کو بدمعاشی کی زبان قرار دیا جا رہا ہے جو کہ دوست ممالک کے ساتھ استعمال کرنا بالکل نا مناسب ہے۔رائٹرز اور اناڈولو نیوز ایجنسی نے امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف اس اقدام کے بعد ایران کے موقف کو بیان کیا ہے جس میں ایرانی حکام اور وزارت خارجہ نے اسے معاشی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے انتباہ دیا ہے کہ اگر اقتصادی ناکہ بندی جاری رہی تو خلیج فارس اور ہرمز کی سیکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکا کا حالیہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکی حکومت جنگ کے بعد شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔اسی موضوع پر چین کا رد عمل سامنے آیا ہے۔چین ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔چین نے اپنے جائز اقتصادی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے یکطرفہ اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق چین نے امریکا کو کہا ہے کہ چین ایران کے خلاف امریکا کی یک طرفہ پابندیوں کو قبول نہیں کرتا تاہم سفارتکاری کو جگہ دی جائے۔ امریکا نے اگرچہ ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ان پابندیوں کے بعد نقصان امریکا کو بھی پہنچے گا۔دوسری طرف امریکا کے ایران مخالف اقدامات کے بعد ایران نے مسلسل آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر ر کھا ہے اور بحری جہازوں کو ایران کی اجازت کے بعد ہی جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

آبنائے ہرمز میں آمدورفت کے خدشات کی وجہ سے عالمی انرجی مارکیٹس اور سپلائی چینز متاثر ہو رہی ہیں۔اگرچہ امریکا نے پابندیاں ایران کے خلاف اعلان کی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان پابندیوں کا براہ راست یا بالواسطہ اثر امریکی معشیت پر بھی پڑ رہا ہے۔ایران کے ساتھ پہلے ہی ایک طویل جنگ کی وجہ سے امریکا میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے عام شہریوں کے لیے گیسولین مہنگا ہو رہا ہے، جس سے افراطِ زر (Inflation) کنٹرول کرنے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔امریکی شہری شدید پریشان ہیں اور وہ ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کی مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ ا س جنگ کا اربوں ڈالر کا بجٹ براہ راست امریکی شہریوں کی جیبوں اور ان کی زندگی پر پڑ رہا ہے۔

امریکا اگرچہ پابندیوں کو بطور ہتھیار مسلسل استعمال کر رہا ہے لیکن امریکی حکومت اس بوکھلاہٹ کے عالم میں یہ جاننے سے قاصر ہے کہ امریکا کے مخالف اتحادی ڈالر کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے عمل کو خود امریکا کے لیے بھی موڑ سکتے ہیں، یعنی چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی معیشتیں ڈالر کے متبادل تجارتی نظام کی طرف پیش قدمی کرسکتی ہیں اور ایسا ہو بھی رہاہے، اگر ایسا تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو امریکی ڈالر کی تباہی کی ذمے داری بھی امریکی حکومت کے ان ایران مخالف اقدامات کی طرف جائے گی جو آج کل ایران کے خلاف کیے جا رہے ہیں۔

اسی طرح امریکا میں گیس کی قیمتوں میں اضافہ آیندہ انتخابات پر براہ راست اثر انداز ہوگا۔ اپوزیشن اور ناقدین موجودہ انتظامیہ کی اس پالیسی کو عام امریکی ووٹر کے لیے مہنگائی کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ایک اور اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ آیا امریکا نے ایران کے خلاف جو سخت معاشی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے تو کیا امریکا کو یکطرفہ یہ اقدامات کرنے کا بین الاقوامی قانونی حق بھی حاصل ہے یا نہیں؟ اس حوالے سے امریکی حکومت اپنے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت ان اقدامات کو اپنی قومی سلامتی کے لیے قانونی قرار دے رہی ہے، لیکن بین الاقوامی قانون کی نظر میں یہ بالکل غلط ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ امریکی معاشی پابندیاں تہران کی معاشی شریانوں اور مالیاتی چینلز کو بند کر کے تزویراتی مقاصد حاصل کرنے کی ایک کوشش ہیں، لیکن ان اقدامات نے عالمی توانائی کی منڈی، امریکی داخلی معیشت اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کو سخت خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ عالمی سطح پر یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ سیاسی اہداف کے حصول کے لیے معاشی ناکہ بندی کا استعمال معصوم شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کو مجروح کر رہا ہے۔یہی کام امریکا ایران سمیت دنیا کی دیگر اقوام کے خلاف انجام دے رہا ہے ۔

Load Next Story