دیانتدار، قابل اور جراتمند افراد کی ٹیم

اگر عوام اس بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے تو تب وہ تبدیلی آئے گی جس کا پھل عوام کو بھی نصیب ہوگا

zulfiqarcheema55@gmail.com

آج کے جدید دور میں حکومتی ادارے ملکوں کو چلاتے اور وہاں توازن، امن اور استحکام پیدا کرتے ہیں۔ ایسا نظام جو اداروں کو اتنا کمزور کردے کہ وہ irrelevant ہوجائیں، ملک کے لیے مضر تو ہوسکتا ہے مفید ہر گز نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہائبرڈ سسٹم سے صرف مستفیض ہونے والا دسترخوانی ٹولہ ہی مطمئن ہوتا ہے ، عوام غیر مطمئن رہتے ہیں، اسی سسٹم کے ایک اہم پرزے نے چند روز قبل سرِ عام کہہ بھی دیا تھا کہ یہ سسٹم تقریباً callapse کر چکا ہے۔ مکمل انہدام میں چاہے کچھ مزید وقت لگ جائے مگر نہ یہ چل رہا ہے اور نہ ہی deliver کررہا ہے۔ ایسے نظام کے بڑے خوفناک اثرات مرتّب ہوتے ہیں۔

اس میں حکمران چونکہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ انھیں اقتدار دلانے میں عوام کا کوئی کردار نہیں لہٰذا عوام ان کے لیے کوئی اہمیّت نہیں رکھتے، چونکہ وہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جوابدہ ہی نہیں سمجھتے، لہٰذا وہ عوام کے مسائل، تکالیف، دکھوں اور ضروریات سے بے نیاز اور لاتعلق ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں گورننس بہت بری طرح متاثر ہوتی ہے، کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ہوتا، اس لیے کرپشن اور نااہلی میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے اور عوام فرسٹریشن اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ ساری علامات ہمارے ملک میں واضح طور پر نظر آرہی ہیں۔

میں نے اپنی حالیہ تحریروں میں تجویز کیا تھا کہ عوام کو چاہیئے کہ ذات، برادری، پارٹی، دھڑا، فرقہ، مسلک، اور گلیوں، نالیوں کی سیاست سے بلند ہوکر سوچیں اور لوکل باڈیز، صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی کے انتخابات میں قیادت کے لیے صرف اس شخص کو منتخب کریں: جس کا دامن شبنم کی طرح اجلا ہو، یعنی اس کے دامن پر مالی یا اخلاقی کرپشن کا کوئی داغ نہ ہو۔ جس میں قومی اداروں کے امراض جاننے اور انھیں ٹھیک کرنے کی قابلیّت اور صلاحیّت ہو اور جو بہادر اور جراتمند ہو اور کسی خوف کے بغیر فیصلے کرسکتا ہو۔

اگر عوام اس بنیاد پر اپنے نمائندے منتخب کریں گے تو تب وہ تبدیلی آئے گی جس کا پھل عوام کو بھی نصیب ہوگا۔ اسی ضمن میں ملک کا درد رکھنے والے افراد کی محفلوں میں آئی پی پیز کا بھی ذکر ہوتا رہا جو ایک ایسا بوجھ بن چکا ہے جس نے غربت اور ناانصافی میں پسے ہوئے عوام کو اپنے بوجھ تلے دبا رکھا ہے۔ اسی وجہ سے بجلی کی قیمت کم نہیں ہورہی جس سے ہماری انڈسٹری بند ہورہی ہے اور برآمدات خطرناک حد تک کم ہوچکی ہیں۔ اس باقابل برداشت بوجھ سے نجات دلانے کے حوالے سے جب تجربہ کار صاحبانِ عقل ودانش کی محفلوں میں بات ہوئی تو واضح اکثریت کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاسی ڈھانچہ کمزور ہوچکا ہے اور وہ طاقتور طبقے کو ناراض کرنے کی ہمّت نہیں رکھتا لہٰذا ان سے تو امید نہیں ہے۔

 یہ کام کوئی ایسا سخت گیر منتظم ہی کرسکتا ہے جو ایمانداری اور جرات کے ساتھ ساتھ قابلیت اور صلاحیّت کا بھی حامل ہو اور گورننس اور اداروں کو ٹھیک کرنے کا تجربہ بھی رکھتا ہو، اس ضمن میں بہت سے لوگوں نے ماضی کے ریکارڈ کے پیشِ نظر راقم کا نام بھی لیا۔ اس ضمن میں مجھے کوئی دعویٰ یا زعم نہیں مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کو موجودہ گھمبیر مسائل سے نکالنے کے لیے اگر تیس چالیس باکردار، تجربہ کار اور جذبوں سے سرشار افراد میّسر آجائیں جن کے دامن پر مالی یا اخلاقی کرپشن کا کوئی داغ نہ ہو اور جو ملک کے مسائل کا ادراک رکھتے ہوں اور قومی اداروں کو ٹھیک کرنے کی صلاحیّت اور جذبہ رکھتے ہوں تو وہ عوام کے بڑے مسائل حل کرنے اور انھیں آزادی کے ثمرات سے ہمکنار کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ صاحبِ کردار اور جذبوں سے سرشار افراد کی ٹیم کے ذریعے جسدِ ملّت کے امراض کا علاج کرنے کی یہ تجویز یا آئیڈیا کہاں سے پھوٹا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ ملک کا درد رکھنے والے اعلیٰ کردار کے حامل پاکستانی شہریوں کے ذہن کی پیداوار ہے جو خود سروس میں نہیں رہے مگر وہ خلوصِ نیت سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگ جو تیس پینتیس سال کی نوکری میں صرف رزقِ حلال کھاتے رہے ہیں، اُن کی دیانت، قابلیت، ملک سے محبت اور وسیع انتظامی تجربہ ملک اور قوم کے مسائل حل کرنے کے کام آسکتا ہے، لہٰذا اسے ضرور استعمال کیا جانا چاہیئے۔

یاد رہے کہ ابھی تک ملک کی اکانومی، امن وامان، انصاف، احتساب، زراعت، صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے سیکٹرز کے لیے جو چند نام سامنے آرہے ہیں ان میں سے کوئی بھی کسی عہدے کا طلب گار نہیں ہے اور ان کے کردار، ایمانداری اور قابلیت پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا، انھوں نے سروس کے دوران بھی عوام کا درد محسوس کیا، حالات کو تبدیل بھی کیا اور اپنے علاقے میں قانون کی حکمرانی بھی قائم کی۔

اب ایک منٹ کے لیے دیکھیں کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور وہ کیا چاہتے ہیں۔ عوام صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کی جان، مال اور عزّت کا تحفّظ ہو، انھیں پیسے اور سفارش کے بغیر ان کا حق بھی ملے اور ضرورت پڑنے پر اور انصاف بھی ملے، نوجوانوں کو باعزت روزگار میّسر ہو اور کسان کو اس کی فصل کا مناسب معاوضہ ملے اور مناسب قیمت پر بجلی اور گیس کی فراہمی میّسر ہو۔ مزدور کو باعزت روزگار کمانے کے مواقع مہیا کیے جائیں اور سرکاری اہلکار یا غیر سرکاری غنڈے اور بدمعاش انھیں تنگ نہ کریں اور بہنوں اور بیٹیوں کی عزّت محفوظ ہو۔ یہ سب کچھ یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے کارپرواز (کابینہ اور وزیر) خود ایماندار ہوں، ملک کا مفاد اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر سمجھتے ہوں، عوام سے ہمدردی رکھتے ہوں اور ان کے حالات بہتر بنانے کے جذبے سے بھی سرشار ہوں۔ قرآن میں آتا ہے کہ جب عزیزِ مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام سے پوچھا کہ قحط کی صورتحال سے کیسے نمٹو گے۔ تمہارے پاس کون سی ایسی خوبیاں اور اوصاف ہیں؟ تو قرآن مجید نے جواب دیا ہے جو مشکلات اور مسائل سے نمٹنے کا واحد حل ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جواب دیا،’’میں دیانتدار ہوں اور علم (قابلیّت) رکھتا ہوں۔‘‘

کیا کسی حکومت میں یعنی کابینہ میں یا کسی پارٹی کے پاس پانچ بھی ایسے افراد ہیں یا رہے ہیں جو سو فیصد ایماندار بھی ہوں، قابلیت اور صلاحیت بھی رکھتے ہوں اور جراتمندی سے فیصلہ بھی کرتے ہوں۔ بدقسمتی سے اس کا جواب نفی میں ہے۔ اسی لیے عام آدمی تھانے اور کچہری میں ذلیل وخوار ہورہا ہے، دفتروں میں اس کی عزّتِ نفس پامال کی جاتی ہے، انصاف ناپید ہے اور قانون کی حکمرانی کا تصوّر تک روند دیا گیا ہے، نہ مزدور کو اس کی محنت کا صحیح معاوضہ ملتا ہے اور نہ کسان کو۔

سنگارپور کے عظیم لیڈر لی کو آن یو کہا کرتے تھے کہ ملک کو ترقی اور خوشحالی سے ہمکنار کرنے کے لیے سب سے اہم چیز Quality of Leaders ہوتی ہے۔ اگر دیانتدار اور باصلاحیّت افراد کا ایسا گروپ میّسر آجائے جو ہر قیمت پر اہداف حاصل کرنے کا جذبہ رکھتا ہو تو اس قوم کو ترقی کے اوجِ کمال تک پہنچنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

جب تحریروں کے ذریعے لوگوں کو یہ مشورہ دیا گیا کہ قیادت کا انتخاب کردار اور قابلیت کی بناء پر کیا کریں تو بہت سے لوگوں نے اس سے اتفاق کیا مگر کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ’’جناب انتخاب تو بے معنی ہوچکا ہے، کیونکہ ہم ووٹ کسی اور کو دیتے ہیں اور جیت کا اعلان کسی اور کا ہوجاتا ہے۔‘‘ بہت سے پڑھے لکھے خواتین وحضرات نے بڑے درد بھرے لہجے میں کہا کہ کئی قسم کے مسائل اور مشکلات کا شکار عوام کے پاس صرف ایک ہی اختیار بچا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے ووٹ کے ذریعے حکمران منتخب کر سکتے تھے ، اب یہ حقِ بھی مشکوک بنا دیا گیا ہے، یہ یہ شکوک دور ہوں گے تو پھر ہی ہم کردار کی بنا پر اپنے نمائندے منتخب کرسکیں گے۔ یہ تشویش بالکل درست ہے۔             (جاری ہے)

Load Next Story