آپ سستی کا شکار ہیں یا ذہنی طور پر تھک چکے ہیں؟ یہ 10 علامات فرق واضح کر دیں گی
مسلسل کام، پڑھائی، گھریلو ذمہ داریوں اور روزمرہ کے دباؤ کے درمیان انسان بعض اوقات اپنی ذہنی تھکن کو معمول سمجھ کر نظرانداز کر دیتا ہے مگر طویل عرصے تک جاری رہنے والا تناؤ جذباتی اور جسمانی کیفیت پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
برن آؤٹ کی کیفیت میں انسان صرف تھکا ہوا ہی محسوس نہیں کرتا بلکہ اس کی دلچسپی، توجہ، نیند اور روزمرہ کارکردگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایسی بعض علامات اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہیں کہ آپ کو اپنی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر آرام اور ذہنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جذباتی طور پر خالی محسوس کرنا
اگر مناسب آرام کے باوجود مسلسل ذہنی اور جذباتی تھکن محسوس ہو، معمول کے کام بھی بوجھ لگنے لگیں اور کسی چیز کیلئے توانائی باقی نہ رہے تو یہ برن آؤٹ کی ایک علامت ہو سکتی ہے۔
معمولی باتوں پر چڑچڑاپن
کام یا گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ آنا، برداشت کم ہوجانا یا لوگوں کے رویوں سے غیر معمولی طور پر جھنجھلاہٹ محسوس کرنا مسلسل تناؤ سے منسلک ہو سکتا ہے۔
پسندیدہ سرگرمیوں میں دلچسپی ختم ہونا
جن سرگرمیوں، مشاغل یا لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا پہلے خوشی دیتا تھا، اگر اچانک ان سب سے دوری محسوس ہونے لگے تو اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
بے چینی میں اضافہ
مسلسل پریشانی، مستقبل کے بارے میں منفی خیالات یا ہر وقت ذہنی دباؤ محسوس ہونا اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ ذہن کو آرام کی ضرورت ہے۔ مسلسل یا شدید بے چینی کسی ذہنی صحت کی کیفیت سے بھی منسلک ہو سکتی ہے۔
نیند کا متاثر ہونا
رات کو نیند نہ آنا، بار بار آنکھ کھلنا یا سونے کے باوجود تازگی محسوس نہ کرنا تناؤ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ نیند کی مسلسل خرابی ذہنی اور جسمانی تھکن کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
بار بار سر درد یا پٹھوں میں تناؤ
ذہنی دباؤ بعض افراد میں جسمانی علامات کی صورت میں بھی سامنے آتا ہے جن میں سر درد اور گردن یا کندھوں کے پٹھوں میں تناؤ شامل ہو سکتا ہے۔ بار بار یا شدید سر درد کی دوسری طبی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔
روزمرہ کارکردگی میں کمی
اگر کام، پڑھائی یا روزمرہ ذمہ داریاں پہلے کی نسبت مشکل محسوس ہونے لگیں، معمول کے کام مکمل کرنے میں زیادہ وقت لگے یا کارکردگی واضح طور پر متاثر ہونے لگے تو اپنی ذہنی کیفیت پر توجہ دینا ضروری ہے۔
توجہ مرکوز کرنے میں مشکل
ایک ہی کام پر توجہ نہ رہنا، بار بار چیزیں بھولنا یا فیصلے کرنے میں غیر معمولی مشکل محسوس ہونا ذہنی تھکن اور مسلسل تناؤ کے ساتھ سامنے آسکتا ہے۔
دوستوں اور گھر والوں سے دوری
اگر آپ مسلسل لوگوں سے ملنے سے گریز کر رہے ہیں، دوستوں اور اہلِ خانہ سے بات کرنے کا دل نہیں چاہتا یا ہر وقت تنہا رہنے کی خواہش ہوتی ہے تو یہ بھی ذہنی دباؤ کی علامت ہو سکتی ہے۔
اپنی دیکھ بھال چھوڑ دینا
کھانے، نیند، صفائی، ورزش یا اپنی دوسری بنیادی ضروریات کی پروا نہ کرنا اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ ذہنی دباؤ روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہا ہے۔
ذہنی وقفہ کیسے لیا جائے؟
ذہنی وقفے کا مطلب لازماً کئی دن کی چھٹی لینا نہیں۔ کام کے دوران مختصر وقفے، مناسب نیند، اسکرین سے کچھ وقت دور رہنا، ہلکی جسمانی سرگرمی، پسندیدہ مشغلے کیلئے وقت نکالنا اور قابلِ اعتماد لوگوں کے ساتھ بات کرنا بھی مددگار ہو سکتا ہے۔
اگر اداسی، بے چینی، نیند کی خرابی، سماجی دوری یا روزمرہ کام انجام دینے میں مشکلات مسلسل برقرار رہیں یا بڑھتی جائیں تو صرف چھٹی لینے پر انحصار کرنے کے بجائے ڈاکٹر یا ذہنی صحت کے مستند ماہر سے رابطہ کرنا بہتر ہے۔