آسٹریلیا: شارک نے سمندر میں کھینچا تو خاتون نے مکے مار کر اپنی جان بچا لی

شدید زخموں کے باعث لیہ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے بائیں بازو کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔

آسٹریلیا میں ایک خاتون تیراک نے شارک کے خوفناک حملے سے زندہ بچ نکلنے کی روداد سناتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ جب دیوہیکل شارک انہیں پانی کے اندر کھینچنے لگی تو انہوں نے مسلسل مکے مار کر خود کو اس کے چنگل سے آزاد کرایا۔

آسٹریلوی میڈیا کے مطابق پرائمری اسکول ٹیچر لیہ اسٹیورٹ 13 جون کو سڈنی کے کوگی بیچ پر تیراکی کر رہی تھیں جب مبینہ طور پر تقریباً 4 میٹر طویل گریٹ وائٹ شارک نے ان پر حملہ کر دیا۔

لیہ نے بتایا کہ وہ ساحل کی جانب واپس آرہی تھیں کہ اچانک ایک لڑکی کی چیخ سنائی دی۔ پیچھے دیکھا تو پانی میں ایک بہت بڑا فن دکھائی دیا جسے پہلے انہوں نے ڈولفن سمجھا لیکن جلد ہی احساس ہوا کہ وہ شارک ہے۔

خاتون کے مطابق شارک ان کے اتنے قریب آگئی کہ وہ اس کا چہرہ اور دانت واضح طور پر دیکھ سکتی تھیں۔ انہیں خدشہ ہوا کہ شارک ان کے چہرے پر حملہ کر سکتی ہے، اس لیے انہوں نے خود ہی اس پر مکا مارنے کا فیصلہ کیا۔

لیہ نے بتایا کہ چونکہ وہ دائیں ہاتھ سے کام کرتی ہیں اس لیے انہوں نے سوچا کہ ’اگر کوئی عضو کھونا ہی پڑا تو بایاں بازو‘ اور شارک پر بائیں ہاتھ سے مکا مار دیا۔

شارک نے ان کے بائیں بازو کو دبوچ لیا جس سے وہ شدید زخمی ہو گئیں، بعدازاں اس نے ان کی بائیں ران پکڑی اور انہیں پانی کے اندر کھینچ لیا۔

لیہ کے مطابق پانی کے اندر جاتے ہوئے انہیں اپنی کمسن بیٹی کا خیال آیا اور انہوں نے ہر صورت زندہ بچنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے خود کو گھمایا اور شارک پر مسلسل مکے برسانا شروع کر دیے۔

خاتون نے اس لمحے کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں کسی ڈائناسور سے لڑ رہی ہوں، وہ اتنی بڑی تھی کہ اسے مکا مارنا اینٹوں کی دیوار پر مکا مارنے جیسا تھا۔‘‘

بالآخر شارک نے انہیں چھوڑ دیا اور وہ دوبارہ پانی کی سطح پر آگئیں، جہاں قریب موجود ایک پیڈل بورڈر نے انہیں ساحل تک پہنچانے میں مدد کی۔

شدید زخموں کے باعث لیہ کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں مصنوعی کومے میں رکھا گیا اور ان کے بائیں بازو کا ایک حصہ کاٹنا پڑا۔ تقریباً 10 روز بعد انہیں ہوش آیا۔

Load Next Story