مہنگائی کے اثرات طبی آلات اور سرجیکل سامان کی قیمتوں تک بھی پہنچ گئے
مہنگائی کے اثرات طبی آلات اور سرجیکل سامان کی قیمتوں تک بھی پہنچ گئے، سال 2026 کے آغاز کے مقابلے میں گزشتہ 8 ماہ کے دوران مختلف طبی آلات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
سرجیکل مارکیٹ کے تاجروں کے مطابق شپنگ اخراجات میں اضافے اور درآمدی لاگت بڑھنے کے باعث طبی آلات کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔
سرجیکل مارکیٹ کے صدر ناصر خان تنولی کے مطابق شپنگ کمپنیوں نے بھی اپنے ریٹس میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث درآمدی طبی سامان کی قیمتوں پر براہِ راست اثر پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کنٹینر پہلے تقریباً 1200 سے 1500 ڈالر میں بک ہوتا تھا، اب اس کی بکنگ تقریباً 3 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
تاجروں کے مطابق سال کے آغاز میں 4 ہزار روپے میں ملنے والی بی پی مشین اب 4 ہزار 800 روپے کی ہوگئی ہے، جبکہ شوگر چیک کرنے والی مشین کی قیمت 2 ہزار سے بڑھ کر 2400 روپے ہوگئی۔
اسی طرح نیبولائزر 3 ہزار سے بڑھ کر 3400 روپے، آکسیجن جنریٹر 65 ہزار سے بڑھ کر 74 ہزار روپے، جبکہ ای سی جی مشین ایک لاکھ سے بڑھ کر ایک لاکھ 15 ہزار روپے کی ہوگئی ہے۔
طبی سامان میں وہیل چیئر کی قیمت 12 ہزار سے بڑھ کر 13 ہزار روپے، واکر 3800 سے 4300 روپے اور میڈیکیٹڈ بیڈ کی قیمت 60 ہزار سے بڑھ کر 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ اسٹک کی قیمت بھی 1000 سے بڑھ کر 1300 روپے جبکہ 600 روپے والی اسٹک 800 روپے کی ہوگئی ہے۔
مساجر مشینوں کی قیمت میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ شوگر اسٹریپس کی قیمت 700 سے بڑھ کر 800 روپے ہوگئی تاہم کانوں کے معائنے کے آلات کی قیمت 2200 سے بڑھ کر 2500 روپے جبکہ 8 ہزار روپے والا آلہ اب 9500 روپے تک پہنچ گیا ہے۔
سرجیکل انسٹرومنٹس کی قیمتوں میں بھی تقریباً 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ کموڈ چیئر کی قیمت 7 ہزار سے بڑھ کر 8 ہزار روپے جبکہ 18 ہزار روپے والی کموڈ چیئر 19 ہزار 500 روپے کی ہوگئی۔
تاجروں کے مطابق الٹرا ساؤنڈ مشینوں کی قیمت میں بھی تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور 2 لاکھ روپے والی مشین اب تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
ناصر خان تنولی کا کہنا ہے کہ کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کا بوجھ تاجر کے ساتھ ساتھ عام شہری پر بھی پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق شہری تاجروں سے شکایت کرتے ہیں کہ قیمتیں من مانی طور پر بڑھائی جا رہی ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ تاجروں کے لیے بھی کاروبار کرنا مشکل ہوگیا ہے۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی نے روزمرہ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے، تاہم طبی آلات ایسی ضروریات ہیں جن کی خریداری مؤخر نہیں کی جا سکتی۔
ایک شہری نے بتایا کہ وہ بی پی مشین خریدنے کے لیے اس امید پر آئے تھے کہ مشین ایک یا دو ہزار روپے میں مل جائے گی، لیکن مارکیٹ میں کوئی مشین 4 ہزار روپے سے کم نہیں مل رہی۔
شہری کا کہنا تھا کہ دو وقت کا کھانا روکا جاسکتا ہے، لیکن صحت کے لیے ضروری طبی آلات کی خریداری نہیں روکی جا سکتی۔ مہنگائی نے عام آدمی کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ طبی آلات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا نوٹس لیا جائے اور درآمدی لاگت سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں۔