ٹائٹینک طرز کی تفریحی سواری، نامناسب اور بے حسی پر مبنی قرار
برطانیہ کے شہر ہچن میں ایک فارم پر بچوں کے لیے بنائی گئی ’ٹائٹینک‘ طرز کی تفریحی سواری نے والدین اور سوشل میڈیا صارفین میں بحث چھیڑ دی، جنہوں نے اسے ’انتہائی نامناسب اور بے حسی پر مبنی‘ قرار دیا ہے۔
یہ متنازع تفریحی مقام گریولی فروٹ فارم میں قائم ہے۔ یہ فارم 1981 میں کھولا گیا تھا اور یہاں بیریز توڑنے، کھیلنے کے میدان سمیت خاندانوں کے لیے مختلف سرگرمیاں موجود ہیں۔
رپورٹس کے مطابق تقریباً 3 ڈالر کی لاگت سے بچے اس سواری میں ’ٹائٹینک‘ کے مشابہ بحری جہاز پر سوار ہوتے ہیں۔ بچوں کو باقاعدہ ’بورڈنگ پاس‘ بھی دیے جاتے ہیں، جبکہ سواری کے ایک حصے پر جہاز کا نام ’ٹائٹینک‘ واضح طور پر درج ہے۔ اسے ’ریک‘ یعنی ’ملبہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔
سواری میں مصنوعی جہاز کو بلند کیا جاتا ہے، جس کے بعد بچے چار سلائیڈز میں سے کسی ایک پر تیزی سے نیچے آتے ہیں اور آخر میں کریش میٹ پر جا گرتے ہیں۔
اگرچہ یہ ٹائٹینک تھیم پر مبنی سواری کئی برس سے موجود ہے لیکن حال ہی میں والدین کی جانب سے اس پر شدید اعتراض سامنے آیا ہے۔
ایک ناراض صارف نے کہا کہ یہ بچوں کے لیے انتہائی نامناسب اور عجیب و غریب تفریح ہے۔ انہیں یقین نہیں آتا کہ اتنے بڑے سانحے کو کھیل اور سواری کی شکل دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ اصل ٹائٹینک 15 اپریل 1912 کو شمالی بحرِ اوقیانوس میں ایک برفانی تودے سے ٹکرا کر ڈوب گیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 1500 افراد ہلاک ہوئے تھے۔