کامیاب سفارت کاری
جب دو ملکوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے تو زمینی، فضائی اور بحری محاذوں پر ہر دو فریق کی فوجیں مدمقابل ہوتی ہیں۔ بعینہ اپنی فوجی برتری، مہارت اور بالادستی ثابت کرنے کے لیے تمام جنگی حربے استعمال کرتی ہیں۔ جس ملک کی فوج حربی صلاحیت کا مظاہرہ کرکے مخالف فوج کو زیر کرنے اور اس پر غلبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے وہی فاتح قرار پاتی ہے۔ 21 ویں صدی کے جدید ٹیکنالوجی والے دور میں فضا میں لڑی جانے والی طیاروں اور میزائلوں کی جنگیں فتح و شکست کا فیصلہ کن وار قرار پاتی ہیں۔
گزشتہ سال پاکستان کی جاں باز شاہین صفت فضائیہ نے اپنے سے چار گنا بڑے دشمن بھارت کو محض چار روز میں ایسی عبرت ناک شکست سے دوچار کیا کہ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منت سماجت کرنا پڑی کہ وہ پاکستان کو جنگ بندی پر آمادہ کریں۔ بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کا سارا کریڈٹ اس وقت کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حصے میں آتا ہے۔ اس شان دار اور تاریخی فتح کے نتیجے میں انھیں فیلڈ مارشل کا منصب عطا کیا گیا۔
دنیا بھر میں پاکستان اور فوج کا وقار بلند ہوا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد مرتبہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دے چکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ٹیلی فون کرکے استدعا کی کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو آمادہ کریں کہ وہ امریکا کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کی میز پر آ کر بیٹھے ۔ دنیا کی سپرپاور کے صدر کا فیلڈ مارشل کو فون کرکے ان سے استدعا کرنا اس امر کا عکاس ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی گوناگوں سفارتی صلاحیتوں پر وہ حد درجہ اعتماد کرتے ہیں جو بلاشبہ پاکستان کے لیے عالمی سطح پر عزت و توقیر میں اضافے کا باعث ہے۔
اس پس منظر میں گزشتہ پیر کو فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا جہاں انھوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر داخلہ اسکندر مومنی، وزیر خارجہ عباس عراقچی، اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کرکے امریکا ایران کشیدگی، دو طرفہ مذاکرات اور اسلام آباد معاہدے کے حوالے سے اہم بات چیت کی۔ ان ملاقاتوں میں امریکا ایران تنازع، کشیدگی میں کمی، آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے اقدامات اور علاقائی امن کے حوالے سے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی قیادت نے تنازع کے پرامن حل میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا۔ ایرانی صدر نے واضح طور پر کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے سے اہم سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور دورے کے مثبت نتائج جلد ہی سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا سفارتی محاذ میں خدمات کا اعتراف اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وہ نہ صرف حربی محاذ کے کامیاب ترین جرنیل ہیں بلکہ عالمی سطح پر سفارت کاری کے میدان کے بھی ماہر شہسوار ہیں۔
دنیا جانتی ہے کہ امریکا و اسرائیل اپنی تمام تر فوجی قوت، مہارت اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرے اسلحہ خانوں کے باوجود ایران سے 39 روز تک جنگ لڑنے کے باوجود اسے شکست دینے میں ناکام رہے۔ ایرانی قیادت اور قوم نے اپنی بے مثال یکجہتی، ایمانی قوت اور ثابت قدمی سے دنیا کی سپرپاور کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جس کا برملا اعتراف اور ستائش دنیا بھر کا میڈیا کر رہا ہے۔ امریکا نے جنگی محاذ پر ناکامی کے بعد ایران کے خلاف اب معاشی جنگ کا محاذ کھول لیا ہے اور ایران کے خلاف نہ صرف یہ کہ سخت ترین معاشی پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے بلکہ ایران سے معاشی تعلقات رکھنے والے ممالک کو بھی دھمکا رہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے معاشی روابط منقطع کریں۔
بصورت دیگر انھیں بھی امریکی اقتصادی اقدامات (پابندیوں) کا سامنا کرنا پڑے گا۔ امریکی وزیر خزانہ کے بقول امریکا ایران کے خلاف پانچ اہم شعبوں میں ڈیجیٹل اثاثے، ٹیکنالوجی، سونا، ہوا بازی اور جہاز رانی میں پابندیاں لگائے گا۔ جواب میں ایرانی وزیر تجارت علی مدنی زادہ نے امریکی پابندیوں کے جواب میں 2 سالہ منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں، واشنگٹن کو ایک اور شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چین ایران کا سب سے بڑا خاموش طرف دار ہے۔ امریکی پابندیوں کے حوالے سے چینی صدر شی جن پنگ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں سے مقاصد کے حصول میں مدد نہیں ملتی، بیجنگ اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ توقع کی جانی چاہیے کہ پاکستاناپنی کامیاب سفارت کاری کے ذریعے امریکا ایران کے درمیان فوجی جنگ کی طرح اقتصادی و معاشی جنگ رکوانے میں بھی کامیاب ہو جائے گا۔