ہتھیاروں کی تحقیقات کیلئے اسرائیل کی امریکی یونیورسٹیوں کو بھاری فنڈنگ

فنڈنگ میں تحقیقی معاہدے، گرانٹس، ٹیوشن ادائیگیاں اور دیگر مالی معاونت شامل ہے

حل ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیل کی وزارتِ دفاع اور اسرائیلی دفاعی کمپنیوں سے منسلک کم از کم 15 ملین ڈالر کی فنڈنگ امریکی یونیورسٹیوں میں فوجی اور ہتھیاروں سے متعلق تحقیق کے لیے گئی ہے۔

حالیہ ایک تحقیق کے مطابق یہ رقوم 2004 سے 2025 تک کے ریکارڈز میں سامنے آئی ہیں۔ تحقیق میں کولمبیا، کارنیل، پرنسٹن، ہارورڈ، نارتھ ویسٹرن، جارجیا ٹیک، یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ، میری لینڈ اور UC برکلے سمیت متعدد جامعات کے روابط سامنے آئے۔

فنڈنگ میں تحقیقی معاہدے، گرانٹس، ٹیوشن ادائیگیاں اور دیگر مالی معاونت شامل ہے۔

تحقیق کے موضوعات میں نگرانی، خودکار پرواز، انسانی سرگرمیوں کی شناخت، ہدف شناسی، مقناطیسی سینسنگ اور میزائل/پروجیکٹائل کے اثرات کی پیش گوئی جیسے فوجی استعمال کے امکانات رکھنے والے شعبے شامل تھے۔

مثال کے طور پر یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کے ریکارڈ میں اسرائیلی وزارتِ دفاع سے منسلک ایک منصوبے کے لیے تقریباً 668,000 ڈالر درج ہیں، جبکہ پرنسٹن میں تقریباً 600,000 ڈالر کا ایک معاہدہ رپورٹ ہوا۔

دوسری جانب 15 ملین ڈالر مکمل اور حتمی رقم نہیں سمجھی جا رہی؛ تحقیقات کے مطابق کچھ فنڈنگ سرکاری ڈیٹا بیس میں ظاہر نہیں ہوئی یا مختلف ریکارڈز میں مختلف انداز سے درج ہوئی، اس لیے اصل رقم زیادہ ہو سکتی ہے۔

Load Next Story