تین ارب ڈالر کی غذائی برآمدات

پاکستان بڑی مقدار میں سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے ممالک اور افریقی اور دیگر ملکوں کو چاول فروخت کرتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آیندہ دو برس میں پاکستان کی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات بڑھا کر تین ارب ڈالر تک پہنچائی جائیں گی۔ اس مقصد کے لیے چاول، سرخ گوشت، پھل، جوس اور مرتکز مصنوعات، سبز چارہ اور پانی کے موثر استعمال کی زرعی ٹیکنالوجی کو ترجیحی شعبے قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ مالی سال سعودی عرب کے لیے پاکستانی برآمدات محض 682.56 ملین ڈالر تھیں جوکہ مالی سال 2024-25 میں 706.04 ملین ڈالر تھیں اس طرح برآمدات میں معمولی کمی نوٹ کی گئی تھی۔

اور اب تین ارب ڈالر ایک عدد نہیں ایک امتحان ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ دو برسوں میں غذائی برآمدات تین ارب ڈالر تک لے جائیں گے، حقیقت میں یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان ایک طرف بھاری مقدار میں سعودی عرب سے تیل خریدتا ہے اور اپنی معیشت کی گاڑی چلاتا ہے، دوسری طرف پاکستان سعودی عرب کو چاول، پھل، گوشت، سبزیاں اور دوسری غذائی مصنوعات فروخت کرتا ہے۔ اب جو زرعی معاہدہ ہوا ہے اس معاہدے کی بنیادی حقیقت ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان کے پاس زرعی زرخیز زمین ہے جس کا بڑا حصہ بنجر اور غیر استعمال ہے۔ سورج ہے، ہنرمند جدی پشتی تجربہ کار کسان ہے، بھاری بھرکم دودھ دینے والے جانور ہیں، مگر ان سب کو عالمی منڈی میں ان کی حقیقی قدر دلانے والا ہنر ابھی ادھورا ہے۔ پاکستان زرعی پیداوار کے ڈھیر لگانا جانتا ہے لیکن اس کی حقیقی قیمت اور وہ بھی ایسی قیمت جو کسان کو اس کے پسینے کا اجر دلا سکے ،اس کے پسینے کو ڈالر کی خوشبو میں بدل سکے ،وہ ہنر آزمانا ابھی نہیں سیکھا۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب نے بھکر میں پانی کے موثر استعمال پر مبنی آبپاشی پروگرام کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا خیرمقدم کیا ہے اور دوسرے مرحلے میں دلچسپی ظاہر کی، اس پروگرام کا مقصد چھوٹے کسانوں کو فائدہ پہنچانا بھی ہے۔ یہ نقطہ بظاہر معمولی ہے لیکن پاکستان کے زرعی مستقبل کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں پانی کی کمی کا بھی مسئلہ ہے اور پیداوار سے ڈالر کمانے کا راز اس میں ہے کہ کم پانی میں زیادہ پیداوار، کم زمین سے زیادہ آمدنی، فصل کو منڈی تک بروقت پہنچانا، مافیاز سے بچانا اور سب سے بڑھ کر فصل کو خام مال کے بجائے برانڈ بنا کر دنیا کو فروخت کرنا تاکہ ڈالر زیادہ کمایا جاسکے۔

پاکستان بڑی مقدار میں سعودی عرب مشرق وسطیٰ کے ممالک اور افریقی اور دیگر ملکوں کو چاول فروخت کرتا ہے۔ سعودی وفد نے آنے والے برسوں میں چاول کی باہمی تجارت مزید بڑھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ پاکستان کی یہ انتہائی اہم ترین اور دنیا بھر میں پسند کی جانے والی پراڈکٹ ہے، مگر عالمی منڈی میں چاول کی قیمت اس بنیاد پر ملتی ہے کہ چاول کس برانڈ کا ہے، اس کی کوالٹی کیا ہے، اس کی پیکنگ کیسی ہے، اس کی فوڈ سیفٹی کتنی مضبوط ہے اور صارف کو اس بارے میں کتنا اعتماد ہے۔ اب دنیا میں چاول صرف دانہ نہیں رہا ،ایک برانڈ بن گیا ہے اور پاکستان کو جلد ہی اسے اچھی طرح سیکھنا ہوگا۔

پاکستان سعودی عرب کو سالانہ تیس ہزار ٹن سے زائد سرخ گوشت برآمد کرتا ہے اور سعودی عرب نے دلچسپی ظاہر کی ہے کہ اس مقدار کو بتدریج دگنا کیا جائے اور یہاں پاکستان نے سرخ گوشت کے ذریعے اپنی محدود آمدنی کو بڑھانا ہے۔ بشرطیکہ پاکستانی مذبح خانے جدید ہوں، کولڈ چین مضبوط ہو، حلال سرٹیفکیشن عالمی معیار کا ہو، گوشت کی کٹنگ اور پیکیجنگ جدید ہو، برانڈ پاکستانی ہو اور آپس میں اس طرح کا اشتراک ہو کہ ریاض، جدہ، دمام اور دیگر شہروں میں براہ راست سپلائی چین قائم ہو تو ایک ہی جانور کی معاشی قدر کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان میں جانوروں کی پرورش کرنے والا کسان، اس گوشت کو مختلف مراحل سے گزارنے والا تاجر اور صنعتکار اور جہاں برآمد کنندہ اور درآمد کنندہ آپس میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے ہیں۔ اس طرح کسان کو پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ فائدہ پہنچتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 2025 میں سعودی عرب نے بیرون ملک سے 10 ملین سے زیادہ زندہ مویشی درآمد کیے اور یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کی زمین و پہاڑ اور سعودی عرب کی سرمایہ کاری ایک دوسرے سے ہاتھ ملا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس سرمایہ ہے، پاکستان کے پاس زمین ہے حتیٰ کہ بنجر زمین پر بھی جانور پالے جا سکتے ہیں اور بے آب و گیاہ پہاڑوں کو سرسبز بنا کر جانوروں کی چراہ گاہیں بنائی جا سکتی ہیں اور پھر ہمارے ان پہاڑوں میں بسنے والے جانور پالنے والے محنت کش ہنرمند جو چٹیل پہاڑوں پر بھی بھیڑ بکریاں چرا کر شام تک ان کو سیر کروا دیتے ہیں اور سعودی عرب کے پاس ایک بڑی صارف منڈی ہے لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ملک مل کر کسانوں چرواہوں کی مدد کے لیے ایک مشترکہ معاشی ماڈل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جس سے دولت کسان سے لے کر چرواہے کی جیب تک چلی جائے۔

مشترکہ اعلامیے میں پھلوں اور ان کے جوس کو بھی ترجیحی شعبوں میں شامل کیا گیا ہے، یہ ایک بہت اہم اشارہ ہے۔ پاکستان آم کی بڑی مقدار پیدا کرتا ہے۔ یہاں ایک بات کا دھیان کرنا ہوگا ، بہت سا آم ضایع بھی ہوتا ہے۔ درختوں کو بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں اور بعض اوقات منڈی تک پہنچنے اور صارف تک پہنچتے پہنچتے آم خراب بھی ہو جاتا ہے، اس کی قدر و قیمت گھٹ جاتی ہے۔ پاکستان بڑی مقدار میں موسم سرما میں کینو، موسمی پیدا کرتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی یہی مسائل ہیں جو آم کے ساتھ ہیں۔ امرود بھی بڑی مقدار میں پیدا ہوتا ہے جس میں جلد کیڑے بھی لگ جاتے ہیں۔

سیب، کھجور اور دیگر بہت سے پھل پیدا ہوتے ہیں مگر صرف پھل کی برآمد اور اس پھل سے بننے والی ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ وہی پھل اگر جوس بن جائے، خشک پھل بن جائے، اچار بن جائے، مربہ بن جائے، چٹنی بن جائے، خشک پھل بن جائے، پیک شدہ برانڈ بن جائے تو اس کی معاشی قدر کئی گنا بڑھ جائے گی۔ بشرطیکہ کسان کو، باغ والے کو، کسانوں کے پاس کام کرنے والے مزدوروں کو، باغ میں کام کرنے والے مالیوں کو، مزدوروں کو بھی اس کے مالی فوائد کو پہنچانا یقینی سے یقین تر بنایا جائے۔ سعودی عرب کی حکومت کا تو عزم ہے کہ زرعی برآمدات کو پاکستان 3 ارب ڈالر تک لے جائے۔ کیا پاکستانی حکومت کا عزم ہے کہ اس کا اصل فائدہ ان تک پہنچ جائے جو اس کے حقیقی حق دار ہیں۔ حکومت کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ محنت کش، کسان، مزدور، مالی، چرواہا یا جو بھی ابتدائی محنت میں شامل ہوں، ان سب کو ان کا حق مل جائے گا۔

Load Next Story