عمران خان، بشریٰ بی بی کی قید تنہائی سے متعلق درخواستیں قابل سماعت قرار، اہم ہدایات جاری

اسلام آباد ہائیکورٹ نے جیل حکام کو بشریٰ بی بی کی بانی سے ملاقات کی ہدایت بھی کر دی

فائل: فوٹو

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نا رکھنے، ان کی اہل خانہ سے ملاقاتیں بحال کرنے اور بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کرانے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے 15 دنوں میں عمل درآمد رپورٹ طلب کر لی۔

عدالت نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے گفتگو کی آڈیوز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر یہ سہولت واپس لے لی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو جیل میں مبینہ قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف درخواستیں قابل سماعت قرار دیتے ہوئے ہدایات کے ساتھ نمٹا دیں۔ علیمہ خان نے اپنے بھائی جبکہ بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے اپنی والدہ بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل یقینی بنائیں کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو قید تنہائی میں نہ رکھیں۔ جیل قوانین کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی فیملی سے ملاقات کروائی جائے۔ بانی پی ٹی آئی کی بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کروائی جائے۔ پی ٹی آئی کی بیٹوں سے گفتگو کی آڈیوز سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر یہ سہولت واپس لے لی جائے۔

عدالت نے کہا بانی پی ٹی آئی کو روزانہ کی بنیاد پر اخبارات اور کتابیں فراہم کریں، انہیں جیل رولز کے مطابق طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی ہدایات پر عمل یقینی بنائیں اور پندرہ دنوں میں عمل درآمد رپورٹ عدالت میں جمع کرائیں۔

عدالت نے نصرت بھٹو کیس اور بیگم شمیم آفریدی کیس میں دیے گئے عدالتی فیصلوں کی روشنی میں درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیا۔

واضح رہے کہ علیمہ خان نے بانی پی ٹی آئی جبکہ مبشرہ خاور مانیکا نے بشریٰ بی بی کی قید تنہائی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے قید تنہائی کی تردید کرکے عدالت میں اپنا جواب جمع کروایا تھا۔

متعلقہ

Load Next Story