اپوزیشن کا ایک اور اتحاد
m_saeedarain@hotmail.com
موجودہ حکومت کے اقتدار کے ڈھائی سال گزارنے کے بعد حکومت کے مخالفین تھک ہار کر پارلیمنٹ کی سطح پر ایک اور سیاسی اتحاد بنانے میں کامیاب تو ہو گئے ہیں مگر اس پارلیمانی اتحاد کا مقصد واضح نہیں ہے تاہم لگتا یہ ہے کہ یہ اپوزیشن اتحاد پارلیمنٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے وجود میں لایا گیا ہے، جس کے لیے مولانا فضل الرحمن نے اہم کردار ادا کیا ،ورنہ اپوزیشن کی بڑی پارٹی پی ٹی آئی تو تحریک تحفظ آئین پاکستان پر انحصار کیے بیٹھی تھی جس کے سربراہ اپنی چھوٹی سی علاقائی پارٹی پختونخوا میپ کے اکلوتے رکن قومی اسمبلی محمود خان اچکزئی ، انھیں بانی پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنا کر اپنے ارکان اسمبلی پر عدم اعتماد کا اظہار کرکھا ہے جب کہ وحدت المسلمین کے علامہ ناصر عباس کو بانی پی ٹی آئی نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بناکر اپنے سینٹروں کو ان کی اوقات یاد دلا رکھی ہے مگر یہ یہ دونوں حضرات حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک میںکوئی کردار ادا کر سکے ، نہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دلاسکے، دونوں بیان بازی کے سوا کچھ نہ کر سکے۔
پارلیمنٹ میں یہ دونوں اپوزیشن لیڈر نہ قومی لیڈر ہیں اور نہ ہی حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے کی طاقت رکھتے ہیں اور دونوں کی سیاست انتہائی محدود ہے۔ دونوں کے پاس اسٹریٹ پاور ہے نہ ووٹ بینک ہے۔ اب بانی تحریک انصاف کی نظر مولانا فضل الرحمن پر پڑی ہے کیونکہ ان کی جماعت اسٹریٹ پاور رکھتی ہے۔ شاید مولانا کو بھی سیاسی سہارے کی ضرورت ہے جو انھیں حکمران جماعتوں سے نہیں مل رہے تو ان کی نظر انتخاب پی ٹی آئی پر ٹھہری ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے پاس اپوزیشن کو متحدہ اپوزیشن بنانے کا تجربہ موجود ہے مگر انھیں نوابزادہ نصر اللہ خان یا مولانا شاہ احمد نورانی جیسی سیاسی پوزیشن حاصل ہے۔ مولانا فضل الرحمن جنرل ضیا الحق حکومت کے خلاف اس اتحاد میں شامل تھے جس میں پیپلز پارٹی و دیگر جماعتیں شامل تھیں اور جنرل پرویز کے خلاف بننے والے اتحاد میں مسلم لیگ (ن)، پی پی، جے یو آئی، اے این پی بھی شامل تھی۔
جماعت اسلامی صرف 1977 میں بھٹو کے خلاف اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل تھی اور بعد میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل میں شامل رہی جس نے جنرل پرویز دور میں صوبہ سرحد میں جے یو آئی کا وزیر اعلیٰ منتخب کرایا تھا۔ جماعت اسلامی جے یو آئی کے بعد تحریک انصاف کی کے پی حکومت میں بھی شامل رہی مگر اس کے بعد کسی سیاسی اتحاد میں شامل ہوئی نہ موجودہ پارلیمانی اتحاد کا حصہ بنے گی کیونکہ جماعت اسلامی کے پاس پارلیمنٹ میں نمایندگی ہے ہی نہیں،مگر وہ ملک میں اب بھی موجودہ حکومت کے خلاف اپنے سیاسی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی مفاد کے لیے حکومت کے لیوی بھتے اور بجلی گیس کی مہنگائی کے خلاف تحریک چلا رہی ہے۔
پی ٹی آئی کو اپنے بانی کی رہائی سے دلچسپی ہے اور جے یو آئی کو اس معاملے میں دلچسپی نہیں ہے۔ مولانا کو اپنے پرانے اتحادیوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی پر غصہ ہے جنھوں نے کسی بھی اہم ایشو پرمولانا فضل الرحمن سے مشاورت گوارا نہیں کی تھی حالانکہ مولانا نے بانی پی ٹی آئی کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حمایت کی تھی۔
ملک میں قومی سطح کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر سیاسی اور مذہبی اتحاد بھی وجود میں آتے رہے ہیں مگر پی ٹی آئی اور جے یو آئی کا جو پارلیمانی اتحاد بنا ہے اس سے متعلق پی ٹی آئی اور خاص کر پی ٹی آئی کے سابق وزیر اعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔
مولانا فضل الرحمن کو زیرک سیاستدان مانا جاتا ہے جو پی ٹی آئی کے مخالف رہے مگر موجودہ حکومت میں مولانا کے سابق حلیفوں نے جو بے وفائی کی اس کے دکھ نے مولانا کو اپنے اصلی سیاسی حریف پی ٹی آئی کے ساتھ پارلیمانی اتحاد پر مجبور کر دیا ہے جس میں شامل محمود خان اور مولانا دونوں نے ڈھائی سال قبل ضلع پشین بلوچستان کے دو قومی حلقوں میں باہمی اتحاد سے کامیابی حاصل کی تھی کیونکہ وہاں دونوں پارٹیوں کی حمایت زیادہ ہے۔
مولانا فضل الرحمن کا اپنا آبائی انتخابی حلقہ تو ڈی آئی خان ہے جو کئی سالوں سے مولانا کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور مولانا وہاں سے متعدد بار ہار بھی چکے ہیں جہاں ان کے دو مضبوط حریف پی ٹی آئی کے علی امین گنڈا پور اور پی پی کے فیصل کنڈی ہیں ۔ ڈی آئی خان جے یو آئی کا وہ مضبوط حلقہ ہے جہاں سے 1970 میں مولانا کے والد مفتی محمود نے ذوالفقار علی بھٹو کو ہرایا تھا مگر اب مولانا فضل الرحمن اپنے اسی حلقے سے مسلسل ہار رہے ہیں، اس سے قبل وہ بنوں سے اور اس بار پشین سے جیت کر قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
پی پی اور (ن) لیگ سے ناراضی نے مولانا کو اپوزیشن کا ایک اور اتحاد بنانے پر مجبور تو کر دیا ہے مگر یہ ایسا اتحاد ہے جس میں مولانا پارلیمنٹ میں پی ٹی آئی کے ساتھ اتحادی مگر کے پی میں بڑے حریف ہیں۔ اب کے پی میں بلدیاتی الیکشن ہونے ہیں جہاں پی ٹی آئی کی حکومت اور جے یو آئی حریف ہیں تو دونوں جماعتوں کا پہلی بار قائم ہونے والا یہ اتحاد کب تک اور کیسے برقرار رہے گا؟