سندھ کے 5 کروڑ عوام تقسیم کی سازش ناکام بنائیں گے، صوبائی اسمبلی میں انتظامی یونٹس پر تیسرے روز بھی بحث

اجلاس کی زیر صدارت ڈپٹی اسپیکر نے کی جبکہ حکومت اور اپوزیشن ممبران نے تقاریر کیں

(فوٹو فائل)

پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس کے نام پر 5 کروڑ سندھی صوبے کو تقسیم کرنے کی سازش ناکام بنائیں گے، کراچی سندھ ہے سندھ کراچی ہے۔

سندھ اسمبلی نے بدھ کو تیسرے روز بھی ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور سندھ کی تقسیم سے متعلق پیپلز پارٹی کے سینئر پارلیمنٹرین نثااحمد کھوڑو کی تحریک التوا پر بحث جاری رکھی جس میں حکومت اور اپوزیشن کے ارکان نے مفصل انداز میں اپنی رائے کا اظہار خیال کیا۔

اجلاس ڈپٹی اسپیکر نوید انتھونی کی زیر صدارت شروع ہوا۔پیپلز پارٹی کے ارکان نے اپنی تقاریر میں ایک مرتبہ پھر اس پختہ عزم کا اعادہ کیا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور سندھ کو کسی کی تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا جبکہ اپوزیشن ارکان نے کہا کہ وہ بھی سندھ کی تقسیم کے حق میں نہیں لیکن ساتھ ہی عوامی مسائل کا حل اور کرپشن کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس خاصا طویل رہا جس میں ارکان نے بڑے جذباتی انداز میں تقاریر کیں۔ وزیر جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ یہ افسوس کا مقام ہے کہ سندھ اسمبلی آج سندھ کی تقسیم پر بات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑی غور طلب بات ہے کہ کچھ لوگوں کو جرات کیسی ہوئی کہ ٹی وی پر اس حساس مسئلے پر بحث شروع کرائی ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ انتظامی یونٹ کی بات کررہے ہیں وہ بات واضح کریں کہ انتظامی یونٹس کیا ہوتے ہیں۔ ہمیں کسی بھی شکل دیں سندھ کی تقسیم سندھ قبول نہیں ہے برداشت نہیں ہے۔

صوبائی وزیر کھیل وزراعت سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ ٹیکس چوری کرنے والے صنعت کار اور محدود مقبولیت رکھنے والے رہنما نئے صوبوں کی بات کر رہے ہیں، سندھ کی تاریخ اور آئین سے ناواقفیت کے باعث ایسی باتیں کی جا رہی ہیں۔

وزیر زراعت نے کہا کہ سندھ کی تاریخ کو سمجھے بغیر سندھ کے مستقبل پر بات نہیں کی جا سکتی۔ ہم چیئرمین بلاول بھٹو کی لیڈرشپ میں متحد ہیں،سندھ پر بات آئے گی تو ہر سندھی مزاحمت کریں گے۔

وزیر صنعت جام اکرام اللہ دھاریجونے کہا کہ تانگہ پارٹیاں پیپلز پارٹی کی قیادت پر تنقید کررہی ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے سودے بازی کی ہے۔ پیپلز پارٹی کبھی سودے بازی نہیں کر سکتی کیونکہ سندھ ناقابل تقسیم ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ انگ ہے۔ کراچی کو سندھ سے کوئی بھی الگ نہیںکرسکتا۔

جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے کہا کہ اگر سندھ ہماری دھرتی ہے تو کراچی بھی ہمارا شہر ہے، حکومتی ارکان کے بعض نفرت انگیز جملوں پر حیرت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی صرف ٹیکس کراچی سے صرف جمع نہیں ہوتا بلکہ ٹیکس جنریٹ بھی کرتا ہے ۔سکھرجا کر ٹیکس کلیکٹ کرکے دکھائیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں سندھ دھرتی سے بھی محبت ہے اور کراچی شہر سے بھی پیار ہے۔جسے کراچی سے نفرت ہے وہ کھل کر اعلان کرے۔

محمد فاروق نے کہا کہ کراچی سے محبت کرنے والے کسی کو وضاحت دینے کے پابند نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرنے والے کا نام سامنے آنا چاہیے ۔وزیراعلیٰ سندھ کرپشن کے خاتمے اور عوام کو حق دینے کی بات کرتے تو بہتر ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ صرف بحث کے ذریعے لوگوں کی آواز بند نہیں کی جاسکتی،کراچی کے لوگوں کا منہ بند کرنے کے بجائے ان مسائل کو ختم کیا جائے جن کی وجہ سے آواز اٹھ رہی ہے۔ پیپلز پارٹی کی رکن ہیر سوہو نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں تقسیم کے خلاف 8 قراردادیں منظور کرچکی ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ سندھ ہماری ماں ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ تقسیم کی بات کرتے ہیں۔ یہ دیکھا جائے کہ تعصب کی ابتدا کہاں سے ہوئی جو سندھ کا پانی پیتا ہے وہ سندھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت پر کوئی بات نہیں ہو سکتی ۔سندھ کے لئے سندھ کا ہربچہ، ماں اور بیٹی لڑے گی، قیادت کو کہوں گی کہ انہیں چند وزارتیں دیدے تاکہ سندھ کی تقسیم کا قصہ ہی ختم ہوجائے۔

ایم کیوایم کی رکن قراة العین نے کہا کہ ہم انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں، ترکی مسلم ملک ہے وہاں 80 صوبے ہیں، امریکہ میں 50 ریاستیں ہیں۔ پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہے مگرہمارے صوبے چار ہیں۔ انتظامی یونٹس بننا ضروری ہے ۔انتظامی یونٹس سے نظام بہتر ہوگا۔ ہم کوئی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کر رہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن ہالار وسان نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی سرزمین اور میری پہچان ہے، یہ ایوان سندھ کی تقسیم یا کراچی کی علحدگی کے خلاف قراداد منظور کرچکا ہے، کوئی بھی نیا صوبہ نہیں بنے گا۔ کراچی سندھ کا اٹوٹ حصہ ہے ۔اگر پنجاب میں کسی صوبے بنانے ہیں تو بنا لیں۔

ایم کیو ایم کے رکن جمال احمد نے کہا کہ گورنر ہاؤس میں کراچی کے مسئلے پر بات ہوئی تو گورنر کو ہٹادیا گیا ،ہمت ہے تو پاکستان کے خلاف بات کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں منظور قراردادوں کا کچھ نہیں ہوتا۔ جس پر اسپیکر نے کہا کہ میں ان الفاظ کو حدف کرتا ہوں۔

اویس قادر شاہ نے کہا کہ اسمبلی میں اس طرح بات نہیں ہوتی، پیپلز پارٹی کے ساجد جوکھیو نے کہا کہ سندھ ہماری ماں ہے جس پر جان بھی قربان ہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ سندھ میں جو بھی رہتا ہے وہ سندھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی ہے جسے ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پیپلز پارٹی کی ماروی راشدی نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں سندھ کا مقدمہ چل رہا ہے اورسندھ کے منتخب نمائندے سندھ کا دفاع کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر اس خواہش کو قبر میں دفن کریں گے جو سندھ کے خلاف ہے، مضبوط سندھ ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کی بات کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے پیر مجیب الحق نے کہا کہ نئے صوبوں کی بحث سے سندھ کے عوام میں بے چینی اور غصے کی کیفیت پیدا ہوئی، سندھ اسمبلی نئے صوبوں کے معاملے پر پہلے بھی پانچ مرتبہ اپنا فیصلہ دے چکی ہے، اس بار بھی سندھ اسمبلی کا فیصلہ پہلے کی طرح واضح ہے۔

پیپلز پارٹی کے رکن سہیل انور سیال نے اپنی تقریر میں کہا کہ سندھ اسمبلی وہ تاریخی ایوان ہے جس کی قرارداد نے پاکستان کے قیام کی بنیاد رکھی، سندھ کے عوام سندھ کو کبھی تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، صدر آصف علی زرداری اور اسپیکر سمیت ہم سب سندھ کی وحدت کے تحفظ پر متفق ہیں۔ ایم کیو ایم کے فرحان انصاری نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی سندھ کو توڑنے کی بات نہیں کی، ہم بھی اتنے ہی سندھی اور اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنے ایوان میں موجود دیگر ارکان ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سے محبت یا پاکستانی ہونے کا کسی کو سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت نہیں تاہم سندھ میں انتظامی یونٹس کے حوالے سے آواز کیوں اٹھ رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہیے۔پیپلز پارٹی کی رکن شازیہ کریم نے کہا کہ یہ ایک تاریخی موقع ہے۔

ایم کیو ایم کے ممبران نے کہا ہے کہ وہ سندھ کے تقسیم کے حامی نہیں لیکن انتظامی یونٹس کے نام پر تقسیم کی بات ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو بے وقوف مت بنایا جائے، سندھ ناقابل تقسیم ہے ۔پی ٹی آئی کے بلال جدون نے کہا کہ ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی نہیں،ہم وفاق اور صوبوں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ۔اس صوبے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے امنگوں کے مطابق ہوگا۔

رکن اسمبلی آصف موسی ٰ نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی بات کرنے والوں کو واضح پیغام دینا ہوگا، نثار احمد کھوڑو نے سندھ کے حوالے سے جرات مندانہ تحریکِ التوا پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی بات ہوگی تو سندھ میں رہنے والا ہر شخص آواز اٹھائے گا، اردو بولنے پر فخر ہے، میں بھی سندھ دھرتی کا بیٹا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت کے معاملے پر سب کو متحد ہوکر آواز اٹھانا ہوگی اورسندھ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ایوان سے باہر نہیں ہوگا۔

پیپلز پارٹی کی حنا دستگیر نے کہا کہ سندھ دھرتی نے محبت سے اپنی اولاد کی طرح سب کو اپنے اندر سمویا ہے، اس دھرتی سے محبت اور وابستگی کو ختم کرنا آسان نہیں سندھ ہمیشہ متحد رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے امداد پتافی نے کہا کہ سندھ کے معاملے پر دونوں جانب سے کھل کر مؤقف سامنے آ رہا ہے۔ایک جانب سے واضح مؤقف ہے کہ سندھ ہماری ماں ہے جبکہ دوسری جانب سے سندھ کو ماں کہہ کر اس کے حصے الگ کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت کے خلاف باتیں کرنا افسوسناک ہے۔ امداد پتافی نے کہا کہ سندھ کی وحدت اور سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ امداد پتافی کی تقریر کے دوران اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا تو اسپیکر نے انہیں سختی سے ہدایت کی کہ وہ ایوان میں نظم و ضبط برقرار رکھیں اور وہ اایوان میں شور شرابے کی اجازت نہیں دیں گے۔

 پیپلز پارٹی کے جام مہتاب ڈاہر نے کہا کہ اگر سندھ دھرتی ہماری ماں ہے تو اس کی تقسیم کی بات سے گریز کرنا بہتر ہوگا، سندھ کی تقسیم کے بجائے موجودہ صوبائی اور انتظامی نظام کی بہتری پر بات ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے مستقبل کی بہتری کے لیے قانون میں ترمیم یا بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ ہمیں مل بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے بہتر مستقبل کے لیے سب کو مل کر قانون سازی اور اصلاحات کی طرف بڑھنا ہوگا۔

ایم کیو ایم کی رکن کرن مسعود نے کہا کہ پاکستان آنا بھی ہمارا فیصلہ تھا اورکراچی کا سندھ سے الحاق ہمارا فیصلہ تھا۔پاکستان کی آبادی 25 کروڑ ہے ۔اس وقت مزید انتظامی یونٹس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔انتظامی یونٹس کو تعصب کے بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سال انتظامی یونٹس کی تشکیل کا سال ہے، اگلا جشن آزادی ہم اپنے انتظامی یونٹس میں منائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے سردار خان چانڈیو نے کہا کہ سندھ کے عوام 90 فیصد صوبوں کو مسترد کر چکے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں قانون پاس کیا جائے جو لسانی تقریر کرے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

سردار چانڈیو کی تقریر پر ایم کیو ایم کے ارکان کا اعتراض کیا تاہم اسپیکر اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی یقین دہانی کے بعد ایم کیو ایم اراکین نشستوں پر بیٹھ گئے۔ سردار خان چانڈیو نے کہا کہ یہ شہر ہمارے ہیں کسی کے باپ کے نہیں،سندھ ہمارا ہے اور ہمارا وطن ہی رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم کسی سے نہیں ڈرتے جو مرضی آئے وہ کرلو۔پیپلز پارٹی کے نادر مگسی نے کہا کہ سندھ کو ٹارگٹ کیا جا رہا اور اسکے خلاف سازش ہو رہی ہے یہاں بلوچستان جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے ۔انہوں نے خبردار کیا کہ پانچ کروڑ سندھی سندھ تقسیم ہونے نہیں دیں گے۔کراچی سندھ ہے سندھ کراچی ہے۔

پیپلزپارٹی کی رکن اسمبلی سعدیہ جاوید نے کہا کہ نئے صوبوں کے موضوع پرٹی وی کے ٹاک شوز اورکانفرنسز میں بحث نہیں ہو سکتی کیونکہ ملک میں اسمبلیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیراعلیٰ سندھ سے درخواست کروں گی کہ سندھ کی تقسیم کے حوالے سے یہ آخری قرارداد ہونی چاہیے۔ اس کے بعد نہ کوئی سندھ کی تقسیم کے حوالے سے بات نہ کرے ۔سندھ کی ایک تھا ایک یے اور ایک رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے سرفراز شاہ نے کہا کہ ہم مل کر سندھ کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے ،جب تک سانسیں ہیں سندھ متحد رہے گا۔پیپلز پارٹی سندھ کے ساتھ کھڑی ہے۔

ایم کیو ایم کے عبداللہ شیخ نے کہا کہ یہ تحریک التوا منصوبے کے تحت پیش کی گئی ،سندھ میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، آپ لوگوں نے لوگوں کو ریلیوں کے لیئے اکسایا تاکہ کہ آپ کی کرپشن پر بات نہ کی جائے۔ پیپلز پارٹی کی نزہت پٹھان انشاء اللہ اس موضوع پر یہ آخری قراداد ثابت ہوگی ۔سندھ کسی کے لئے تجربہ گاہ نہیں بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی سندھ کے خلاف سازش ہوئی سندھ کے لوگ کھڑے ہوئے، پیپلز پارٹی کے سریندر ولاسائی نے کہا کہ چلوجناح پور کا قصہ تو جعلی تھا مگرایک جنرل نے کہا کہ ایم کیو ایم کو جنرل ضیاء نے بنایا تھا۔سندھ میں کوئی نیا صوبہ نہیں بنے گا۔

وزیر لائیو اسٹاک محمد علی ملکانی نے اپنی تقریر میں کہا کہ اس تحریک میں ثابت ہوگا کہ کون لوگ سندھ کے خلاف ہیں اور کس نے سندھ سے غداری کی۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام میں ترامیم ہو سکتی ہیں مگرمسائل کو سندھ کی تقسیم کے ساتھ نہ جوڑا جائے ۔ہم سندھ کے ساتھ پاکستان کے وفادار ہیں ۔جتنی محبت سندھ سے کرتے ہیں اتنی پاکستان سے کرتے ہیں۔

ایم کیو ایم کے رانا شوکت نے کہا کہ صدر آصف زرداری سے رات بھی محسن نقوی نے ملاقات کی ہے۔ ڈویژن یا ضلعی سطح پر اختیارات جنرل مشرف کے دور میں دیئے گئے تھے، سندھ تب بھی تقسیم نہیں ہوا تھا اب بھی تقسیم نہیں ہوگا ،جو بھی سندھ میں آئے وہ سب سندھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کہیں نہیں جا رہا ون یونٹ لگا سندھ موجود ہے۔ رانا شوکت کی تقریر کے دورن پیپلز پارٹی کے ممبر نادر مگسی کا احتجاج بھی کیا۔

ایم کیو ایم راشد خان نے کہا کہ یہاں سے کسی نے سندھ کی تقسیم بات نہیں کی مگر کچھ لوگ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے سندھ کارڈ استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ یا تو ڈبل گیم کر رہے ہیں۔ کہیں کمینٹمنٹ کرکے قوم کو بے وقوف بنا رہے ہیں ۔آپ سندھی اور اردو بولنے والوں کو لڑانا چاہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی یاسمین شاہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا ،آج یہاں سے آواز آ رہی ہے کہ سندھ کھپے ۔سندھ ہماری دل اور جان ہے، جب تک سندھو بہتا رہے گا سندھ رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے ضیا عباس شاہ نے کہا کہ سندھ کے باشعور عوام کبھی بھی سندھ کی تقسیم نہیں چاہیں گے ۔سندھ دھرتی کے ساتھ ہمارا عشق ہے۔ سندھ کی تقسیم کا باب اب ہمیشہ کے لیئے بند ہونا چاہئے۔

پیپلز پارٹی کے علی حسن ہنگورو نے کہا کہ سندھ دھرتی پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ پی پی کے فقیر شیر محمد بلالانی کا کہنا تھا کہ سندھ پاکستان سے پہلے یہاں پر موجود تھا۔ سندھ کبھی تقسیم نہیں ہوسکتا۔پیپلز پارٹی کی ملیحہ منظور نے کہا کہ کچھ لوگوں کوجب صوبوں کی بات پر شکست ہو رہی ہے تو یونٹس کی بات کررہے ہیں۔سندھ کو تقسیم کرکے پاکستان کو مضبوط نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ ایک تھا سندھ ایک ہے سندھ ایک رہے گا۔

پیپلز پارٹی کے اسفند یار کھرل نے کہا کہ قرارداد پاکستان میں واضح لکھا ہے جو ریاستیں ہوں گی وہ آزاد اور خود مختار ہوں گی ۔آئین کے اندر سندھ کی خود مختاری کی بات واضح انداز میں لکھی ہوئی ہے۔

ممتاز علی جکھرانی نے کہا کہ آج بلاول بھٹو کہتے ہیں "مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں"۔ یہ آپ کی بد انتظامی ہے کہ وفاقی اسپتال نہیں سنبھالے جا رہے۔ جو شخص 14 بچوں کا حساب نہیں دے سکتا وہ صوبے کی بات کر رہا ہے۔ تا قیامت سندھ اور پاکستان ایک رہیں گے۔

عروبا راشد نے کہا کہ میں اردو بولنے والی ہوں اور اس پر فخر ہے۔ سندھ میری دھرتی ہے۔ اردو میری زبان ہے اور سندھ میرا گھر ہے۔ اس وقت انتظامی یونٹس کی بات ہو رہی ہے لیکن ہمیں انتظامی یونٹس نہیں چاہئیں کیونکہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ میں اردو بولنے والی سندھی ہوں۔ سندھ ان تمام لوگوں کا گھر ہے جو سندھ میں رہتے ہیں۔ریحانہ لغاری نے کہا کہ اس تحریک التوا کے ذریعے اس سوچ کو دفن کرنا ہے جو پورے ملک کے خلاف ہے۔ سندھ شاہ لطیف اور عبداللہ شاہ غازی کی سرزمین ہے۔ جو سندھ کی تقسیم چاہتا ہے وہ پاکستان کا غدار ہے۔صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ سندھ میں ہر دور میں باہر سے لوگ آئے ہیں۔ ہم خود کو فخر سے سندھی سمجھتے ہیں۔ ہم سب مل کر سندھ کی تقسیم کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے تقسیم کی سازش کو ناکام بنا دیا ہے۔ سندھ ایک صوبہ نہیں سندھ ماں ہے۔ سندھ میری سانسوں میں بسنے والی محبت کی خوشبو ہے۔ سندھ کو باب الاسلام بھی کہا جاتا ہے۔ ہم سب سندھو کا پانی پیتے ہیں اور اجرک کے رنگ سندھ کی تاریخ کو بیان کرتے ہیں۔

سجیلا لغاری نے کہا کہ سندھ ان سب لوگوں کا ہے جو سندھ میں رہتے ہیں۔ سندھ میں عوام پیپلز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کے لیے قربانیاں دی ہیں اور پیپلز پارٹی کبھی بھی سندھ کی تقسیم قبول نہیں کرے گی۔رخسانہ شاہ نے کہا کہ اسپیکر صاحب کا تاریخی التوا موشن پر بات کرنے کا موقع دینے پر شکریہ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو کو تاریخی التوا موشن پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ سندھ ہزاروں سال کی تاریخ، ثقافت اور زبان کا نام ہے۔ کراچی سے کارونجھر تک اور کشمیر سے کیٹی بندر تک سندھ ہمارا ورثہ ہے۔ سندھ کی تاریخ، ثقافت اور زبان ہماری شناخت اور ورثہ ہیں۔خیر النساء مغل نے کہا کہ بات صرف تقسیم کی نہیں انتظامی یونٹس کی بھی نہیں۔ بات اس مخصوص ایجنڈے کی ہے جو سندھ دشمنی پر مشتمل ہے۔ سندھی قوم نے پاکستان بنایا تھا۔ کچھ وہ صوبے بھی تھے جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو رکنے نہیں دیا لیکن سندھ نے سب کو خوش آمدید کہا تھا۔ یہ ایجنڈا پاکستان کے خلاف ہے۔ ایسی قانون سازی کی جائے کہ آئندہ کوئی انتشار پھیلائے تو اسے غدار قرار دیا جائے۔

اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Load Next Story