غزہ میں لاپتہ ہونے والے فلسطینیوں کے ہوشربا اعداد و شمار جاری

گروپوں نے اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کی لاشوں کو نہیں دے رہا ہے

اکتوبر 2023 میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں نسل کشی شروع کرنے کے بعد سے غزہ میں 11,200 سے زائد فلسطینی لاپتہ ہیں۔

فلسطینی وزارت انصاف کے مطابق اس اعداد و شمار میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں، وہ لوگ جو مقامی اسرائیلی حملے یا جبری انخلاء کے دوران لاپتہ ہو گئے جبکہ ہزاروں افراد کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اسرائیلی حراست میں جبری گمشدگی کا نشانہ بنے ہیں۔

فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے گروپوں نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ سے حراست میں لیے گئے افراد کے نام، ٹھکانے اور صحت کی صورتحال سمیت دیگر معلومات سے انکار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ، وکلاء اور حقوق کی تنظیموں سے رابطے سے انکار کیا ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کی لاشوں کو نہیں دے رہا ہے جو حراست میں ہلاک ہوئے، اور ساتھ ہی دیگر افراد کی باقیات کو مردہ خانے اور نام نہاد قبرستان میں رکها ہوا ہے۔

فلسطینی وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے لاپتہ یا جبری طور پر لاپتہ ہونے والوں میں 4700 سے زائد خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

جبری گمشدگی بین الاقوامی قانون کے تحت ممنوع ہے اور جب وسیع پیمانے پر یا منظم طریقے سے ہو تو انسانیت کے خلاف جرم بن سکتا ہے۔

Load Next Story