موجودہ حکومتی ڈھانچہ ناکام، 15 نئے صوبے یا 160 ضلعی حکومتیں ناگزیر ہیں، احسن اقبال
فوٹو: فائل
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی نئے انتخامی ڈھانچے کی حمایت میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ یا تو ملک میں مزید 15 صوبے بنائے جائیں یا پھر 160 مؤثر ضلعی حکومتیں قائم کی جانی چاہئیں۔
گزشتہ روز اسلام آباد کیپیٹل ٹریٹری گورننس ریفارمز کے حوالے سے میڈیا نمائندوں کے ساتھ مشاورتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ 2سطحی حکومتی ڈھانچہ سماجی اشاریوں کو بہتر بنانے میں غیرموثر ہو چکا ہے۔
اس لیے یا تو 15 نئے صوبے تشکیل دینا ہوں گے یا پھر 160 موثر ضلعی حکومتیں لانا ہوں گی۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کی جمہوریت اجارہ دارانہ بن چکی ہے کیونکہ 26 کروڑ آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے صرف 1170 سرکاری دفاتر موجود ہیں جب تک مقامی حکومتوں کے ذریعے ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ تک سرکاری دفاتر قائم نہیں کیے جاتے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاستدانوں نے کچھ نہ کیا تو حالات خود بخود قابو سے باہر ہو جائیں گے۔
واضح رہے احسن اقبال حکمران جماعت ن لیگ کے سیکرٹری جنرل اور وفاقی کابینہ کے ایسے پہلے سینئر رکن بھی ہیں جنہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بعد گورننس کے موجودہ ڈھانچے میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔
احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حکومت کا تیسرا درجہ پوری طرح فعال کیے بغیر پاکستان کا جمہوری نظامِ حکومت احسن طریقے سے نہیں چل سکتا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ وفاقی حکومت نے 2010 میں 17 محکمے صوبوں کو منتقل کیے تھے، لیکن صوبوں نے ایک بھی محکمہ مقامی حکومتوں کے حوالے نہیں کیا۔
آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومت کے تیسرے درجے کی بات کرتا ہے، لیکن یہ آرٹیکل مبہم ہے اور اس بات کی مزید تشریح کا متقاضی ہے کہ انتظامی، مالی اور سیاسی بااختیار منتقلی کس طرح کی جائے۔
انہوں نے مثال دی کہ بھارت میں 28 صوبے اور افغانستان میں 34 صوبے ہیں۔اگر ہم نئے صوبے بنانے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر 160 ضلعی حکومتوں کے قیام کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔
وفاقی دارالحکومت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ اسلام آباد کا انتظامی ڈھانچہ ایک صدارتی آرڈر پر مبنی ہے جہاں 26 لاکھ شہری دارالحکومت کے امور میں کوئی کردار نہیں رکھتے۔