لیبیا سے پاکستانیوں کو نکالنے کے لیے چالیس کروڑ روپے کی منظوری

اب تک پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے730 پاکستانیوں کو لیبیا سے نکالا جا چکا ہے ...

اب تک پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے730 پاکستانیوں کو لیبیا سے نکالا جا چکا ہے۔ فوٹو: ایکسپریس

کرنل معمر قذافی کے دور حکومت میں بر اعظم افریقہ کا سب سے خوش حال اور تیزی سے ترقی کی منازل طے کرتا ہوا ملک لیبیا امریکی مداخلت سے قذافی کے بر سر عام قتل کے بعد بد ترین خانہ جنگی کا شکار ہو چکا ہے اور وہ ملک جہاں پُرکشش تنخواہوں کی وجہ سے دنیا بھر سے مختلف شعبوں کے ماہرین اور محنت کش کھنچے چلے جاتے تھے اب ایک جہنم کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں کسی کی جان محفوظ نہیں اور نہ ہی کوئی روزگار وہاں بچا ہے۔

اچھے مستقبل کی تلاش میں لیبیا جانے والے ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی وہاں بری طرح پھنس چکے ہیں جن کے پاس وہاں سے واپس آنے کا بھی کوئی وسیلہ نہیں ہے اس صورت میں نہ صرف یہ کہ وہ خود بے حد پریشان ہیں بلکہ یہاں وطن میں ان کے گھر والوں کی حالت اور بھی زیادہ خراب ہے۔ لیبیا میں پاکستانی سفارت خانے نے ان بے بسوں کے لیے امدادی کیمپ قائم کر دیا ہے تاہم اس کیمپ کی گنجائش بھی محدود ہے اور سفارتی حکام نے کچھ پاکستانیوں کو بعض پڑوسی ملکوں کے ذریعے خشکی کے رستے وطن روانہ کر دیا جب کہ ابھی تک وہاں بہت بڑی تعداد پھنسی ہوئی ہے۔

حکومت پاکستان انھیں پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے واپس لانا چاہتی تھی مگر اب چونکہ حج پروازیں شروع ہو رہی ہیں اس لیے لیبیا میںپھنسنے والے پاکستانیوں کے لیے ایک اور رکاوٹ حائل ہو گئی ہے۔ تاہم اب ایک تسلی بخش خبر شایع ہوئی ہے کہ حکومت پاکستان نے لیبیا سے 5700 پاکستانیوں کے انخلاء کے لیے40کروڑ روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی ہے۔


لیبیا میں محصور پاکستانیوں کے فوری انخلاء کے لیے ضروری فنڈز کی فراہمی سے متعلق اجلاس پیر کو وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہوا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ لیبیا میں خانہ جنگی جاری ہے، اب تک پی آئی اے کی پروازوں کے ذریعے730 پاکستانیوں کو لیبیا سے نکالا جا چکا ہے، تریپولی (یعنی طرابلس) میں پاکستانی سفارتخانہ کے قائم کردہ کیمپوں میں 2500 پاکستانی مقیم ہیں جب کہ 3200 دیگرپاکستانیوں کی سفارتخانہ میں رجسٹریشن کرائی گئی ہے جو واپسی کے منتظر ہیں۔

یہ اخباری اطلاع بھی ہے کہ 28 اگست سے حج پروازوں کے آغاز کی وجہ سے پی آئی اے کے لیے لیبیا سے 5700 پاکستانیوں کے انخلاء کے لیے طیارے مخصوص کرنا ممکن نہیں، انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کو لیبیا سے ایک مسافر کو لانے کے لیے 1200 ڈالر فی کس لاگت آتی ہے۔

اس موقعے پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتخانہ کی جانب سے مقامی ایئرلائنوں کو آپریشن میں شامل کرنیکی تجویز دی گئی ہے جو واحد دستیاب آپشن ہے، وزیر خزانہ نے وزیر اعظم کی مشاورت سے5700 پاکستانیوں کے انخلاء کے لیے سفارتخانہ کو 40 کروڑ روپے جاری کرنیکی منظوری دیدی ہے۔ یہ اچھی اطلاع ہے' غیر ممالک میں کام کرنے والے پاکستان کا اثاثہ ہیں' انھیں مصیبت سے نکالنا پاکستان کا فرض ہے۔
Load Next Story